کیا پرچم کے سبز رنگ اور ہلال کی مذہبی بنیاد ہے؟ (2)


پہلی قسط پڑھنے کے لئے ذیل کے لنک پر کلک کیجئے

سبز رنگ کے مقابلہ چاند یا چاند ستارہ کو زیادہ بڑی علامت کہہ سکتے ہیں۔ سبز رنگ تو کچھ ممالک کے پرچم تک محدود ہے۔ اس کے برعکس نشان ہلال (یا پورا چاند یا چاند ستارہ) بہت سے مسلم اکثریت والے ممالک کے پرچم کا حصہ ہے۔ ویسے تو دنیا کی مختلف قوموں میں چاند کو معبود یا کم از کم علامت کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ہندوستان، افریقہ، یونانی علم الاصنام وغیرہ میں چاند سے منسوب دیوی دیوتاؤں کا تصور ہے اور زمانۂ قدیم سے معابد میں اس کی تجسیم ہوتی رہی ہے۔ صدیوں سے چاند مسلم ثقافت کا بھی حصہ ہے۔ قمری تقویم اور چاند دیکھ کر اپنی عید کرنا، نشان ہلال کے ساتھ تہنیتی پیغامات ارسال کرنا، قومی اعلام اور سکہ ہائے نقود پر چاند کی علامت ہونا، مساجد و مقابر اور قومی عمارتوں پر چاند کی علامت نصب ہونا، یہ سب اسی کے مظاہر ہیں۔ حتی کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مسجد حرم اور مسجد نبوی کی میناروں پر بھی چاند کی علامت تعمیر کا حصہ ہے۔

چونکہ مختلف ثقافتوں میں چاند کی کسی نہ کسی شکل میں عبادت ہوتی رہی ہے، بعض مستشرقین اور عیسائی مبلغین نے یہ کہنا شروع کیا کہ اسلام کی بنیاد خدائے واحد کی پرستش نہیں بلکہ چاند کی پرستش ہے۔ اسلام مشرکین عرب کے عقائد کی ارتقاء ہے اور مسلمانوں کے نبی نے مشرکین ہی کی عبادات و علامات کو اسلامیایا ہے۔ وہ کہتے ہیں اللہ نام ہے چاند سے منسوب ایک معبود کا جس کی عبادت قریش پہلے سے کرتے تھے۔ جنوبی عرب میں چاند سے منسوب ایک دیوتا کا نام المقہ ملتا ہے۔ اس کے لئے الہ کا لفظ بھی آیا ہے۔ اللہ اسی الہ کا معرفہ ہے۔

ایک صاحب نے تو اس موضوع پر دو جلدوں میں مستقل ایک کتاب لکھ دی ہے moon۔ o۔ theism جو عقیدۂ توحید یعنی monotheism سے صوتی مماثلت رکھتا ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ لفظ اللہ ال الہ سے بنا ہے اور الہ چاند دیوتا کا نام تھا۔ اس حد تک کہا گیا ہے کہ اللہ کی تانیث اللاة ہے جو سورج سے منسوب دیوی تھی۔ چاند (اللھ) مذکر اور سورج (اللاة) مونث۔ کچھ نے لات، منات اور عزہ کو خدا کی بیٹیاں ہونا بتایا ہے، جس کی بہر حال عربوں میں روایت تھی۔ بیٹیاں ہونے کے لئے مستشرقین نے یونانی علم الاصنام کی طرز پر کہانیاں گڑھ لیں کہ اللہ چاند دیوتا ہے اور معاذ اللہ اس کی شادی کسی سورج سے منسوب دیوی سے ہوئی۔ نقل کفر کفر نباشد۔

