بلوچستان اور آزاد کشمیر
تعلیم، صحت اور تحفظ ہر شہری کے بنیادی حقوق ہیں۔ آئین پاکستان بھی ان تینوں چیزوں کے گرد ہی گھومتا ہے جبکہ ہر آنے والی حکومت اور سیاستدان انہی تینوں پر اپنی دکان چمکاتے ہیں۔ جو بنیادی سہولیات لاہور، کراچی اور پشاور کے لوگوں کو ملتی ہیں وہی سہولیات حب، گوادر، مکران، تربت، نیلم ویلی کے باسیوں کو بھی ملنی چاہیے۔ جتنے محب وطن لاہور اور کراچی کے شہری ہیں اتنے ہی محب وطن کوئٹہ اور کیرن کے شہری ہیں۔ 2020 میں میرا بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا۔
کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت میں بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہیں۔ حب، کیچ، گوادر، مکران تو بڑی دور کی بات ہیں۔ پورے بلوچستان میں کوئی ایک بھی جدید ہسپتال نہیں۔ آج بھی بلوچستان سے مریضوں کو کراچی علاج کے لئے آنا پڑتا ہے۔ بلوچستان میں 7300 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ہیں جبکہ پورے بلوچستان میں 549 بنیادی مرکز صحت ہیں جن میں 111 فعال ہیں۔ بلوچستان کے 22 ہزار گاؤں ہیں جن میں 12 ہزار گاؤں میں ایک بھی سکول نہیں ہے۔
4000 پرائمری سکولز ایسے بھی ہیں جن کی کوئی عمارت ہی نہیں ہے۔ 20 لاکھ بچے سکولز ہی نہیں جاتے اس کی بڑی وجہ غربت ہے۔ بلوچستان میں بچیوں کی تعلیم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ آدھے سے زیادہ سکولوں میں پینے کا پانی اور بجلی تک میسر نہیں ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ آپ کو جو بھی سہولیات نظر آئیں گے صرف مظفرآباد میں ملیں گئیں۔ مظفر آباد دارالحکومت ہے یہاں برانڈ کی سہولیات تو میسر ہیں لیکن جیسے ہی آپ مظفر آباد کی حدود سے باہر نکل جائیں آپ کا استقبال ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کریں گی۔
نیلم ویلی میں جائیں تو شاردہ تک روڈ ٹھیک ہے جبکہ کیل سے تاؤ بٹ جہاں سے جموں کشمیر کی حدود شروع ہو جاتی ہے کوئی باقاعدہ سڑک نہیں ہے۔ 2022 میں میرا آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا۔ کیل سے تاؤ بٹ تک فور بائی فور گاڑی پر جانے کا راستہ کم از کم چھ گھنٹوں کا ہے لیکن میں نے دیکھا چھوٹی چھوٹی بچیاں اور بچے تاؤ بٹ سے کیل صرف سکول پڑھنے آتی ہیں جبکہ مرد و خواتین کیل میں روزگار کے سلسلے میں یا دیگر گھر کی اشیاء خریدنے آتے ہیں۔
ہمیں گاڑی والے نے بتایا کہ تاؤ بٹ سے جو بچے بچیاں کیل پڑھنے آتے ہیں وہ اگلے دن واپس گھر جاتے ہیں۔ اگر گاڑی میں دشوار گزار راستہ چھ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے تو یقینی طور پر پیدل یہ دس سے بارہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہو گا۔ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے بڑے مسائل میں آج بھی سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں کا ہے۔ بلوچستان اور کشمیر پاکستان کے لئے سونے چڑیا ہیں۔ کشمیر پانی کی دولت سے مالامال ہے جبکہ قیمتی ترین دنیا کے درخت اور سرسبز پہاڑ ہیں۔
بلوچستان میں سونا، چاندی، تیل، گیس، سمندر جیسے قدرتی وسائل ہیں اس کے باوجود بھی دونوں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ گزشتہ دنوں حق دد تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن سے میری لاہور میں ملاقات ہوئی۔ مولانا نے بتایا مجھے جب عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا گیا تو جج صاحب نے پوچھا آپ کا جرم کیا ہے؟ میں نے کہا میں اپنے لوگوں کے لئے پینے کا پانی مانگتا ہوں۔ بلوچستان کو پورا پاکستان سونے کی چڑیا کہتا ہے۔ ریکوڈک کے نام سے پورا پاکستان واقف ہے یہاں سونے اور چاندی کے ذخائر ہیں۔
بلوچستان سے سی پیک شروع ہوتا ہے۔ ایٹمی دھماکے بھی بلوچستان میں کیے گئے۔ بلوچستان کے پاس دنیا کا طویل ترین ساڑھے ہزار کلو میٹر سمندر کا ساحل ہے۔ پورے بلوچستان میں ایک بھی اچھا ہسپتال اور یونیورسٹی نہیں ہے۔ پینے کا پانی تک میسر نہیں ہے۔ بلوچوں کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے گزارش کرتے ہیں نادرا کو کہیں ہمارے شناختی کارڈ میں محب وطن کا خانہ بھی شامل کر لیں ہم اس کی الگ فیس دینے کو تیار ہیں۔
آج بھی سینکڑوں بچے لاپتہ ہیں جب ان بچوں کی مائیں عدالت جاتی ہیں تو ججز کو کہتی ہیں ہمیں ہمارے بچے واپس کر دیں ہم آپ کا ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ بلوچوں کے پاکستانی ہونے پر شک نہ کیا جائے اور نہ ہمیں تیسرے درجے کا شہری سمجھا جائے جو حقوق لاہور کے لوگوں کو ملتے وہ بلوچستان کے لوگوں کو بھی ملنے چاہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے ہم کہتے ہیں میری ماں اور بہن کو عزت دو ۔ چیک پوسٹوں پر ہماری ماں بہن کو گالی مت دی جائے ان کو عزت دی جائے۔
بلوچستان میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن بولتے بولتے رک گئے ان کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔ آپ بھی اپنے ایمان سے بتائیں کیا جو سہولیات لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے لوگوں کو مل رہی ہیں کیا یہ حق بلوچستان اور کشمیر کے لوگوں کا نہیں۔ بلوچستان کو ہر سال وفاقی حکومت اربوں روپے کا بجٹ دیتی ہے اس کے باوجود بھی وہاں کے لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں مل رہی۔ وفاقی حکومت کو چاہیے مولانا ہدایت الرحمن کی باتیں پر غور کرے۔
بلوچستان حکومت کو جو بھی بجٹ دیا ان سے اس کا حساب لیا جائے۔ بلوچستان میں مری، مینگل، بگٹی، جام، جمالی، رند، بزنجو ہی 75 سالوں سے حکومتیں کرتے آرہے ہیں کبھی لاہور، کراچی یشاور سے وہاں حکومت کرنے نہیں گیا۔ بلوچوں کو چاہیے سب سے پہلے اپنے سیاستدانوں کا احتساب کریں اس کا بہترین آپشن ان کے پاس ووٹ کی صورت میں ہے۔ آئندہ الیکشن میں روایتی وڈیروں اور جاگیرداروں کو ووٹ مت دیں۔


