میں ابو جی کے جانے سے پہلے خود کو بہت بہادر ہمت والا ہر مصیبت سے جنگ کرنے والا کبھی ہار نہ ماننے والوں میں خود کو شمار کرتا تھا، مگر ابو جی کے جانے کے بعد ہر چھوٹی سی تکلیف بھی پہاڑ جیسی لگتی ہے اور ہر خوشی پھیکی سی۔ اللہ نے مجھے اتنے مضبوط اعصاب کے ساتھ پیدا کیا تھا، میں زندگی میں کبھی رویا نہیں تھا لیکن نا جانے کیوں اب ہر خوشی غمی میں آنکھیں اتنی جلدی نم ہو جاتی ہیں کہ آنکھیں خشک ہونے کے بعد کچھ سکون سا میسر آنے لگتا ہے، لیکن وہ سکون کہاں جو کبھی ابو جی کے گلے لگ کر ملتا تھا۔ آنکھیں خشک ہونے کے بعد پتا نہیں کیوں اندر سے یقین آ جاتا ہے، جیسے ہم ابو جی کو سنا رہے ہوں اور ابو جی سے ملاقات ہو گئی ہو اور ابو جی صرف جواب نہیں دے رہے۔
زمانے کی ہزار شاباشی بھی ہمارا اتنا حوصلہ نہیں بڑھا سکتی، جتنی ابو جی کی ایک تھپکی کے ساتھ ”میں ہوں نا“ سے ہمارا سینہ چوڑا ہو جاتا اور حوصلہ آسمان کو چھونے لگتا تھا۔ ہمیشہ سے سن اور پڑھ رکھا تھا کہ ماں جنت اور باپ چھپر (سایہ) ہوتے ہیں، مگر میں اب سمجھتا ہوں باپ صرف سایہ ہی نہیں بلکہ باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے جس میں بیلنس نہ ہوتے ہوئے اولاد کے لئے بیش قیمت خزانے موجود ہوتے ہیں۔
Read more