قلعہ دراوڑ، چولستان کی تاریخ اور ہمارا سفر

دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قلعے پاکستان کے ڈویژن بہاولپور سرزمین چولستان میں ہیں ویسے تو پاکستان میں سینکڑوں قلعے ہیں لیکن چولستان میں قلعوں کی تعداد 29 ہے،
قلعہ دراوڑ کا نام تو میں نے ایک عرصہ سے سن رکھا تھا لیکن بہاولپور جانے کے باوجود کبھی قلعہ دراوڑ جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا چونکہ مجھے اپنی تاریخ سے کافی دلچسپی ہے تو میری پوری کوشش رہتی ہے تاریخی مقامات کی نا صرف سیر کی جائے بلکہ تاریخ کو بھی ضرور پڑھا جائے۔ اس دفعہ بہاولپور جاتے ہوئے میرا قلعہ دراوڑ جانے کا اتفاق ہوا خیر دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم قلعہ دراوڑ جا پہنچے۔ اس سفر نامے کو تحریر کرتے ہوئے آپ کو قلعہ دراوڑ کی تاریخ سے بھی روشناس کروانے کی پوری کوشش کروں گا
قلعہ دراوڑ کے ساتھ ہی ایک قدیم زمانے کی پتھروں کی مسجد بنائی گئی ہے جو کہ انتہائی خوبصورت ہے اس کی دیواریں بہت موٹی اور مضبوط ہیں اس مسجد میں مختلف طرز کے پتھر لگائے گئے ہیں۔ اس مسجد کی دلچسپ بات یہ ہے کے اس کے صحن کے درمیان ایک سفید پتھر لگایا گیا ہے جو تیز دھوپ میں بھی ٹھنڈا رہتا ہے۔ قلعہ دراوڑ ہزاروں سال پرانا ہے۔ اس کو دیو راول نے تعمیر کرایا تھا اور بعد میں بہاولپور کے نواب خان اول نواب آف بہاولپور نے قبضہ کر لیا اور اس قلعے کی تعمیر مکمل کرائی۔ یہ قلعہ بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے ساتھ واقع ہے۔
اس قلعہ کے دروازے پر لوہے کے کیل لگائے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے پرانے زمانے میں دشمن ہاتھیوں کے ساتھ حملہ کرتے تھے اور ہاتھی دروازے کو توڑتا تھا ہاتھی سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ کیل لگائے گئے ہیں۔
اس قلعے کے اندر زندان بنائے گئے ہیں جو کہ پرانے زمانے میں قیدی رکھے جاتے تھے، اس قلعے کے درمیان میں ایک میدان بنایا گیا ہے جہاں سپاہیوں کی پریڈ کرائی جاتی تھی۔ اس میدان میں ایک توپ بھی رکھی گئی ہے۔ اس قلعے میں بہت سی سرنگیں بنائی گئی ہیں جس سے سپاہی خفیہ راستے استعمال کرتے تھے جبکہ ایک سرنگ بھارت میں جا نکلتی تھی لیکن اب ٹوٹ چکی ہے۔
اس قلعے کی تیس میٹر اونچی اور مضبوط دیواریں بنائی گئی ہیں۔ اس قلعے میں بہت سارے کمرے بنائے گئے ہیں اور اس میں چھپنے کی جگہ بنائی گئی تھی جب دشمن حملہ کرتا تو حسب ضرورت سپاہی چھپتے۔ اس قلعے کی اندر پھانسی گھاٹ بھی بنائے گئے تھے جہاں مجرمان کو پھانسی دی جاتی تھی۔
اس قلعے میں بہت اونچی بارہ دری بنائی گئی ہے جو کہ اس بات کو واضح کرتی ہے دور سے دشمن کے آنے کا پتہ لگایا جاتا تھا۔ یہ تاریخی مقام ہمارا ورثہ ہے حکومت پاکستان سے درخواست ہے اس کی مرمت کرا کے تفریح گاہ کو پرموٹ کیا جائے۔
بہاولپور ڈویژن میں موجود 6.65 ملین ایکڑ یا 13000 مربع میل پر محیط لق و دق صحرا ہے جو کہ 3 اضلاع بہاولپور، رحیم یار خان اور بہاولنگر پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ چولستان کہلاتا ہے۔ مقامی زبان میں اسے روہی کہا جاتا ہے جہاں صدیوں سے روہیلے آباد ہیں۔
