ہم بھی کسی سے پیچھے نہیں!

نیویارک یونیورسٹی آف لا کے ڈین رچرڈ ریویز نے کہا تھا کہ ”ہم امریکی اپنے مفادات میں جھوٹی اور واہیات باتیں علی الاعلان کہتے ہیں“
یہاں ہمارے ہاں ”مذہبی بھائی گان“ اور ”مفتیان عظام“ بھی عین اسی طرح کے ”واردات“ فریضہ سمجھ کر ثواب کی نیت سے کیا کرتے ہیں۔
خواب دیکھنے کی صورت
”نزول الہام“ دعوے کی صورت
”کرامات“ پہ ایمان و یقین کی صورت
واقعات تخلیق کی صورت
روایات گھڑنے کی صورت
اور
زمانہ جدید میں سوشل میڈیا پر ایڈیٹنگ کی صورت۔
اسی طرح
الزامات لگانا
بہتانات لگانا
جھوٹ گھڑنا
اور
بغض، کینہ، حسد اور تعصب کی وجہ سے نفرت میں اتنے آگے نکل جانا کہ باقاعدہ کفر کے فتوے تک لگانا اور وہ بھی کسی عام فرد پر نہیں بلکہ ممتاز، جید اور علماء ربانیین تک پر، جن کی علم، فقاحت اور علمی و دینی خدمات کی دنیا معترف ہے اور ساری دنیا میں مشہور اور معروف ہی نہیں بلکہ محبوب ہی ٹھہرے ہیں اور ایک عالم ان کی فکر سے متاثر ہے اور دنیا میں بڑی موثر دینی تنظیمات اور تحریکات پر ان کے فکر کے گہرے اثرات مرتب رہے۔
جیسا کہ برصغیر پاک و ہند کا رجل عظیم سید مودودی۔ جو ایک عام مولوی نہیں بلکہ ایک محقق، مدبر، مفسر، مجدد اور عالم ربانی تھے جس کے بارے میں بہت بڑے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ ”صرف عجم کے نہیں بلکہ عرب کے بھی امام ہیں“ ان کی تحریرات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا، قطع و برید کر کے اپنی معنی پہنانا، کوٹ کردہ حوالہ جات کو ان کے کھاتے میں ڈالنا اور ان کے خیالات کو اپنے مطالب کے ساتھ پیش کرنا اور ان پر الزامات لگانا ہی کیا معتوب اور مبغوض ٹھرانا اور باقاعدہ انھیں اہل سنت والجماعت سے خارج تصور کرنا۔
تاویل ان حضرات کی یہ ہے کہ ”بڑے مذہبی مقاصد کے خاطر جھوٹ بولنا عین جائز بلکہ ثواب کا کام ہے“
اللہ کے بندوں،
جس دین کی اساس، شناخت اور پہچان ہی سچائی اور حقانیت پر ہو وہ کیسے کسی جھوٹ کا محتاج ہو سکتا ہے؟
ثابت ہوا کہ
معاملہ دین اسلام، خالق اور مخلوق خدا کا نہیں بلکہ ذاتی مفادات اور دال روٹی کا ہے۔
دین اسلام کی اشاعت اور اقامت کے لیے جدوجہد کسی جہالت نہیں بلکہ مکمل علم و عمل کے بنیاد پر ہی ہو سکتی ہے اور یہی رسول اللہ کا راستہ ہے جو ”امین اور صادق“ معروف اور محبوب ٹھہرے تھے۔

