موسم گرما سے محبت کے لیے البرٹ کامیو کے تین مشورے
احباب میں میری شہرت گرمیوں کے عاشق کی ہے۔ پینتالیس ڈگری درجہ حرارت میں پسینے میں شرابور جب میں یہ کہتا ہوں کہ ’آئی لو سمر‘ تو وہ اسے دماغی خلل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ مجھے وقاص احمد اور البرٹ کامیو نے سمجھایا کہ گرمیوں سے عشق کیوں اور کیسے کرنا ہے۔ البرٹ کامیو کو میری اسی خدمت کے عوض نوبل انعام سے نوازا گیا۔ وقاص 24 برس کی عمر میں مر گیا۔
اس سے پہلے کہ البرٹ کامیو کی تین مشورہ نما آپشنز پر جائیں پہلے آپ کو یہ بتاؤں کہ مجھے سب سے پہلے گرمیوں سے محبت کب ہوئی؟ لڑکپن کے دن تھے۔ گرمیاں مجھے بہت بری لگتی تھیں۔ گرمیوں میں کوئی خوبصورتی یا حسن کا پہلو نکالنا میرے لیے مشکل تھا۔ کسی بھی کند ذہن کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ ایک دن اکیس سالہ پھوپھی زاد بھائی وقاص احمد جو کمال لکھتا تھا کا خط موصول ہوا۔
یہ خط گاؤں سے لکھا گیا اور میں راولپنڈی شہر میں تھا۔ خط میں ایک پیرا کچھ یوں تھا ”وقار میں اس وقت اپنی اور تمہاری پسندیدہ ڈھلوان کی گھاس پر بیٹھا جانور چرا رہا ہوں۔ ہو کا عالم ہے۔ پرندے گھونسلوں میں دبک کر بیٹھ گئے ہیں۔ جنگل میں کاندھے جھکائے درختوں پر سکتہ طاری ہے۔ اس ہو کے عالم میں صرف دو آوازیں ہیں۔ ایک میرے قلم کے گھسٹنے کی اور دوسرا میرے پاس بیٹھے منہ کھولے کتے کے ہانپنے کی۔ بینڈے ہیں لیکن میں انہیں تیسری آواز نہیں سمجھتا۔ دور افق پر شدید گرمی کی وجہ سے الاؤ اٹھتے نظر آ رہے ہیں لیکن یہ الاؤ دیکھنے کے لیے جب میں آنکھیں زیادہ کھولتا ہوں تو پسینہ آنکھ میں جاتا ہے اور کڑواہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسری کچھ کڑواہٹ سگریٹ کا دھواں پیدا کرتا ہے۔ سگریٹ کا فلٹر تنہا ہو جاتا ہے کہ اوپر کا خاکی کاغذ گیلا ہو کر فاصلہ اختیار کرتا ہے۔ جانوروں نے چرنا بند کر دیا ہے۔ منہ کھولے گائے مجھے دیکھ رہی ہے۔ اس کا پیٹ سانس لینے سے کم وقفوں سے پھول اور سکڑ رہا ہے۔ یا شاید میرا وہم ہے کیا پتہ گائے ویسے بھی اسی رفتار سے سانس لیتی ہو۔ اس وقت قمیض نچوڑ دوں تو ایک لوٹے کا پانی تو ہو گا۔ ہو کا عالم ہے۔ پسینے کی آنکھوں میں کڑواہٹ ہے قلم گھسٹنے اور کتے کے ہانپنے کی آوازیں ہیں۔ بینڈے کی طویل ٹیں کو میں آواز نہیں خاموشی کا حصہ سمجھتا ہوں۔ اور دور افق پر الاؤ ہیں۔ کیا زندگی اس سے زیادہ خوبصورت ہو سکتی ہے؟“
یہ پیرا پڑھ کر لایعنی (absurd) دکھائی دینے والی گرمیوں میں پہلی دفعہ مجھے معنویت دکھائی دی۔ پہلی دفعہ مجھے گرمیاں اچھی لگیں۔ ویسے تو ہم انسان ہر چیز میں معنویت تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ بنیادی وصف ہے لیکن وہ معنویت کون تلاش کر پاتا ہے اس کا تعلق ذہانت اور تجربات کے تنوع سے ہے۔ میں نے بعد میں کئی ذہین افراد (ادیبوں شاعروں ) کو پڑھ کر گرمیوں کے حوالے سے اپنا زاویہ نگاہ درست کیا۔
اب آئیے البرٹ کامیو کی جانب۔ ان کی تعلیمات کو فی الحال گرمیوں پر منطبق کر کے رہنمائی لیتے ہیں۔ البرٹ کامیو کی تعلیمات کی روشنی میں میرے پاس گرمیوں سے نمٹنے کی تین آپشنز ہیں
نمبر ایک: خودکشی
نمبر دو: فلسفیانہ خود کشی
نمبر تین : قبول کرنے کی جرآت