چونکہ عرب بت پرست تھے اور چاند کی عبادت ہر قوم میں ہوتی ہی رہی ہے تو آج ہماری مسجدوں پر چاند کی جو علامت ہوتی ہے اس کو چاند کی عبادت سے جوڑ دینا اور قدیم عرب میں اس کی مثالیں دے دینا آسان لگا۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں میں چاند کی عبادت کی کوئی خاص روایت نہ تھی۔ اور پھر قرآن خود کہتا ہے لا تسجدو للشمس و لا للقمر واسجدو للہ الذی خلقھن۔

جہاں تک الہ سے اللہ کے اشتقاق کا تعلق ہے تو یہ قیاس بعض عرب علمائے لغت نے بھی کیا ہے۔ لیکن اس طالب علم کا خیال اس کے بر عکس ہے۔ اللہ سے ال الہ بھی ممکن ہے۔ لغویات میں اس کو اشتقاق معکوس کہہ سکتے ہیں۔ الکسندریہ (Alexandria) سے الاسکندریہ بھی اس کی مثال ہے۔ انگریزی میں بیک فارمیشن کی کئی مثالیں ہیں۔ ویسے تو ٹیچ سے ٹیچر، کلکٹ سے کلکٹر معمول ہے لیکن ایڈیٹر سے ایڈٹ، ٹیلی وژن سے ٹیلی وائز بیک فارمیشن ہے۔

ان کہانیوں کی بنیاد صرف اسلام دشمنی ہی نہیں بلکہ ان کی جہالت بھی ہے۔ در اصل بہت سے مستشرقین علمی ہیضہ کے شکار رہے ہیں۔ تھوڑی سی عربی سیکھ کر عربی کی قدیم کتابوں میں انہیں قواعد کی غلطی نظر آنے لگتی ہے۔ لیکن گوروں کا علمی رعب، ان کی خود اعتمادی، کام کرنے کا اسلوب و انداز اور چونکہ اور کسی نے کام نہیں کیا تھا تو جو ان لوگوں نے کہا فوراً سکۂ رائج الوقت ہوا۔ مستند ہے ان کا فرمایا ہوا۔ مخطوطات پڑھنے، ترجمہ کرنے، اور نتائج اخذ کرنے میں جابجا غلطیاں ہوئیں لیکن تب تک اور کسی نے کام ہی نہیں کیا تھا۔

کسی نے بابر کے قول کو ملٹن کے شیطان عظیم کی تقریر سے ملا دیا تو محترمہ بیورج صاحب نے بابر کو ہمایوں کے بستر کے چکر لگوا دیے۔ تحریر انگریزی میں، تحقیق گوروں کی تو فوراً کرنسی حاصل ہو گئی اور ہم آج تک مدارس میں بچوں کو یہ قصہ پڑھاتے ہیں۔ یہی حال اللات کا ہے۔ ایک تھے آرتھر جیفری جو تھے آسٹریلیا کے، پڑھاتے تھے مصر میں اور اسلام اور قرآن پر اپنی کتابیں شائع کیں بڑودا، ہندوستان کے مہاراجا گائکواڑ کے مالی تعاون سے۔

جیفری جن کو حافظ صفوان صاحب بڑے پائے کا محقق گردانتے ہیں فرماتے ہیں اللات اللہ کی تانیث ہے۔ جیفری نے صوتی مماثلت اور آخر حرف ت دیکھا تو اسے تائے تانیث سمجھ لیا۔ جب کہ در حقیقت اس کا لفظ اللہ سے سرے سے کوئی لغوی رشتہ ہی نہیں۔ اس کا مادہ لت ہے جس کی معنی آتے ہیں نم کرنا، ملائم کرنا۔ طائف میں ثقفیوں کا ایک شخص جو کو مکھن میں ڈال کر تیار کرتا اور مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک پتھر پر بیٹھ جاتا کہ گزرنے والے زائرین کعبہ میں تقسیم کرے۔ یہ شخص اللات کے نام سے مشہور ہو گیا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد عمرو بن لحی نے کہا کہ اس کی روح نے دیوی کی شکل لے لی ہے اور اس پتھر میں حلول کر گئی ہے۔ اس کی تعظیم ہونے لگی۔ پھر اس کو تراش کر دیوی کی شکل دی گئی اور خانہ کعبہ میں اللات کے مجسمے کے طور پر نصب کر دیا گیا۔

