فیس بک کی حقیقت؟


مشہور زمانہ، آسٹریلین نژاد مسٹر جولین آسانج نے، 2006 میں ایک وکی لیکس نامی میڈیا آرگنائزیشن بنائی اور 2 وسل بلورز : امریکی آرمی کی اہلکار، چیلسی میننگ اور امریکی نژاد، لیکن روسی نیشنلٹی ہولڈر، کمپیوٹر انٹیلی جنس کنسلٹنٹ، ایڈورڈ سنوڈن، کی مدد سے، 2010 میں، خفیہ دستاویزات حاصل کیں اور ان دستاویزات کو پانچ مختلف میڈیا ہاؤسز میں اشاعت کے لئے دیا تھا۔

ایسی ہی ایک خاتون، یو۔ ایس اے کی پیدائشی، مسز فرانسز ہاؤگن بطور ”وسل بلور“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ مسز ہاؤگن فیس بک کی مالک کمپنی میٹا میں بطور پراڈکٹ مینیجر (سوک مسانفار میشن ڈیپارٹمنٹ) کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھیں جہاں انہوں نے 2018 سے 2021 تک کام کیا تھا۔ دوران ملازمت، اپنے مشاہدات کی روشنی میں، 2021 میں ملازمت کو خیر باد کہنے کے بعد ، انہوں نے ایک ”دی پاور آف ون“ کے عنوان سے کتاب لکھی تھی جس کا ، مسٹر کارسٹن پیٹرسن نے ”دی وار ہائیٹ اوبر فیسبک“ یعنی ’فیسبک کی حقیقت‘ کے عنوان سے، جرمن زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں :

فیسبک کمپنی کی طرف سے غیر اخلاقی اعمال اور سالمیت کے رویہ نے، ان کو بہت مایوس کیا تھا۔ فیس بک اپنے الگورتھم میں، غیر شفافیت، انتہا پسندی، تشدد اور فیک نیوز کر بڑھوتری دیتی ہے۔ خصوصی طور پر، فیسبک، فیک نیوز کے خلاف کوئی موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے دوران ملازمت ہزاروں کی تعداد میں فیس بک کمپنی کے ڈاٹا کی فوٹو کاپیاں کی تھیں اور جاب چھوڑنے کے بعد ، وہ دستاویزات، سرکاری بازار حصص (ایس ای سی) اور وال اسٹریٹ جورنل کو پہنچائیں۔ ان کی، اس وسل بلوئنگ کی وجہ سے، فیس بک کو، 5 اکتوبر 2021 کو امریکی کانگریس کے سامنے جوابدہ ہونا پڑا تھا۔

مسز ہاؤگن کی طرف سے، فیس بک پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ فیس بک ون مین شو کے تحت صرف اپنے مفادات اور منافع کے لئے کام کر رہی ہے اور صارفین کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں ہوتے ہیں۔ جرمنی اور یو۔ ایس۔ اے میں فیس بک کی صاف شفاف اور محفوظ ورژن ہیں اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی، فیس بک صحیح کام کرتی ہے لیکن ترقی پذیر اور تیسری، چوتھی دنیا کے ممالک، مثلاً میانمار یا ایتھوپیا وغیرہ میں، فیس بک کا اسٹینڈرڈ بہت نیچے ہے۔ بہت سے جرمن باشندوں کے، یورپین یونین میں مروجہ، ڈیجیٹل سروس ایکٹ کے تحت سخت ریگولیشن مطالبات کے بعد ، فیس بک نے جرمنی میں بہتر سروسز مہیا کی تھیں۔

مسز ہاؤگن کے ”وسل بلوننگ“ میں یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ فیس بک، بوجہ منافع، جان بوجھ کر صارفین کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مسز ہاؤگن یو۔ ایس سینٹ اور یورپین پارلیمنٹ میں بھی اپنا بیانیہ پیش کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق، ان کے اس عمل سے چند بنیادی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں :

یورپین یونین نے ڈیجیٹل سروس ایکٹ پاس کیا تھا۔ اس ایکٹ کے مطابق، سماجی روابط کے پلیٹ فارموں کے الگورتھم کو ایک خاص حد تک چیک کیا جاسکتا ہے۔ پہلی دفعہ، عوام کو معلومات حاصل کرنے کے لئے درخواست دینے کا حق ہے۔ اس ایکٹ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شفافیت آئی ہے۔ ان کمپنیوں کو ممکنہ سماجی یا سیاسی خطروں کے پیش نظر، معلومات مہیا کرنا لازمی قرار پایا گیا ہے۔ یورپین پارلیمنٹ نے وسل بلور کے حق میں قانون پاس کیا اور وسل بلوننگ کو دنیا میں غیر شفاف نظاموں کو اجاگر کرنے کے لئے نہایت اہم قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ، امریکی صحتی اداروں کی طرف سے، سماجی میڈیا کو، سگریٹ نوشی کی طرح، صحت کے لئے نقصان دہ قرار دیا گیا تھا۔ خصوصاً بچوں کے لئے، جو دن رات سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر مصروف رہتے ہیں، یہ ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ نیندوں کے فقدان اور نیورولوجی پرابلمز کے پیش نظر، فیس بک پر چھوٹی عمر کے بچوں کی رجسٹریشن نہیں ہو سکتی ہے۔ امریکین ریاست مونٹانا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

مسز ہاؤگن لکھتی ہیں کہ انہیں تشویش تھی کہ فیس بک کے متعلق، منفی دستاویزات شائع ہونے کے بعد ، وہ بہت زیادہ ٹرولنگ کی زد میں آئیں گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ فیسبک کے چیف، مارک ذکر برگ کو لوگ زیادہ پسند نہیں کرتے ہیں۔ مسز ہاؤگن کے خیال میں، ایلون مسک نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ”ٹویٹر“ کو خرید کر، گھاٹے کا سودا کیا ہے۔

Facebook Comments HS