سردار لطیف کھوسہ کے گھر پر فائرنگ


پاکستان میں ہر دور میں انتخابات سے قبل وفا نہ ہونے والے وعدے اور عوام کو بیوقوف بنانے والے بلند بانگ دعوے معمول کی بات ہے لہٰذا یہ پرانا سکرپٹ اب مزید نہیں چلے گا۔ ہم نے حکومت کو ریاست سے مطابقت دے دی ہے، عوام نے حکومت کو ریاست مان لیا جو درست نہیں۔ عدلیہ اس سے اوپر بیٹھ گئی اور مقتدر حلقے اس سے بھی اوپر چلے گئے ہیں۔ ہم نے ریاست کو کباڑ خانے میں پھینک دیا، پاکستان کے دو تہائی شہری ریاست کی سہولیات سے محروم ہیں۔

موجودہ حکومت سے میرا سوال ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا سو موٹو کا اختیار اب کہاں گیا، اگر انصاف کی فراہمی کی نیت سے سوموٹو لیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ کیا اس سے پہلے کسی حکمران نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا، تندوتیز بیانات نہیں دیے۔ شومئی قسمت عدالت عظمیٰ پر حملے میں ملوث حکمران جناح ہاؤس پر حملے کے ملزمان کا محاسبہ کر رہے ہیں۔ کیا ماضی میں ان نادانوں کی مہم جوئی کے نتیجہ میں ہماری پاک فوج کمزور ہوئی، ہرگز نہیں ہوئی۔

پاکستان کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آرمی مزید مضبوط ہو مگر پاکستان میں یہ کھیل تماشا دوسرا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حکمرانوں پر تعمیری تنقید اور انہیں آئینہ دکھانے کی پاداش میں باضمیر صحافیوں کے گھروں پر فائرنگ، زبان بندی کی دھمکیاں، یہاں تک کہ ان کے عزیز و اقارب کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔ اس سب کے بعد بھی جب قلم خاموش نہیں ہوئے، زبانیں گنگ نہیں ہوئیں تو انہوں نے اپنی توپوں کا رخ قانون دانوں کی طرف موڑ دیا کیونکہ ارباب اقتدار و اختیار جانتے ہیں یہاں قانون مقدم نہیں۔ وکلاء برادری کی حکومت کے خلاف ممکنہ احتجاجی تحریک بلڈوز کرنے کے لئے انہیں تقسیم کر دیا گیا۔ پنجاب کے سابق گورنر اور عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین قانون دان سردار لطیف کھوسہ کی رہائشگاہ پر حالیہ فائرنگ اور انہیں پیپلز پارٹی سے نکالنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

زندگی، موت، رزق اور عزت و ذلت بیشک اللہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذاء دوسروں کی عزت کے ساتھ کھیلنا بند کر دیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے طاقتور افراد پر حملہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ کرنے والے لوگ قانون کی دھجیاں بھی اڑا سکتے ہیں۔ جس طرح میں نے اوپر لکھا کہ چند دن پہلے سردار لطیف کھوسہ کے گھر پر شدید فائرنگ کی گئی اور ان کے صاحبزادے پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ کہاں ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے؟

کیا ایک سینئر ترین سیاستدان اور قانون دان کا گھر جناح ہاؤس کی طرح مقدم نہیں۔ کیا ہم سب صحافیوں کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کا خیال رکھنا اور اس کی حفاظت یقینی بنانا ہمارے ریاستی اداروں کا فرض منصبی نہیں۔ جس طرح لاہور کے کورکمانڈر ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور جی ایچ کیو کے باہر جلاؤ گھیراؤ ہرگز قابل برداشت نہیں اس طرح عام شہریوں کی چادر اور چاردیواری کو روندنا بھی ناقابل معافی اقدام ہے۔

کیا سانحہ 9 مئی کے نیچے ہم نے تمام آئین دفن کر دینا ہیں، کیا انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیا کروڑوں شہریوں بنیادی حقوق کو سلب کر لیا گیا ہے۔ پاکستان جنگل کے قانون کا متحمل نہیں ہے۔ کلمہ حق بلند کرنے پر آج سردار لطیف کھوسہ کا پیپلز پارٹی کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی اور نظریاتی رشتہ ختم کر دیا گیا، ہو سکتا ہے ممتاز قانون دان چوہدری اعتزازاحسن کو بھی حق گوئی کی سزا کے طور پر پیپلز پارٹی سے نکال باہر کیا جائے، میں سمجھتی ہوں سردار لطیف کھوسہ اور چوہدری اعتزازاحسن دونوں پیپلز پارٹی کی ضرورت تھے انہیں سیاست میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ہرگز پیپلز پارٹی کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کے قدآور اور با کردار سیاستدانوں کا پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری یا شریک چیئرمین آصف زرداری کے پیچھے کھڑے ہونا اچھا نہیں لگتا۔

مبینہ طور پر رجیم چینج کے ایک سال کے دوران حق سچ اور آئین و قانون کی بات کرنے پر یہاں کسی بھی شخص کو ارشد شریف کی طرح موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے یا عمران ریاض خان کی طرح غائب جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سینئر سیاستدان اور قانون دان سردار لطیف کھوسہ کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ یقیناً وکلاء برادری کے لئے ایک پیغام ہے۔ شرپسند عناصر نے تمام کارکنان کو تو ڈرا دھمکا کر ایک طرف بیٹھا دیا اب باری ہے قانون کے علمبردار ایڈووکیٹ حضرات کی۔

پاکستان میں ایسے بہت سے نام نہاد گلو بٹ دندناتے پھرتے ہیں جو نہ تو آئین کی پاسداری کرتے ہیں اور ان کے نزدیک انسانیت کی کوئی وقعت ہے۔ میں سوچتی ہوں فوجی ڈکٹیٹر پرویزمشرف اپنے آمرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود وکلاء کو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہا تو فوجی آمر ضیاءالحق کی باقیات بھی قانون دانوں کو زندانوں سے نہیں ڈرا سکتی۔ پاکستان میں آئین کی سپرمیسی اور قانون کی حاکمیت کے لئے قانون دان عنقریب میدان سیاست میں ضرور اتریں گے اور ان کی بھرپور مزاحمت سے اشرافیہ کی آمریت کا پہاڑ ریت کی دیوار کی مانند ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ جمہوریت پسند، قانون پسند اور آزادی پسند چاہے جس جماعت میں بھی ہوں ان کی ترجیحات میں جمہوریت ہمیشہ سرفہرست ہوتی ہے اور جمہوریت کی بقاء کی جدوجہد وہ اپنے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں اور ان کے دم سے صبح آزادی کی امید قائم ہے۔

Facebook Comments HS