بعض مستشرقین نے یہ بھی کہا ہے کہ ہبل چاند سے منسوب تھا اور اللہ اسی ہبل کا نام ہے۔ ایک تو ہبل سب سے بڑا خدا تھا۔ قرآن میں لات و منات و عزہ کا نام لے کر کہا گیا کہ انھیں اللہ کی طرف سے کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ جب کہ ہبل صاحب کے خلاف کچھ نہیں کہا گیا۔ قرآن میں دوسرے بہت سے باطل خداؤں کا بھی ذکر نہیں ہے لیکن ہبل تو بڑا خدا تھا، جب لات و منات کی مذمت کی گئی تو ہبل کی بھی ہونی چاہیے تھی۔ اس سے ان قابل مستشرقین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہبل ہی اللہ ہے اور اس کی علامت چاند اب بھی مسلمانوں کے معابد کا حصہ ہے۔ یہ لوگ سیاق و سباق سے یہ سمجھنے سے قاصر یا انکاری رہے کہ ان آیات میں خدا کی بیٹیوں کے تصور کی مذمت ہے جب کہ ہبل صاحب مذکر تھے اس لئے یہاں ان کے ذکر کا محل نہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ چاند کا کوئی تعلق اسلامی عقائد کے مطابق خدا کے تصور سے کبھی نہیں رہا۔ نبی کریم ﷺ، خلفاء راشدین مہدئین، بنو امیہ و بنو عباس کے دور میں چاند کو اسلامی علامت کی طرح کبھی نہیں استعمال کیا گیا۔ مذہبی حیثیت تو آج بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کا کوئی بھی فرقہ چاند کی تقدس کا قائل نہیں ہے۔

مسلمانوں میں سب سے پہلے عثمانی ترکوں نے اپنے پرچم اور عمارتوں پر چاند کی تصویر بنانی شروع کی۔ اور ان سے ہی یہ علامت دولت عثمانیہ کی وسیع و عریض حدود میں رائج ہو گئی۔ بازنطینیوں نے قسطنطنیہ کو کسی چاند دیوی سے منسوب کیا تھا اور اس کی شبیہ عمارتوں اور سکوں پر بنائی جاتی تھی لیکن عیسائی ہونے کے بعد شہر کو کنواری مریم سلام اللہ علیہا سے منسوب کیا گیا اور معابد کے مناروں پر چاند کی جگہ صلیب نے لے لی۔ بعض کہتے ہیں کہ عثمانیوں نے یہ علامت بازنطینیوں سے لی۔

ویسے تو چاند خود ترک قبائل میں ایک علامت کے طور پہ رائج تھا۔ بلکہ یونان و روم، قدیم مصر، عراق و ایران وغیرہ میں بھی سکوں، عمارتوں، حکومتی نشانوں پر چاند کی تصویر مل جاتی ہے۔ لیکن عثمانی وقائع نگاروں کے مطابق دولت عثمانیہ کے بانی عثمان علی نے ایک خواب دیکھا تھا کہ شیخ ادب علی کے سینہ سے چاند طلوع ہوا اور جب دھیرے دھیرے پورا ہو گیا تو اس کے سینے میں اتر آیا۔ اور پھر اس کے جسم سے ایک درخت نکلا جس کی شاخوں سے دنیا ڈھک گئی۔

ادب علی کی بیٹی بالا خاتون عثمان علی کے نکاح میں آئی۔ عثمان علی نے یہ علامت اپنے خواب سے لی اور اپنے پرچم اور حکومتی مراکز پر نصب کیا۔ عثمانی مفتوحہ علاقوں میں قلعوں وغیرہ پر صلیب کی جگہ ہلال کی شبیہ بنا دیتے۔ گرجوں کو عمارت میں تبدیلی کیے بغیر مسجد بنا لیتے تھے اور ان کے لئے دوسرا گرجا بنوا دیتے۔ بظاہر کوئی فرق نظر نہ آتا۔ فرق ظاہر کرنے کے لئے یہاں بھی مسیحی صلیب کے مقابل نشان ہلال کا استعمال کیا جانے لگا۔