چولستان میں زمانہ قدیم میں دریائے ہاکڑہ بہتا تھا جو اب اک گمشدہ دریا ہے۔ اس کی گزرگاہ کے خشک آثار آج بھی صحرائے چولستان کے وسیع سینے پر بل کھا رہے ہیں۔ اسی دریا کی افادیت اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے صحرائے چولستان میں بے شمار حفاظتی و رہائشی قلعے تعمیر کیے گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں دریا سوکھا وہاں قلعے بھی ویران اور کھنڈر ہوتے چلے گئے۔ ان قلعوں میں سب سے سب سے بڑا قلعہ دراوڑ اپنی پوری ہیبت اور عظمت کے ساتھ آج بھی ایستادہ ہے۔ گو کہ یہ قلعہ بھی امتداد زمانہ کے ہاتھوں بری طرح شکست و ریخت کا شکار ہے مگر آج بھی دیکھنے والوں کو اپنی عظمت کی گواہی دیتا ہے۔
یہ قلعہ احمد پور شرقیہ سے 32 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ خانپور کے قصبے فیروزہ سے، ڈیرہ نواب سے اور احمد پور شرقیہ سے دراوڑ کو راستہ جاتا ہے۔
دراوڑ ایک تاریخی ورثہ یے اور خاندان عباسیہ کا پہلا پایہ تخت ہے۔ یہاں موجود قلعہ اور شاہی قبرستان و تاریخی مسجد کے علاوہ گمشدہ تہذیب کے خزانے دفن ہیں۔
ججہ اور دیوا سندھ دو بھائی راجہ تھے۔ دیوا سندھ کو دیوا راول بھی کہتے ہیں۔ چولستان کے وسط میں بہنے والے درائے ہاکڑہ کے بیڈ میں موجود یہ قلعہ 834 عیسوی میں دیواراول نے تعمیر کرایا تھا جو بعد میں ڈیراہ راول اور پھر دراوڑ مشہور ہو گیا۔
قلعہ کے چاروں جانب 10 فٹ چوڑی مضبوط فصیل ہے۔ فصیل میں چالیس وسیع گھیراؤ والے برج ہیں جو ابتدا میں بیس پختہ اور بیس خام تھے۔ بعد میں خام برجوں کو بھی پختہ کر لیا گیا۔ برجوں کی بلندی 90 فٹ ہے اور ان کا جھکاؤ اندر کی جانب ہے۔
قلعہ کا رقبہ 672 مربع فٹ ہے اور اس کی کرسی سطح زمین سے 60 فٹ بلند ہے۔ قلعہ کا مرکزی دروازہ جو آہنی سلاخ دار گیٹ ہے، مشرقی سمت ہے۔ قلعہ دراوڑ میں مرکزی دروازے کا سب سے وسیع برج ککوہا کہلاتا ہے۔ Tod اس کو Kaikye کہتا ہے۔ ککوہا اس برج کے معمار کا نام تھا۔ اسی معمار نے قلعہ بھٹنیر بھی تعمیر کیا تھا۔ سر آرل سٹائن کے مطابق قلعہ دراوڑ، قلعہ بھٹنیر سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس برج میں ہوا اور روشنی کا معقول انتظام ہے۔ ہوا کے لئے دس روشندان برج میں رکھے گئے۔ اوپری منزل کو جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں۔ آج بھی اس برج میں قدیم کلاک نصب ہے جس پر وقت رک گیا ہے۔ اس برج سے ایک سرنگ نما راستہ قلعہ میں داخل ہوتا ہے۔ اس سرنگ کے اوپر فوجیوں کی بیرکیں ہیں جو اب کھنڈر بن چکی ہیں۔
قلعہ کو موجودہ شکل نوابین ریاست بہاولپور نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں دی۔
بہاولپور جو کہ پنجاب صوبہ کا ایک ڈویژن ہے ماضی میں عباسی حکمرانوں کی مضبوط و مستحکم ریاست تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ون یونٹ کے تحت پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی سب سے پہلی اور بڑی ریاست تھی۔ عباسی حکمرانوں نے چولستان میں بیکانیری اور جیسلمیری راجوں کے قلعے فتح کر لئے اور خود بھی بے شمار جھوٹے بڑے قلعے تعمیر کرائے۔




