سنہ 1948: قومی اسمبلی میں بجٹ پہ بحث


سردار اسداللہ جان خان (این ڈبلیو ایف پی، مسلم) ۔ جناب میں نے معزز وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر اور معزز ارکان ایوان کے تبصروں کو غور سے سنا ہے، میرے خیال میں یہ بجٹ قوم کے موجودہ مطالبات، ضروریات اور خواہشات کی روشنی میں تیار نہیں کیا گیا۔ اصل میں، میں یہ بجٹ دیکھ کر بہت مایوس ہوا ہوں۔ میں معزز وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر پر اطمینان کا اظہار کرنے والے معزز ارکان سے معذرت سے اختلاف کرتا ہوں اور جنہوں نے انہیں ایک مضبوط اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

میرے خیال میں وہ دو نکات سے گمراہ ہوئے ہیں۔ پہلا، کہ انہوں نے مالیاتی نظام کے نکتے سے صرف نظر کیا ہے اور وہ سرکاری اور نجی مالی معاملات کے بنیادی فرق کو صاف طور پر دیکھ نہیں سکے ہیں۔ لہذا، انہوں نے غلط تصورات کی بنیاد پر غلط نتیجہ اخذ کیا ہے۔ دوسرا، ایک خود مختار ریاست میں، ۔ میں ایک صوبے نہ ہی کارپوریشن یا بلدیہ کی بات نہیں کر رہا، لیکن خود مختار ریاست کی، اس کے ٹیکس نظام کے حوالے سے معزز ارکان کا مطلب ہے کہ حکومت کو تمام سال کے لئے ناقابل منتقل بلات اور حکومت کے قابل منتقل اخراجات، افراط زر کی شرح میں کمی، آمدنی اور قیمتوں میں استحکام، یہ کہنا ہے کہ ملک کی خوشحالی ٹیکس کے نظام کے تحت نہیں آ سکتی۔ میں اسے کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔

جناب، یہ انتہائی نقصان دہ اور خطرناک غلط فہم اقتصادی اور مالیاتی معاملات ہیں۔ سرکاری مالیات کو انفرادی سطح کی آمدن اور اخراجات وغیرہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ ایک آدمی کی جیب میں جو آ رہا ہے وہ اس کی آمدن ہے اور جو اس میں سے جا رہا ہے وہ اس کے اخراجات ہیں۔ اس کی آمدن اس کی اخراجات سے زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اخراجات اس کی آمدن سے زیادہ ہو۔ لیکن یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔

جہاں تک انفرادی کا معاملہ ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مختلف بہاؤ ہیں۔ لیکن تمام معاشرے کو دیکھتے ہوئے ہم انفرادی بنیاد پر مجموعی آمدن کا شمار کرتے ہیں اور ان کے اخراجات کا خلاصہ بھی تیار کرتے ہیں، تو ہم یہ جان کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ تمام معاشرے کی آمدن اس کے اخراجات کے برابر ہے، جب ہم معاشرے کی بحیثیت مجموعی بات کرتے ہیں، تب اس کی آمدن اور اخراجات کا ایک ہی مطلب ہے اور اس میں کوئی اہم فرق تلاش نہیں کر سکتے۔

اس کے بعد میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ اس متوازن بجٹ کا مطلب کیا ہے، جو کہ ایوان کے لئے بہت خوشی کا باعث ہو گا۔ ایک بجٹ، چاہے وہ انفرادی بجٹ ہو یا تاجر کا بجٹ یا حکومت کا بجٹ ہو، کسی بھی معاملے میں آیا یہ خسارہ ہو گا، زیادہ ہو گایا متوازن بجٹ ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر میری آمدنی ایک ہزار روپے ماہوار ہے اور میں پندرہ سو خرچ کرتا ہوں، اب وہ لوگ جو میرے خرچ کیے ہوئے پندرہ سو روپے وصول کرتے ہیں، یہ رقم اپنی آمدن کے طور پر حاصل کرتے ہیں۔

اگرچہ میرا ذاتی بجٹ خسارے میں ہے، یہ براہ راست معاشرے کی خالص آمدن میں پندرہ سو روپے کا اضافہ کرتا ہے۔ دوبارہ کہ اگر میری آمدن پندرہ سو روپے ماہوار ہے اور یہ تصور کیا جائے کہ میں نے یہ سب خرچ کر دی ہے، معاشرہ ہر ماہ ایک ہزار روپے سے محروم ہو جائے گا۔ تاہم اگر میرا ذاتی بجٹ خسارے میں ہے، تو معاشرے کے پانچ سو روپے محفوظ ہو جائیں گے۔ اس صورت کہ میرا بجٹ اخراجات سے زیادہ ہے، یہ کہنا ہے کہ اگر میں ایک ہزار روپے ماہوار کماتا ہوں اور صرف پانچ سو روپے خرچ کرتا ہوں، تب میری بچت سے معاشرہ پانچ سو سے محروم ہو جائے گا۔