علامتی طور پر عثمانیوں اور بازنطینیوں کے مجادلے ہلال و صلیب کے درمیان جنگیں سمجھی جانے لگیں۔ جب محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو وہاں بھی یہی کیا۔ اسطنبول میں آیا صوفیا کے علاوہ بھی کئی پرانے گرجے ہیں جنہیں مشرف بہ اسلام کرایا گیا ہے۔ اس کے بعد پورے عثمانی سلطنت میں بلکہ اس کے باہر بھی مساجد و خوانق کی عمارتوں پر چاند نظر آنے لگا۔ ہلال سے مسلمانوں کی نمائندگی ہونے لگی۔ ہندوستان میں بطور مسلم علامت اس کی آمد بیسویں صدی میں ہوئی۔ پہلے مغلوں کی تعمیر کردہ مساجد و مقابر پر کہیں چاند طلوع ہوتا نظر نہیں آتا۔ لیکن جب مسلم لیگ اور پھر تحریک خلافت نے ستارہ و ہلال کی ترویج کی اور علی برادران نے اسے اپنی کلاہ میں ٹانک کر پورے ہندوستان کا دورہ کیا تو یہاں بھی چاند کے اسلامیانے کا عمل مکمل ہو گیا۔

لیکن مغربی محققین کا یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ چاند کی کوئی مذہبی حیثیت ہو گئی۔ مسجدوں پر نصب ہونے کے باوجود اس کی حیثیت محض مسلم ثقافت اور فن تعمیر کے ایک جزو کی طرح ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے گنبد و مینار۔ بغیر گنبد و مینار اور محراب کے بھی مسجد بن سکتی ہے۔ آج صرف اس لئے بنائی جاتی ہے کہ روایتی مسلم فن تعمیر کا حصہ ہے لیکن اگر کوئی بغیر چاند کے بلکہ بغیر گنبد و مینار کے مسجد تعمیر کرا دے تو شاید ہی کسی کو اعتراض ہو۔

سبز پرچم اور نشان ہلال کو مسلمانوں کی شناخت سمجھ لینا یا بنا لینا درست نہیں۔ آج جب مسلمانوں کی کئی حکومتیں ہیں اور کوئی مرکزی خلافت بحیثیت مسلمان کے نہیں ہے یہ سمجھنا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ پرچم کسی ملک کی تاریخ و ثقافت کے مطابق کسی بھی رنگ کا ہو وہ اسی ملک اور حکومت کی علامت ہے۔ بس اس غلط فہمی کا ازالہ ہونا چاہیے کہ ہرا جھنڈا مسلمانوں کا ہے۔ جیسے زعفرانی ہنود کا۔ اور کم از کم مذہبی عمارات پر چاند نصب کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ مغلوں نے شیر و خورشید کا اور شاہان اودھ نے دو مچھلیوں کا نشان اپنایا جو آج تک صوبۂ یوپی کا نشان ہے۔ اگر یہ حکومتیں اتنی بڑی ہوتیں کہ ان کو مرکزیت حاصل ہو جاتی تو کیا ہم شیر اور مچھلی کو اسلام کی علامت بنا کر مساجد پر نصب کر دیتے۔

معذرت خواہ ہوں اگر یہ طویل مضمون باعث درد سر ہوا۔ ہم بھی خواہ مخواہ مسلمانوں کے پرچموں کو لے کر بیٹھ گئے جن کا کمال رو بہ زوال ہے۔

شکستوں کے ڈیرے منڈیروں پہ ہیں
ہماری فصیلوں پہ پرچم کہاں

Facebook Comments HS