قصور سنیتا مارشل کا بھی ہے


میرے چچا نے اپنا سفید جوڑا پہنا اور اوپر سے کالی واسکٹ، پگڑی باندھ کر، روئی میں عطر لگا کر کان میں اڑس لی تو میری دادی نے آخری بار تنبیہ کی۔ ”بیٹا۔ میں پھر کہہ رہی ہوں، مت جاؤ۔ کم ظرف مرتبے میں کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو جائے، اس سے کوئی نہ کوئی نیچ حرکت ضرور سرزد ہو جاتی ہے۔ اس کی محفل اور مجلس سے جتنا بھی ہو سکے، اجتناب کرو۔“ مگر نئے منتخب ہونے والے ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کی دعوت میں چچا مہمان خاص تھے۔ ان پر یہ نصیحت کیسے اثر کرتی۔ ان سنی کر کے چلے گئے۔ لیکن جب واپس لوٹے، چہرے پر غصے کی سرخی اور سفید کپڑوں پر سالن کی پیلاہٹ صاف بتا رہی تھی کہ جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، میزبان نے وہی نیچ حرکت کی ہے۔ پتہ چلا کہ چیئرمین صاحب نے کامیابی کے گھمنڈ اور شوخی میں چچا پر جگت ماری اور چچا نے سالن کی رکابی اٹھا کر اپنے میزبان کو دے ماری۔ دونوں جانب سے رکابیوں اور ڈونگوں کا سلسلہ چل پڑا ہو۔ جس نے بعد میں کئی برسوں تک بہت سارے لوگوں کے سر پھاڑے۔ پھر کہیں جاکر مصالحت ہوئی۔ میری دادی ہر بار سرد آہ بھر کر یہی فقرہ دہراتی رہتی تھی۔ ”میزبان اور مہمان کے انتخاب میں بہت احتیاط برتنی چاہیے۔“

حدیث مبارک کا مفہوم ہے۔ کہ جاہل آدمی سے سلام دعا سے زیادہ کوئی گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔ یعنی جو بندہ جاہل آدمی سے سلام دعا سے زیادہ گفتگو بحث و تمیز یا صلاح و مشورہ وغیرہ کرے گا وہ ایک طرح سے نافرمانی کا مرتکب ہو گا۔

اکثر ناخواندہ رکشے والے اور بس ڈرائیور بھی اپنے پیچھے آنے والے پڑھے لکھوں کے لئے اپنی گاڑیوں کی پشت پر یہ نصیحت آموز فقرہ لکھواتے ہیں۔ ”اپنی عزت اپنے ہاتھ“ ۔

سنیتا مارشل ایک ذہین، بردبار، سلیقہ مند اور متحمل مزاج خاتون ہیں۔ ان کی متانت اور ذہانت ان کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کے کام میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کی ایک جھلک گزشتہ دنوں ان کے ایک انٹرویو میں بھی نظر آئی۔ ان کی ذہانت اور سنجیدگی تھی جو ان کی پوشاک کو سالن کے ان پیلے دھبوں سے بچا گئی۔ جو میرے چچا کی جذباتیت لگوا کے آئی تھی۔ ورنہ ان کا انٹرویو لینے والے میزبان نے کسر کوئی نہیں چھوڑی تھی۔ یقیناً ان غیر مناسب سوالات کے جوابات قابل تعریف ہیں، مگر۔ میزبان کے انتخاب میں سنیتا مارشل سے بھی غلطی سرزد ہوئی ہے۔

میرے دوست جو میرے مزاج سے واقف ہیں۔ اس بات پر حیران ہیں کہ میں اس ”Issue“ کو اتنا ”سیریس“ کیوں لے رہا ہوں؟ تو ان کی خدمت میں، میں ان کو ایک چھوٹا سا واقعہ اور سنا دیتا ہوں۔

