ہماری قوم کسی کی کمائی سے جلتی کیوں ہے؟
ایک اچھا کام جو شہباز شریف گورنمنٹ نے پچھلے دور میں کیا وہ پنڈی میں صفائی اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے مربوط نظام وضع کرنا تھا۔ آج بھی اگر ذرا سی اونچ نیچ ہو جائے اور آپ ہیلپ لائن پر کال کریں تو فوراً ایکشن ہوتا ہے۔ کوڑا اٹھانے والے زیادہ تر لوگ اقلیتی مذہب سے ہوتے ہیں اس لیے ان میں قدرتی طور پر عاجزی اور شرافت کا عنصر عام لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایک کام یہ لوگ ضرور کرتے ہیں کہ عید پر دروازہ کھٹکھٹا کر عیدی کا ضرور کہتے ہیں۔
نہ کبھی میری جیب میں پیسے ہوئے نہ کبھی میں نے رکھے، مجھے یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کو کتنی عیدی دینی ہوتی ہے۔ خیر، میں نے دروازہ کھولا ان کا ایک بندہ آگے کھڑا تھا، چار پیچھے۔ کہتے کہ بابا جی اور باجی عیدی دیتے ہوتے ہیں۔ میں اندر آیا جو پیسے ملے میں نے تقسیم کر دیے۔ ہمارے پڑوس میں ایک باجوہ صاحب رہتے ہیں وہ آ گئے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے یہ لیکچر دیا کہ ان کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ جب آپ ان کو پیسے دیتے ہیں تو ان کا دماغ خراب کرتے ہیں۔
پھر انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان ہی نہیں تو عیدی کون سی جائز ہو گئی۔ میں نے کہا کہ حضرت مجھے عیدی کی مذہبی حیثیت یا باقی تفصیلات کا کوئی علم نہیں۔ جو پیسے ملے وہ میں نے ان کو دے دیے۔ باجوہ صاحب پتہ نہیں کس موڈ میں تھے بولے صبح یہ کارپوریشن میں کام کرتے ہیں اور شام کو پرائیویٹ طور پر لوگوں کی گلیاں اور نالیاں صاف کرتے ہیں۔ پھر ایک دو مثالیں دے کر انہوں نے اپنے تئیں ثابت کر چھوڑا کہ ان کی ماہانہ آمدن لاکھوں میں ہوتی ہے۔
یہ سن کر میرے ذہن کچھ دن پہلے کا منظر چل گیا جب باجوہ صاحب نے اپنے ایم۔ بی۔ اے پاس بیٹے کی سی۔ وی دی کہ اس کی نوکری کا کہیں دیکھ لیں، یہ فریش ہے 30۔ 35 بھی سٹارٹ میں مل جائیں تو بہت ہیں۔ دل کیا کہوں کہ اپنے بیٹے کا لاکھوں کمانے کا چانس ضائع کر کے کیوں 30۔ 35 ہزار پر اکتفا کر رہے ہیں؟
کل ”سائنس کی دنیا“ گروپ میں ٹائٹینک جہاز کا ملبہ دکھانے والی آبدوز کے تباہ ہونے کی سائنسی وجہ تفصیل سے بیان کی گئی۔ اس آبدوز میں اینگرو گروپ کے مالکان بھی تھے۔ اس پوسٹ کے کمنٹس میں ہماری قوم نے وہ تعصب سے بھرے غلیظ کمنٹس کیے کہ بندہ الٹی کر دے۔
مجھے یہ نہیں سمجھ آتی کہ ہماری قوم پیسوں کو لے کر اتنی تنگ نظر اور حاسد کیوں ہے۔ بہت سی وجوہات کے علاوہ ہمارے معاشرے کا ترقی یافتہ نہ ہونے ایک بڑی وجہ دولت یا ترقی سے دشمنی بھی ہے۔ ہم خوامخواہ ایسے تمام اداروں یا لوگوں کے بارے تعصب پال لیتے جو تھوڑا بہت ترقی کی جستجو کریں۔ یہ سوچ اگر تبدیل ہو جائے تو معاشرے کے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ فی الوقت تو ہم ایک اقلیتی شہری کی عیدی اور اس غریب کے نوکری کے بعد کمائے گئے پیسوں کا حساب رکھنے سے باز نہیں آتے 250000 ڈالر کا ٹکٹ لینے والے ہم سے کیسے بچ سکتے ہیں۔


