تحریک انصاف کا صدارتی اور جماعت اسلامی کا متناسب نمائندگی کا نظام

اگر پاکستان میں جماعت اسلامی کا متناسب نمائندگی یا تحریک انصاف کا صدارتی نظام رائج ہوتو فردوس عاشق اعوان تاحیات وزیر رہے گی۔ آپ سوچیں گے کہ ان نظاموں سے فردوس عاشق اعوان کا کیا تعلق؟ فردوس عاشق اعوان پرویزمشرف دور سے اب تک مستقل اقتدار میں رہیں، عمران خان نے ان کی بجائے کسی دوسرے امیدوار کو ٹکٹ دینا چاہا مگر ان کے سیاسی ساتھی کے مطابق جنرل فیض کی خواہش پر فردوس عاشق اعوان کو ٹکٹ دیا گیا۔ فردوس عاشق اعوان انتخاب ہار گئیں مگر انہیں مشیر بنا کر وزارت کے اختیارات سے مستفیض کروایا گیا۔
جماعت اسلامی ایک عرصہ سے آواز بلند کر رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر حکومت بننی چاہیے۔ سادہ معنی یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حلقوں کا انتخابی نظام ختم ہو جائے، انتخابات میں کوئی چہرہ یا فرد بطور رکن اسمبلی کھڑا نہ ہو، ووٹ پارٹی کے نشان کو ملیں، یعنی پارٹی کو ووٹ ڈالے جائیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے چیئرمین تحریک انصاف نے صدارتی نظام کا بیانیہ کھڑا کیا۔ صدارتی نظام کے پیچھے ان کے پیش نظر وہی انتخابی سٹرکچر ہے جو جماعت اسلامی کا مجوزہ ہے۔ دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ پارٹی کے نشان کو ووٹ پڑیں بالواسطہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عوام پارٹی منشور، پارٹی چیئرمین اور پارٹی نشان ووٹ ڈالیں گے۔ ہر جماعت کو حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے نشستیں تفویض کردی جائیں گی۔ پارٹی چیئرمین اپنی جماعت میں سے منتخب افراد کو ان نشستوں پر رکن اسمبلی بنا دے گا۔
اس نظام کا پہلا نقصان یہ ہو گا کہ رکن اسمبلی بنانے کا اختیار عوام سے چھن کر پارٹی سربراہ کے پاس چلا جائے گا، پارٹی سربراہ جسے چاہے گا اپنی مرضی سے رکن بنا دے گا۔ پاکستان میں اس انتخابی ڈھانچہ سے ڈکٹیٹرشپ اور اقربا پروری مضبوط ہوگی۔ متناسب نمائندگی کے نظام کے حامیوں کا موقف ہے کہ ارکان اسمبلی کا انتخاب انٹرا پارٹی الیکشن پر منحصر ہو گا تاکہ جمہوری طریقہ سے کسی رکن جماعت کو رکن اسمبلی نامزد کیا جائے۔
جہاں تک انٹرا پارٹی سسٹم کی بات ہے پاکستان میں وہ ناقص ہے، گروہ بندیاں اور دھڑے ہیں، پارٹیز میں جمہوریت نہیں صرف کاغذات کی حد تک کارروائی ڈالی جاتی ہے تاکہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں ظاہر کیا جا سکے۔ غیر مسلم اور خواتین کے لیے موجودہ انتخابی ڈھانچہ میں مخصوص نشستیں موجود ہیں۔ ان نشستوں کو پر کرنے کے لیے اقربا پروری کی مثالیں موجود ہیں اگر تمام تر انحصار پارٹی چیئرمین پر کر دیا جائے تو جمہوری مقاصد کس طرح پامال ہوں گے اس کا اندازہ خود کر لیں۔
صدارتی یا متناسب نمائندگی میں اسمبلی کی رکنیت کا انحصار بلاواسطہ حلقہ جاتی انتخاب سے ختم کر کے انٹرا پارٹی جمہوریت پر کر دیا گیا ہے۔ یعنی ایک نظام کی شفافیت کا انحصار دوسرے نظام کی شفافیت پر ہو گا۔ موجودہ نظام میں صرف انتخابی عمل کو شفاف بنانے پر محنت پڑتی ہے لیکن صدارتی نظام میں انتخابی عمل کے ساتھ ساتھ انٹرا پارٹی الیکشن کی شفافیت بھی یقینی بنانا ہوگی۔ اہل دانش اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایک نظام کو دوسرے پر منحصر کرنے سے کام اور پیچیدگیاں بڑھ جائیں گی یقیناً بدعنوانی میں بھی اضافہ ہو گا۔
وہ ملک جہاں خاتون اول کے توہمات کی بنیاد پر تقریب حلف برداری میں شرکت سے روک دیا جائے، عسکری کمانداروں کے کہنے پر ہارنے والوں کو مشیر بنا کر وزیر کے اختیارات سے مستفیض کیا جائے، جہاں پارٹی سربراہان ہی جماعتوں کے عملاً مالک ہوں، اس ملک میں انٹرا پارٹی سسٹم کیسے جمہوری ہو سکتا ہے؟
اگر ان دو جماعتوں کی خواہش کے مطابق متناسب نمائندگی کا نظام لایا جائے تو پھر غیر سیاسی قوتیں مضبوط ہوں گی۔ فاشسٹ تصورات کے حامل رہنما پارلیمنٹ میں کلیدی جگہ بنائیں گے، سندھ کے قوم پرست لیڈر بھی اسمبلی میں ہوں گے، وڈیروں نوابوں اور قبائلی سرداروں کی اپنی ایک دنیا ہے جو انہیں ووٹ دے گا، پیران عظام بھی پارلیمنٹ میں جگہ بنا سکیں گے کیونکہ ان کے ماننے والے اشارہ ابرو پر جان نچھاور کرتے ہیں۔ تحریک لبیک ہی کو دیکھیے اگر متناسب نمائندگی ہوتی ان کی نشستیں کتنی ہوتیں، جماعت الدعوہ کی سیاسی ونگ تحریک اللہ اکبر کے پاس بھی پانچ دس نشستیں ہوتیں، خود جماعت اسلامی کے پاس عبدالاکبر چترالی اکلوتے رکن اسمبلی نہ ہوتے۔ خان صاحب بھی موجودہ نظام کی نسبت اس نظام میں مزید مضبوط ہوتے کیونکہ خواتین کا ایک مخصوص طبقہ دیگر ووٹرز کے ساتھ ان کو پسند کرتا ہے۔
جو لیڈر سمجھتے ہوں کہ وہ اپنے خیالات تصورات نظریات سے انسانی اذہان پر حکومت کر سکتے ہیں، وہ ایسے نظام کی خواہش کرتے ہیں کیونکہ یہ نظام انہیں اقتدار میں لانے کے لیے آسان سیڑھی ہے۔ اس کی نسبت پاکستان کا موجودہ انتخابی نظام بہترین ہے، حلقہ جاتی انتخاب کی بنیاد پر لوگ اپنا نمائندہ اسمبلی میں بھیجتے ہیں البتہ موجودہ انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے۔

