کپتان کی پہلی غلطی
سانحہ 9 مئی کے بعد ہر کوئی یہ کہتا سنائی دیا کہ کپتان نے یہ پہلی بہت بڑی غلطی کردی لیکن عمران خان کی گرفتاری کی بعد آنے والا ردعمل تابوت میں آخری کھیل ثابت ہوا۔ کپتان کی سیاسی زندگی کا ہر دن غلطیوں سے عبارت ہے، بلکہ کپتان کا سیاست میں آنا بھی ایک بہت بڑی غلطی ہی رہا۔ پھر اسے اس شخص کی قسمت کا کھیل کہیے کہ کوئی غلطی غلطی نہ رہی بلکہ کپتان کی ان سونگ ثابت کرنے کے لئے کارخانہ قدرت میں بے پناہ فیض دستیاب رہا۔
کپتان نے سیاست کا آغاز کیوں کیا؟ اس یاداشت کو تازہ کرنا بہت ضروری ہے۔ بے نظیر حکومت کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر چلنے والے شوکت خانم کے اشتہارات اور میراتھن جس سے شوکت خانم اسپتال کو کروڑوں کا چندہ ملتا تھا اسے صرف اس لئے بند کیا کہ عمران نے اپنے کینسر اسپتال کا افتتاح وقت کی وزیر اعظم اور ان کے شوہر سے نہیں بلکہ ایک کینسر مریضہ سے کروایا اور خان بے مروت بھی اس حد تک کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو افتتاحی تقریب میں بلانا تک مناسب نہ سمجھا۔ حالانکہ عمران خان کی کتاب کے مطابق آصف علی زرداری نے خود اسپتال کے افتتاح میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پیغام بھی بھجوایا تھا۔
اس اشتہاری بندش اور کھینچا تانی کو تقریباً ایک سال گزر چکا تھا اور اشتہارات رکنے کا غم و غصہ ابھی کم نہ ہوا تھا کہ اپریل 1996 کی ایک صبح شوکت خانم اسپتال لاہور میں دھماکہ ہو گیا اور کینسر کے مرض کا شکار دو بچے زندگی اور موت کی کشمکش سے آزاد ہو چکے تھے، تقریباً 40 کے قریب لوگ زخمی بھی ہوئے۔ یہ کسی بھی اسپتال پر ہونے والا پاکستانی تاریخ کا پہلا حملہ تھا۔
بم دھماکے کے روز وزیر اعظم بھٹو نے فوراً اسپتال کا دورہ کیا لیکن عمران خان نے وزیر اعظم سے ملنے اور ان سے تعزیت و ہمدردی وصول کرنے کے بجائے جناح اسپتال کا رخ کیا جہاں اس واقعے کے زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ ہاں البتہ اپوزیشن لیڈر نواز شریف کی آمد پر عمران خان نے ان کا استقبال کیا بلکہ اس وقت کی جاری سیاسی رسہ کشی میں اپنا وزن ”تبدیلی“ کے ساتھ ڈالا جس کے دعویدار اس وقت نواز شریف تھے۔ عمران خان نے بے نظیر بھٹو کی اسپتال آمد کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے ان سے اشتہارات کی مد میں ہونے والے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا تھا مگر یہ ہو نہ سکا!
