ٹائٹن کاسفر
عام طور پر بچے ہی والدین سے ضد کرتے ہیں یا اپنی کسی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، اب یہ الگ بات ہے کہ کچھ والدین جائز ناجائز سب ہی بچوں کی خواہشات پوری کر دیتے ہیں۔ کچھ نہیں بھی کرتے۔ لیکن اپنے بچوں کی خواہشات کی تکمیل میں تقریباً سب ہی والدین پیش پیش ہوتے ہیں۔ خاص کر کہ باپ جو کہ بچوں کے لئے کماتا ہے۔ اور اکثر ماؤں کے منع کرنے کے باوجود باپ بچوں کی ضد یا خواہش پوری کر دیتے ہیں۔
اب سلیمان داؤد کے بارے میں پڑھا کہ وہ اپنے والد شہزادہ داؤد کی خواہش پہ ٹائٹن میں سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے گئے تھے اگرچہ کہ جانا نہیں چاہتے تھے لیکن فادرز ڈے پہ اپنے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ساتھ گئے ایسا ان کی پھوپھی نے انٹرویو میں بتایا ہے۔
دیگر لوگوں کی طرح میرے دماغ میں بھی سب سے پہلے یہ بات آئی کہ بھلا کیا ضرورت تھی اتنا پیسہ خرچ کر کے سمندر کی تہہ میں جانے کی؟
لیکن دوسرے ہی دن مجھے خیال آیا کہ محمد علی سد پارہ بھی تو اپنے 21 سالہ بیٹے ساجد سد پارہ کے ساتھ کے ٹو سر کرنے گئے تھے۔ شومئی قسمت کہ ساجد سد پارہ بچ گئے لیکن محمد علی سد پارہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
جس طرح سمندر کی گہرائی میں جانا خطرے سے خالی نہیں اسی طرح کو پیماؤں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ اونچائی میں آکسیجن کی کمی یا ایک ذرا سی بھول سے ان کی جان جا سکتی ہے۔ کچھ نہیں تو اچانک سے لینڈ سلائیڈنگ یا برفانی تودہ گرنے سے بھی جان جا سکتی ہے لیکن پھر بھی کوہ پیمائی نہیں چھوڑتے۔ کیونکہ یہ ایک شوق یا جنون ہوتا ہے۔
ساجد سد پارہ نے اپنے والد کی موت کے باوجود یہ کوہ پیمائی کا سفر کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے اور ہماری دلی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔
چنانچہ کوہ پیمائی ہو، پیرا گلائیڈنگ کرنے والے ہوں یا جہاز اڑانے والے یہ سب اصل میں دل گردے کا کام ہے اور سب سے بڑھ کر ”شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا“ ۔
ہر کسی کا شوق نہیں ہوتا کہ سمندر میں جائے یا ہوا میں اڑنے خود مجھے ایکروفوبیا (acrophobia) ہے یعنی کہ اونچائی کا خوف۔
لگتا ہے کہ شہزادہ داؤد ایڈونچر طبیعت کے مالک تھے ان کا یہ شوق ان کی اور ان کے بیٹے کی موت پہ اختتام ہوا۔ لیکن ان کے اتنے امیر ہونے کے باوجود محض چند سو لوگ انھیں جانتے تھے۔ آج پوری دنیا ان کو اور ان کے بیٹے کو نہ صرف نام بلکہ شکل سے بھی جانتی ہے۔ پوری دنیا میں ان کے بچ جانے کی دعائیں مانگی گئیں۔ ان لوگوں کو رہنے دیجئے جن کے نزدیک امیر ہونا گناہ ہے۔ اور مسلسل وہ ان کے اس شوق پہ پیسہ لگانے پہ تنقید کر رہے ہیں۔
مگر کچھ لوگ ان کے فلاحی کاموں کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں کہ وہ نہ صرف (SIUT) کے بانیان میں سے تھے بلکہ اس کے ڈونر بھی تھے۔ اس کے علاوہ بھی مرحوم کافی فلاحی کام کیا کرتے تھے۔
اب رہتی دنیا تک تاریخ میں امر ہو گیا کہ ٹائٹن میں جو پانچ لوگ سمندر کی تہہ میں گئے تھے ان میں سے دو باپ بیٹا داؤد فیملی کے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد اب سمندر کی تہہ میں کوئی نہیں جائے گا؟
نہیں یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ مزید بہتر آبدوز بنا کر جائے گا۔ اگر انسانی فطرت میں یہ تجسس نہ ہوتا تو انسان خلا میں بھی نہ جاتا۔ اب پوچھیں کہ اتنا پیسہ لگا کر خلا میں کوئی کیوں جاتا ہے؟
خلائی شٹل پرواز کرتے ہی پھٹ بھی سکتی ہے اور ایسا سچ مچ ہو بھی چکا ہے انیس سو چھیاسی ( 1986 ) میں چیلنجر نامی خلائی شٹل پرواز کرنے کے کچھ لمحوں بعد فضا ہی میں آگ لگنے کے باعث تباہ ہو گئی تھی اور سات افراد پہ مشتمل عملہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔ لیکن خلا میں جانا بند نہ ہوا۔ ٹائٹن کا سانحہ ہم سب کو اداس کر گیا ہے۔ جانے والے مسلمانوں کی مغفرت کی دعا اور دیگر عملے کے لئے بھی دعائے خیر کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔ ٹائٹن کے مسافر بہتر سفر کی جانب چا چکے ہیں۔