پہلی آپشن کو تو رہنے ہی دیں۔ اب دوسری آپشن سے کیا مراد ہے؟ دوسری آپشن سے مراد کسی مذہب یا ازم میں پناہ لینا۔ مثال کے طور پر کسی کا مذہب یہ کہتا ہے کہ دنیا میں جس قدر انسان گرمی برداشت کرے گا تو اس قدر سے دس گنا اسے آخرت میں اجر دیا جائے گا۔ اب یہاں حسی شواہد تو نہیں ہوں گے مفروضوں پر یقین کرنا پڑے گا کیونکہ آخرت وغیرہ کے حوالے سے آپ کو کوئی شواہد فراہم نہیں کیے جائیں گے بس آپ نے یقین کرنا ہے۔ آپ یقین کر لیتے ہیں تو زندگی میں یہ سہولت پیدا ہو جائے گی کہ گرمی گوارا ہو جائے گی۔ یقین کی قدرے زیادہ بلند سطح پر۔ ہو سکتا ہے کہ چالیس کے درجہ حرارت میں آپ دھوپ میں کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ کو کثیر تعداد میں آخرت میں اجر ملے۔
’ازم‘ وغیرہ بھی ملتا جلتا معاملہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک ’ازم‘ یہ کہے کہ اگر ہم اے سی نہ لگائیں تو جو بچت ہو گی اس سے اگلے پندرہ سالوں میں دنیا میں غربت ختم ہو جائے گی تو اب ہم اس ’ازم‘ کی خاطر گرمی برداشت کر سکتے ہیں چاہے یہ ’ازم‘ کتنا ہی غیر منطقی کیوں نہ ہو۔ ’ازم‘ کوئی بھی ہو فرد کو ایک گروہ کے ساتھ منسلک کر دیتا ہے جو اپنے تئیں کسی عظیم مقصد کو پانے کی تگ و دو میں ہوتا ہے۔ فرد اس گروہ کے ساتھ وابستہ ہو کر ”زندگی بامقصد ہے“ کی تسلی پاتا ہے۔ بہرحال البرٹ کامیو اس طرز فکر کو فلسفیانہ خودکشی اور فرار اس لیے قرار دیتا ہے کہ آپ نے غیر منطقی بنیادوں پر کھڑی شرح کو قبول کر کے ذہنی انتشار و خلفشار سے نجات پائی ہے (جو کہ مستقل حل نہیں ہے )
تیسری آپشن یہ ہے کہ کہ لایعنیت (absurdity) کو اس طرح قبول کیا جائے کہ اس میں سے خود معنی نکالے جائیں تراشے جائیں۔ گرمیوں جیسی لایعنیت کو قبول کرنے کے لیے جواز چاہیے، جواز دلیل مانگے گا، دلیل معنویت کی محتاج ہے۔ لیکن کیا ہر فرد اس قدر حوصلہ مند ہو سکتا ہے کہ وہ لایعنیت میں سے معنی برآمد کر لے؟ ہر فرد یقیناً ایسا نہیں کر سکتا لیکن دوسرے ایسے ذہین لوگوں فلسفیوں شاعروں ادیبوں سے رہنمائی لے کر زاویہ نگاہ بدل سکتا ہے۔ ایک عام فرد کسی پہاڑی علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ میں پھنسنے کے بعد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے لیکن یہی فرد اگر ایسے سفرنامہ ادیبوں کو پڑھ لے جو ایسی صورتحال میں پھنس کر اس کو مزاحیہ قرار دیتے ہیں یا کہتے ہیں کہ کیا اچھا موقع ملا کہ جب تک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے راستہ بند رہا میں نے دریا کنارے تمام پودوں کی انواع کو پہلی دفعہ اس قدر غور سے دیکھا۔ مجھے تو ان میں پوری کائنات نظر آئی۔ چند ایسے پھول دیکھے جو بہت چھوٹے تھے اور غضب کے خوبصورت تھے کبھی توجہ ہی نہیں گئی تھی بلکہ اتنی فرصت ہی نہیں ملی تھی۔ یا دریا کنارے پتھروں کی ان گنت اشکال کو دیکھا ایک پتھر تو بالکل ایسے تھا کہ جیسے ہاتھی کا مجسمہ ہو وغیرہ وغیرہ
اب آپ بتائیے کہ آپ کیا کریں گے؟ خود کشی۔ فلسفیانہ خودکشی یا معنویت دے کر لایعنیت کو قبول کرنے کی جرآت پیدا کریں گے؟ پہلا کام نہ کیجیے گا کہ لایعنیت کا جواب اس قدر نامعقولیت نہیں ہونا چاہیے۔ رہی باقی دو آپشنز تو ان پر آپ اپنی مرضی چلا لیں

