کتاب کا نام : عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عاؔرف
کسی تخلیق کار کی کامیابی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کی تخلیق سبک رفتار سمے کی دھول میں اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ مقصدیت، معنویت اور افادیت وہ اوصاف ہیں جو اس وجود کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ تفریحی اور رومانوی ادب کی اپنی اہمیت ہے مگر تفریحی یا رومانوی ادب میں وہ پائیداری نہیں جو ادب عالیہ میں پائی جاتی ہے۔ مثلاً رومانوی شاعری میں محبوب کی گیسوئے تابدار، نسوانی حسن، غزالاں سو آنکھیں اور شیریں گفتاری ایسی تلمیحات اکثر نظر آتی ہیں۔ خصوصاً ہماری اردو شاعری میں اس کا بہت چلن ہے۔ اساتذہ اور اکابرین نے بھی حسن و عشق کی واردات کو استعارے، کنائے اور تلمیح کے ذریعے برو کار لایا ہے مگر عظیم شعراء نے کثرت سے اس کا استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ کسی پیغام، نظریے، فلسفے یا دانش سے تہی شاعری ہر زماں و مکاں میں اپنا اثر قائم نہیں رکھ پاتی۔
پروفیسر عارف عبدالمتین کی شاعری اپنے اندر تینوں لوازمات رکھتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اس کا ایک صدی گزر جانے کے باوجود زندہ رہنا ہے۔ ان کا شمار اردو کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اردو اور پنجابی کے شاعر تھے بلکہ ایک نقاد اور دانشور بھی تھے۔ ان کی تصنیفات میں، حرف دعا (غزلوں کا مجموعہ) ، موج در موج ) فردیات کا مجموعہ (، دریچے اور صحرا (فردیات کا مجموعہ) ، سفر کی عطا (نظموں کا مجموعہ) اور لامحدود کے نام سے (غزلیات ’قطعات اور فردیات کے مجموعات ) شامل ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں عارف عبدالمتین کا صد سالہ جشن ولادت کینیڈا کی ادبی و ثقافتی تنظیم ”فیملی آف دی ہارٹ“ کے زیر انتظام ٹورانٹو میں منایا گیا۔ بعد ازاں ”فیملی آف دی ہارٹ“ کے روح رواں ڈاکٹر خالد سہیل اور نامور شاعر و ادیب حامد یزدانی نے عارف عبدالمتین کی شاعری اور شخصیت پر ایک کتاب مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔ کتاب اس سال کے وسط میں تکمیل کو پہنچی ہے اور اس کا نام عارف عبدالمتین کے کہے ہوئے ایک مصرعے : ”عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عارف“ پر رکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں عارف عبدالمتین کے کل کلام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کا چنیدہ کلام بھی شامل کیا گیا ہے۔
کتاب میں عارف عبدالمتین کی شخصیت اور فن کے حوالے سے احمد ندیم قاسمی، عطاءالحق قاسمی اور کشمیری لال ذاکر جیسے مشاہیر کی آراء شامل ہیں۔ عارف صاحب کی شخصیت کے کچھ دلچسپ پہلؤوں کے بارے میں ان کے صاحب زادے نوروز عارف اور ان کی صاحب زادی تحسین عارف کی دلگداز تحریریں بھی کتاب میں موجود ہیں۔ علمی و تحقیقی حوالے سے متعدد طلبا و محققین بڑی تعداد میں عارف عبدالمتین کے کام پر ماسٹرز، ایم، فل اور پی ایچ ڈی تحقیقی مقالے تحریر کر چکے ہیں۔ اس کتاب میں شہزاد انجم کا پی ایچ ڈی مقالہ : ”پروفیسر عارف عبدالمتین کا فنی و فکری سفر۔ ایک تجزیہ“ بھی شامل کیا گیا ہے۔
عارف کی شاعری سادہ زبان میں ہے۔ وہ ایک بڑا فلسفہ نہایت سادہ الفاظ میں بیان کر جاتے ہیں۔ انھوں نے ’یک مصرعی نظم‘ کو نئی زندگی عطا کی ہے۔ یک مصرعی نظموں کا مجموعہ، ”دھوپ کی چادر“ عارف کی شاعرانہ عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس میں پانچ سو کے قریب یک مصرعی نظمیں ہیں اور ہر نظم کا اپنا جداگانہ عنوان ہے۔ یہ نظمیں اقوال زریں کی طرح امر ہو گئی ہیں۔ چند یک مصرعی نظمیں :
کتبہ
’زیر زمیں گیا ہے وہ اپنی تلاش میں‘
قطرہ اور جھیل
’جھوٹ کے قطرے نے عارف سچ کی ساری جھیل کو گدلا کیا‘
قیدی
’میں دریا ہوں ازل سے قید ہوں اپنے کناروں میں‘
سراغ
’مجھے پکار کہ مجھ کو مرا سراغ ملے‘
فطرت
’گلاب ہوں میری فطرت میں رنگ و خوشبو ہیں‘
دم واپسیں
’مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا کہ میں تمہارے لیے جیا ہوں‘
اصول زیست
’اصول زیست تصادم نہیں‘ تعاون ہے۔ ’
بقول ڈاکٹر خالد سہیل ”عارف عبدالمتین کا تخلیقی اور نظریاتی سفر روایت سے بغاوت اور بغاوت سے دانائی کا سفر تھا۔“ اس کی ایک مثال یہ شعر اور قطعہ ہے۔
؎ ”چلی جو بار حوادث تو دل نے تن کے کہا
یہ شاخ ٹوٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی ”
؎ ”تم دربار کے پروردہ ہو ہم پیکار کے رسیا ہیں
تم کیا جانو سر کٹوانا ہم کیا جانیں سر کا خم
زہر کو امرت لکھ نہ سکیں گے ہاتھ قلم ہر چند کرو
اپنا فن ہے حسن صداقت فن کی امانت اپنا قلم ”
عبدالمتین کے فردیات کے مجموعے ”موج در موج“ میں پانچ سو کے قریب فردیات ہیں۔ اس مجموعے کی چند فردیات توجہ طلب ہیں :
؎ اپنی پہچان کرنے نکلا تھا
ایک عالم سے روشناس ہوا
؎ میں تمہیں ڈھونڈنے نہ نکلوں گا
سوچ کر مجھ سے تم جدا ہونا
؎ لوٹ آئی ہو چشم نم لے کر
خوش نہ آئی ہوا زمانے کی
ان کی شاعری میں ہمیں جہاں پسماندہ طبقے اور محنت کش طبقے کا درد ملتا ہے۔ وہاں پر ایک عالم گیریت اور سوز انسانیت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے :
؎؎ ”میں حرف دعا کا سلسلہ ہوں
عالم کی نجات چاہتا ہوں
مقتول کی مغفرت کا طالب
قاتل کی طرف سے خوں بہا ہوں ”
عارف عبدالمتین اپنی شعری تخلیقات کی صورت میں ہمارے درمیان آج بھی زندہ ہیں۔ میں ڈاکٹر خالد سہیل اور حامد یزدانی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے باہمی کاوش سے ”عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عارف“ مرتب کر کے ایک درویش صفت دانشور شاعر کو اس کی سوویں سالگرہ پر ایک خوبصورت تحفہ پیش کیا ہے۔
یہ کتاب شاعری کے شائقین کے لیے بھی ایک تحفے سے کم نہیں۔ کتاب پاکستان میں ’آواز پبلی کیشنز‘ نے راولپنڈی سے حال ہی میں شائع کی ہے اور درج ذیل نمبر پر رابطہ کر کے منگوائی جا سکتی ہے :[ 03005211201 ]۔


