موسمیاتی تبدیلی میں ہمارا کردار
میرا تعلق خوبصورت اور پر فضا علاقے ایبٹ آباد سے ہے، یہاں گرمی میں موسم نارمل اور خوش گوار ہوتا ہے لہذا گرمی کی سخت ترین شدت کو دیکھتے ہوئے میں بھی چھٹیاں گزارنے پشاور کا گرم علاقہ چھوڑ کر کچھ وقت کے لئے یہاں آ جاتا ہوں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے حالات مختلف ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، بظاہر ٹھنڈے دکھنے والے علاقے اب گرمی کی لپیٹ میں آنا شروع ہو چکے ہیں۔ دن کے وقت گھروں سے نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، یہاں بھی درجہ حرارت اڑتیس ڈگری تک جانے لگا ہے۔
انسان تو انسان جانور بھی تپتی دھوپ میں کھڑے نہیں ہو سکتے، سوچتا ہوں ایبٹ آباد کے موسم کو آخر ہوا کیا، یہاں تو اس قدر قہر نہیں ہوتا تھا۔ پھر خیال آتا ہے ہم نے کوئی کمی بھی تو نہیں چھوڑی اپنی دھرتی کو زہر آلود کرنے میں۔ ایک طرف درختوں کی کٹائی کو مشکل معاشی حالات سے نکلنے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے تو دوسری طرف دیہاتی علاقوں میں کھانا پکانے اور سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے لئے بھی مقامی لکڑی اور کوئلہ جلایا جاتا ہے۔
یہ ضرورت بھی جنگل کاٹ کر ہی پوری ہوتی ہے۔ یہ دونوں کام اپنی اپنی جگہ منفی اثرات ڈال رہے ہیں تو دوسری طرف اس جلتی آگ میں ٹمبر مافیا بھی اپنا حصہ ڈالنے میں مصروف ہے۔ دو ہزار تیرہ کے بعد صوبائی حکومت نے بلین ٹری پروجیکٹ کے ذریعہ ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا، ایک ارب کا تو پتہ نہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ خالی پہاڑیاں وسیع جنگلات میں تبدیل ہو گئیں، فارسٹ گارڈ کی صورت میں جنگلات کو محافظ اور مقامی لوگوں کو روزگار میسر ہوا۔ کسی حد تک قدرتی نکھار واپس لانے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن پھر یہ منصوبہ بھی حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہو گیا۔ اور اس نیک کام کو بھی فل سٹاپ لگ گیا۔
اب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ممالک کی فہرست میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔ تیز دھوپ اور گرمی کی وجہ سے انسانی صحت پر برے اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار اور غذائیت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سمندر میں بننے والے طوفان بھی گلوبل وارمنگ کا ہی ثمر ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ٹراپیکل سائیکلون سمندر کے درجہ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی کے باعث وجود میں آتے ہیں۔ ان سائیکلون کی وجہ سے ساحلی پٹی پر واقع علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں افراد کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ گلیشیر پگھلنے اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد اور ہزاروں ایکڑ زمین پر فصلیں سیلاب سے متاثر ہوتی ہیں۔ ان سب مسائل کی صرف ایک ہی وجہ ہے گلوبل وارمنگ۔
گلوبل وارمنگ گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اور انسانی اعمال اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ درختوں کا جلنا اور بے دریغ کٹائی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بن کہ ماحول کو اور بھی خراب کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں تو دوسری جانب تیزی سے انڈسٹریلزیشن جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے۔
ان تمام مسائل، وسائل ذمے داریوں، اور کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی اداروں اور حکومتوں کا مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا لازم و ملزوم ہو چکا ہے۔ نہ صرف حکومتی بلکہ ذاتی سطح پر بھی گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس عہد کی ضرورت ہے کہ نہ صرف درختوں کی کٹائی روکی جائے گی بلکہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ان کی دیکھ بھال بھی کی جائے گی۔ تا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی یہ زمین رہنے کے قابل ہو۔