اب میں تیسرے نکتے کی طرف آتا ہوں،  اگر میری آمدن ایک ہزار ہے اور اتنا ہی ہر ماہ خرچہ، تب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ معاشرہ کسی طور متاثر نہیں ہو گا اور حتمی طور پر نتیجہ صفر ہو گا۔ دوسرے الفاظ میں، اس کا مطلب ہے کہ متوازن بجٹ ہمیشہ صفر ہوتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میں کیوں معزز وزیر کو مبارکباد پیش کروں اور ان کی طرف سے پیش کیے گئے بجٹ پر خوش ہو جاؤں۔ بلکہ میں ناخوش اور مایوس ہوں۔

اس تمام وضاحت کے بعد ایوان کو احساس ہو گا کہ خسارے کے بجٹ کا نتیجہ معاشرے کی آمدن میں اضافے کی صورت ہوتا ہے، جبکہ فالتو بجٹ اسی طرح کم کرتا ہے۔

دنیا کی تمام حکومتیں اپنے بجٹ اپنی عمومی شرائط کے مطابق تیار کرتی ہیں۔ جہاں تک مغربی پاکستان کا تعلق ہے، وہاں افراط زر کی شرح زیادہ ہے۔ 1914 کی جنگ عظیم اول کے بعد افراط زر میں اضافہ آسٹریلیا اور جرمنی کے بڑے بحران کی وجہ بنا۔ مشرقی پاکستان ہمارے ملک کی خطرناک جگہ ہے۔ میں تجویز کرتا ہوں کہ حکومت کو مشرقی پاکستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور وہاں خوراک، نمک سے متعلق مشکلات کی صورتحال، ریلوے کی حالت کا جائزہ لینے کے لئے چند اقتصادی ماہرین کے ساتھ ایک نائب وزیر مقرر کرنا چاہیے جو معاملے پر اپنی رپورٹ مرکز کو پیش کرے۔ اور مرکز معاملے پر پوری طرح غور کرنے کے بعد صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کرے۔

جناب صدر، میں تسلیم کرتا ہوں کہ چند خاص معاملات میں نکتہ نظر حکومت سے مختلف ہے۔ لیکن میں اس میں مدد نہیں کر سکتا۔ اس وقت دفاع کا معاملہ اٹھائیں۔ معزز وزیر خزانہ۔ 12 (Noon ter) اس شے پر اتنی بھاری رقم مہیا کرنے سے معذرت کی ہے۔ انہوں نے بھارت کے ناپاک عزائم اور کشمیر میں جدوجہد کے حوالے بتائے ہیں۔ انہوں نے اسلحہ ساز (آرڈنینس) فیکٹریاں قائم کرنے پر اٹھنے والے اخراجات سے بھی معذرت کی ہے۔ ارکان نے اس شے پر اتنا بھاری سرمایہ خرچ کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انتہائی ناقابل معافی بجٹ میں خسارہ یہ ہے کہ اس میں دفاع کے لئے مناسب رقم نہیں دکھائی گئی ہے۔

جناب میں نے صرف پانچ سوالات اٹھائے ہیں اور ان کے جوابات معاملہ صاف کر دیں گے۔

( 1 ) میدان جنگ میں نیکی فتح یاب رہتی ہے یا طاقتور؟ یقیناً طاقتور جیتتا ہے۔

( 2 ) قومی خود مختاری کی وہاں کیا قیمت ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب جنگ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اگر ہم دنیا کی تاریخ کا ذخیرہ (ریکارڈ) دیکھیں، تو ہم یہ دیکھیں گے کہ کسی قوم نے بھی جنگ جیتے بغیر خود مختاری حاصل نہیں کی۔ پاکستان نے اپنی آزادی کے لئے تقریباً دس لاکھ شہدا کی قربانیاں نہیں دیں؟ یقیناً ہم نے اپنی آزادی اس عظیم قربانی کے بعد ہی حاصل کی ہے۔

( 3 ) کیا مذہب کی خاصیت، روایات اور زبان ہمیں ہماری آزادی کے ادائیگی پر واپس لا سکتی ہے؟ یہ تو کبھی نہیں ہے، ہمارے سامنے اس کی مثال شمالی امریکہ کی گیارہ کالونیاں ہیں۔ اگرچہ ان کی ایک زبان، یکساں روایات اور ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اب میں چوتھے سوال کی طرف آتا ہوں۔