دھماکے کو ابھی گیارہ روز ہی گزرے تھی کہ 25 اپریل 1996 کو ورلڈ کپ فاتح کپتان عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا اور ابتدائی منشور جاری کیا۔ اس منشور میں غربت و بیروزگاری کا خاتمہ، توڑ پھوڑ اور منفی سیاست سے توبہ اور کٹھ پتلی وزیر اعظم نہ بننے کا اعلان کیا۔ خان نے ایک دعوی اور بھی کیا تھا کہ وہ روایتی لوٹیرے چور ڈاکو سیاستدانوں کو کبھی تحریک انصاف میں شامل نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم بھٹو نے اس نئی سیاسی جماعت کے قیام پر دلچسپ تبصرہ کیا جو 2011 کے عمرانی ارتقا کی صورت صحیح ثابت ہوا، بے نظیر نے 1996 میں یہ کہا تھا کہ عمران سیاست میں تو آ گئے ہیں لیکن امید ہے وہ بال ٹیمپرنگ نہیں کریں گے۔
عمران خان نے 27 سال پہلے اپنی سیاست کا آغاز بغض، کینہ اور نفرت سے کیا۔ اس رویے سے عمران خان کی پوری زندگی عبارت ہے۔ عمران خان نے جیسے بے نظیر بھٹو کے لئے دروازے بند کیے ویسے ہی ساری زندگی لوگوں پر دروازے بند کیے رکھے، کسی نے بات کرنا چاہی تو عمران خان نے انکار کیا۔ عمران اقتدار میں آئے تو اپنی مقبولیت کے زعم میں اپوزیشن کی میثاق معیشت کی تجویز کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ عمران حکومت نے پارلیمنٹ کو بے توقیر کرتے ہوئے ہر معاملہ آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا۔
عمران احمد خان نیازی آف میانوالی نے اپنے بنیادی منشور کی ہر حد تک نفی کی۔ عمران خان کی غلطیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک حصہ صغیرہ غلطیوں پر مبنی ہے اور دوسرا کبیرہ، لیکن ان غلطیوں کی طویل فہرست کو ایک تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں سو اگلی تحریر عمران خان کی ان غلطیوں پر محیط ہوگی جنہوں نے عمران حکومت کو پنکچر کیا اور گاڑی ڈی ٹریک ہو گئی۔
عمران خان سے جب جب پوچھا گیا کہ کہ آپ کو سیاست میں کیوں آنا پڑا تو جواب یہی دیا کہ میں دو خاندانوں کی کرپشن اور اشرافیہ کی لوٹ مار کے خاتمے کے لئے سیاست میں آیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران سیاست میں شوکت خانم اسپتال کی چندہ مہم میں اپنی بے پناہ مقبولیت (بوجہ ورلڈ کپ فتح) کی وجہ سے آئے۔ عمران خان کو سیاست کی تنگ گلی میں صرف اپنی انا کی تسکین کی خاطر آنا تھا، عمران خان نے خود کو صحیح اور باقیوں کو غلط ثابت کرنا تھا۔
مگر وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ عمران اس کھیل میں اپنی اننگز پوری کرنے کے بعد اب جب پویلین جا رہے ہیں تو ان کے ہاتھ کرپشن سے داغ دار ہیں، ان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام ہے، انہیں امپائر کو ساتھ ملانے کے الزام کا سامنا ہے، انہیں اس کھیل میں مخالفوں کے خلاف اپنائے گئے رویے پر ہٹلر ثانی کے القابات سے نوازا جا رہا ہے، عمران خود کو آؤٹ قرار دینے والے جس امپائر پر آج جانبداری کا الزام لگا رہے ہیں اسے ماضی قریب میں نیوٹرل کہا کرتے تھے۔
عمران نے جس نواز شریف کے خلاف اس قوم کو بھڑکایا اسی نواز شریف کے پہلو میں کھڑے ہو کر 1996 میں ”تبدیلی“ کی حمایت کی اور بے نظیر حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ آج عمران خان کو وقت میں میسر ہے اور تنہائی بھی انہیں یقیناً یہ خیال آنا چاہیے کہ سیاست میں آنا ان کی پہلی غلطی تھی اور اپنے تصوراتی منشور سے منحرف ہوجانا ان کی دوسری بڑی غلطی لیکن افسوس کہ عمران خان نے ملک و معاشرت کو کھیل کا میدان سمجھ کر ہر فکسر کو اپنے ساتھ کھلایا اور جذباتی فیصلوں کے نتیجے میں آج وہ زمان پارک کے ایک کونے تک محدود ہیں وہی عمران جو پنجاب اور کے پی میں اپنی حکومت ہونے پر شہباز شریف کو چند کلومیٹر کا وزیراعظم کہتے رہے ان کے لئے اب میر تقی میر کا یہ شعر یاد آتا ہے
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

