بلوچستان میں صحافت کی حالت زار

میں خلیل شاکر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہوں۔ شعبہ صحافت کا اک ادنی طالب علم ہوں۔ گزشتہ سات سال سے سیکھنے کی مراحل سے گزر رہا ہوں انشاءاللہ زندگی کے آخری لمحے تک اس شعبے کا طالب علم ہی رہوں گا۔
بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ ہے، مگر یہاں نصف آبادی صحافی بنی ہے فیسبک پیج بنایا تو صحافی کہلانے لگا۔ کسی کے ساتھ دو بول ریکارڈ کیے اگلا دن صاحب صحافی ہو گا۔ بلوچستان میں گویا شعبہ صحافت بانجھ بالکل نہیں ہر ملک، خان، سردار، نواب نے اپنی تعریفوں کے لئے ایک عدد عاقل، بالغ صحافی ہائر کر رکھا ہے اگر ان سے پوچھا جائے! صحافت کی لغوی یا اصطلاحی معنی کیا ہے؟ چراغوں سے تو روشنی غائب ہی ہوگی جناب نے کنفرم لڑنا بھی ہے یہاں جس نے پیج بنایا مائک اٹھایا ان سے پھر سوال کرنا قطعی طور پر حرام ہے، سوال کرنا ان کا کام ہے۔
پہلے شادیوں، ولیموں میں جو پرائیویٹ ویڈیو میکر ہائر کیے جاتے تھے اب ان کا کام تقریباً ختم ہو چکا کیوں کہ یہ کام اب موبائل والے صحافی سنبھال چکے۔ نواب صاحب فاتحہ خوانی کر رہا ہے کیمرہ مین کے بجائے صحافی صاحب تصویر بھی کھینچ رہا بیان بھی لگا رہا، اور مرحوم کے ورثا پر فاتحہ خوانی کا احسان بھی جتلا رہا۔ سردار صاحب فلاں جناب کے ساتھ ملاقات کر رہا ہے صحافی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں صحافت کے نام پر جو خیانت ہو رہا ہے کوئی بھی اس پر نہیں بول رہا۔
بلوچستان مسائلستان بن چکا، چوریاں عام ہو چکی، دن دھاڑے لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، لوڈشیڈنگ گھنٹوں سے نکل کر دنوں میں تبدیل ہو چکا کئی کئی دن بجلی نہیں ہوتی، زراعت تباہ ہو چکی۔ کاروبار تباہی کی دھانے کھڑا ہے حکومت غافل ہے غافل کیا حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ کسی ایک صحافی نے اس پر کبھی رپورٹنگ کی کوشش ہی نہیں کی صحافی چاہیے مستند ہو یا راتوں رات بنا ہو۔
پریس کلب کوئٹہ میں رجسٹرڈ صحافیوں کی تعداد تقریباً 127 ہے یہ ایک سو ستائیس مختلف چینلز اور قومی جرائد کے نمائندے ہیں سب کی کہیں نا کہیں روزی روٹی لگی ہے مجال ہے کسی بھی مسئلے پر آواز اٹھانے کی سعی کی ہو اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسی ایشو سامنے آئے کہ سب سے پہلے خبر دینے کی روایت ہم برقرار رکھے۔
بلوچستان کی صحافت پیسوں کی پیرول پر ہے حقیقی صحافت ارشاد مستوئی اور دیگر شہدائے صحافت کے ساتھ رخصت ہو چکی باقی حلوہ کے مجنون بیٹھے ہیں۔
بلوچستان کے مسائل جانے اور بلوچستانی عوام کم از کم ہم نے خان، ملک، نواب کی چاکری کو ہی صحافت سمجھتے ہیں وہی کریں گے۔
کوئی ہم سے عوامی مسائل اجاگر کرنے کی توقع نہ رکھیں بلوچستان کی صحافی برادری کی جانب سے یہ رسمی اعلان باقی ہے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر جلد یا بدیر اس کا اعلان بھی ہو گا۔