( 4 ) کیا لڑائیاں نسلی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں؟ میں کہتا ہوں کبھی نہیں۔ اگر نسل کا سوال جنگ کی وجہ ہو، سیکسن امریکن اور چین کے پیلے لوگوں نے جنگ عظم دوم میں جرمنی کی بڑی طاقت جاپان کے پیلے لوگوں کے گلے کاٹنے کے لئے کبھی ہاتھ نہیں ملائے۔ تب سوال یہ ہے کہ کیا جنگیں مختلف نظریات کے لئے لڑی جاتی ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ، کبھی نہیں۔ دوسری جنگ عظم کے دوران سوشلسٹ اور کمیونسٹ روس بھی سرمایہ دارانہ امریکہ اور سامراجی انگلینڈ کا اتحادی تھا۔

یہ سوالات اور ان کے جوابات ظاہر کرتے ہیں کہ جب تک آزاد قومی حکومتیں قائم رہتی ہیں وہ اپنا سب کچھ اپنی آزادی کو قائم رکھنے کے کیے داؤ پر لگا دیتی ہیں، جنگ ناگزیر ہے۔ اور قدرتی طور پر ہمیں اس نتیجے پر پہنچنا پڑے گا کہ جنگ ”صورتحال کو جوں کا توں“ (سٹیٹس کو) رکھنے کی ضرورت ہے، علاوہ ازیں اس دنیا میں کوئی قوم زیادہ دیر تک اپنی آزادی سے مستفید نہیں ہو سکتی۔ جناب، بھارتی حکومت نے سچائی کا احساس کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ فوجی نکتہ نظر سے زرعی ممالک تجارتی اور صنعتی ممالک سے کمزور ہیں اور طویل وقت کے لئے جنگ نہیں لڑ کر سکتے۔

معزز وزیر خزانہ نے صرف وصولیوں اور اخراجات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ خود مختار ریاست آسانی سے رقم کما یا گنوا سکتی ہے۔ کیا انہیں عوامی جنگ (سول وار) کے بعد جاری ہونے والے امریکن ”گرین بیکس“ نوٹ بھول گئے ہیں؟ مسٹر لوئڈ جیورج نے پہلی جنگ عظیم کے دوران دس شلنگ اور ایک پاؤنڈ کے نوٹ جاری کیے ؟ لہذا، جہاں تک حکومت کی دفاعی پالیسی کی بات ہے، میں بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔

اب میں مہاجرین کی آباد کاری کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ حکومت نے صوبائی بورڈز قائم کیے ہیں لیکن مرکز اور صوبے مکمل طور پر ان کی ضروریات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مہاجرین کو زمینیں الاٹ کر دی گئی ہیں لیکن ان بے مددگار لوگوں کے پاس اگلی فصل تک رہنے کو کچھ نہیں ہے۔ اگر انہیں زمینیں دی گئی ہیں تو ان کے پاس بیل نہیں ہیں، اگر بیل ہیں تو خوراک نہیں ہے۔ میں حیران ہوں کہ کیوں حکومت ان چیزوں کا نوٹس نہیں لے رہی۔

خوراک انسان کے لئے ضروری ہے جیسا کہ انجن کے لئے ایندھن۔ مزید یہ کہ اگر حکومت چرخے مہیا کرتی ہے تو وہاں کاتنے کے لئے کپاس نہیں ہے۔ اور اگر وہاں کھڈیاں ہیں تو وہاں سوت نہیں ہے۔ اب تصور کریں کہ کتنی بڑی رقم ایسے منصوبوں پر خرچ کی گئی ہیں۔ میری رائے میں، حکومت کی سرگرمیاں غلط سمت میں ہیں۔ اگر آپ مختلف صوبوں میں پھیلے ہوئے مہاجرین کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا اقدام کریں تو آپ کو منصوبے اور عمل میں کئی خرابیاں نظر آئیں گی۔ جناب، حکومت جتنا قرضہ بیل خریدنے کے لئے دیتی ہے اس سے دو مرغیاں یا گدھا بھی نہیں خریدا جا سکتا۔ یہ ہے ریاست کی طرف سے کیا جانے والا آباد کاری کا کام۔ اگر مہاجرین خوش قسمتی سے بیماریوں سے بچ گئے اور مزید کچھ وقت زندہ رہے تو اس کی مصیبت زدہ زندگی معاشرے میں قہر برپا کر دے گی۔

Facebook Comments HS