ہمارے عزیز دوست حسام قاضی، جو ہم سے بچھڑ چکے ہیں۔ وجاہت اور معصومیت کا سحر انگیز امتزاج تھے۔ اوپر سے ان کی غضب کی اداکاری۔ ایک دنیا آج بھی ان کی گرویدہ ہے۔ ایک ڈرامے میں انہوں نے ولن کا کردار ادا کیا تو ایک شخص اپنے گاؤں سے بس میں بیٹھ کر ٹی وی اسٹیشن پہنچا اور حسام کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ بولا، بیٹا تم غنڈے بدمعاشوں والی ایکٹنگ مت کیا کرو۔ تم سے پیار کرنے والے بدمعاش اور غنڈہ گردی کو بھی اچھی چیز سمجھ کر فیشن بنا لیں گے۔

فنکار۔ لوگوں کی زندگی پر کتنے اثر انداز ہوتے ہیں۔ کچھ فنکاروں کو اس کا ادراک نہیں ہوتا۔ اکثر اس جذباتی وابستگی سے لاپروا نظر آتے ہیں جو ناظرین کو ان سے ہوتی ہے۔ ڈرامے میں کردار اور موضوع کا انتخاب ہو یا مارننگ شوز اور گیم شوز میں شرکت۔ انٹرویوز میں گفتگو۔ سوشل میڈیا پر Posts۔ کمنٹس اور تصاویر کا شیئر کرنا۔ اگر آپ غیر محتاط ہوتے ہیں تو اپنے چاہنے والوں کی دل شکنی کا باعث بنتے ہیں۔ یا پھر بے سروپا تقلید کا باعث۔ آپ ان کے لئے رول ماڈل ہیں۔ یہ انہی چاہنے والوں کی جذباتی وابستگی کے نمبرز ہیں جنہیں آپ بڑے فخر کے ساتھ TRPs کی صورت میں شیئر کرتے ہیں۔ فنکار لاکھوں کروڑوں احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ تبھی کمپنیاں اپنی پروڈکٹس بیچنے کے لئے منہ مانگے پیسوں پر ان سے اشتہارات بنواتی ہیں۔

فنکار پبلک فگر ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ کندھے اچکا کر ”so what“ کہہ کر خود کو بری الذمہ نہیں کر سکتے۔ ان کا ایک ایک لفظ اثر رکھتا ہے۔ ایک ایک ادا کی تقلید ہوتی ہے۔ ڈرامے، فلمیں، شوز اور انٹرویوز۔ باقاعدہ بیانیے ہوتے ہیں۔ یہ ڈگڈگی پر بندر کا تماشا نہیں۔ کہ تماشا دکھایا۔ پیسے سمیٹے اور فارغ۔ اگر ایسا ہے تو یہ رویہ تہذیبی بانجھ پنے کو جنم دے گا۔ جو معاشرے تہذیبی طور پر بانجھ ہوتے ہیں، وہ سماجی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتے ہیں۔ اور پھر سیاسی اور معاشی بدحالی کا شکار۔ میرے نزدیک کسی قوم کی سیاسی اور معاشی بدحالی کی وجہ۔ سماجی اور اخلاقی پستی ہوتی ہے

چینل مین اسٹریم میڈیا کا ہو یا سوشل میڈیا کا۔ اکثریت کے ہاتھ میں ڈگڈگی ہوتی ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ ان کے ہاتھوں بندر بنتے ہیں یا بطور ایک فنکار اپنے مرتبے، حیثیت اور مقام کا خیال رکھتے ہیں۔

بہرحال۔ میں سنیتا مارشل کو پھر شاباشی دیتا ہوں کہ انہوں نے مذہب کے نازک معاملے کو بہت خوبی سے سنبھالا۔ ورنہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ’مٹھو‘ ٹائیں ٹائیں کرنے کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ دنیا ہمارے خلاف پہلے سے ہی ان مٹھووں کی وجہ سے forced conversion کے بھونپو لیے کھڑی ہے۔

سنیتا کا کاندھا تھپتھپانے والوں کو بھی شاباش۔ حبس کے ماحول میں مذہبی ہم آہنگی او ر باہمی احترام کا ایک خوشگوار جھونکا سب کو مبارک ہو۔

Facebook Comments HS