خواہشات اور مسائل کبھی ختم نہیں ہوتے!
یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعہ کو دنیا بھر میں اب تک کا بدترین سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس حادثہ میں مرنے والے 300 پاکستانیوں کو تو نہیں بچایا جا سکا مگر آگاہی پھیلا کر ان لاکھوں پاکستانیوں کو ضرور بچایا جا سکتا ہے جو بے رحم ایجنٹوں کے جھوٹے وعدوں میں بہک کر نہ صرف اپنا لاکھوں روپیہ برباد کرتے ہیں بلکہ اکثر اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اپنے ملک سے غیر قانونی طور پر دوسرے ملک میں داخل ہونے کا سفر درد و الم کی داستان کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس کا اندازہ ان لوگوں کے انکشافات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو اس سفر میں اپنا سب کچھ گنوا کر لوٹ چکے ہیں۔
غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے لئے عام طور پر پاکستان سے ایران، پھر ترکی اور وہاں سے زیادہ تر اٹلی، یونان یا سپین تک کا سفر کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے ایران اور ترکی تک کا سفر زیادہ تر پیدل طے کیا جاتا جس میں بہت سے لوگ بھوک، پیاس اور تھکان کی شدت کو برداشت نہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ اس تجربہ سے گزرنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی شدید قلت کے باعث راستے میں آنے والے گندے جوہڑوں کا کیڑوں بھرا پانی پی کر کچھ لوگ اپنی پیاس تو بجھا لیتے ہیں مگر خود کو مرنے سے نہیں بچا پاتے۔
کچھ لوگوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران سے ترکی کے درمیان صحرا میں انہوں نے انسانی ڈھانچے بھی دیکھے جو شاید ان لوگوں کے تھے جو اس ہولناک سفر کی صعوبتیں برداشت نہیں کر پائے تھے۔ اس حوالے سے ایک شخص نے یہ بھی بتایا کہ قافلے میں موجود جو لوگ پاؤں شل ہونے کے باعث چل نہیں پاتے انہیں ایجنٹ راستے میں مرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک شخص نے ایک ایسا انکشاف بھی کیا جس کے بعد مزید واقعات کو پڑھنے کی تاب شاید آپ میں نہ رہے۔
اس شخص نے بتایا کہ ان کے قافلے میں بہت سی افغان خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ جب وہ لوگ ایران اور ترکی کے درمیان کسی پہاڑی کا سفر کر رہے تھے تو بھوک کی شدت سے ایک شیر خوار بچے نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ جب ہزار کوششوں کے باوجود بھی ماں اپنے بچے کو چپ نہ کر اسکی تو ایجنٹ نے یہ کہہ کر بچہ پہاڑی سے نیچے پھینک دیا کہ ’اگر یہ زندہ رہا تو ہم سب پکڑے جائیں گے‘ ۔
سفر تو جاری رہا مگر منزل تک پہنچتے پہنچتے چند ہی افراد بچ پائے۔ ترکی تک پہنچنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ترکی میں پہنچنے کے بعد بھی ظلم و ستم کا سلسلہ نہیں رکتا اور بہت سے مقامی لوگ بھی اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ غیر قانونی طور پر ترکی میں رہنے والے کچھ لوگوں کے گردے تک بیچ دیے جاتے ہیں اور وہ پکڑے جانے کے ڈر سے ترکی کی پولیس سے بھی مدد طلب نہیں کر پاتے۔ بعد ازاں ترکی سے یورپ میں داخلے کی جدوجہد ایک الگ کہانی ہے۔
اس کوشش میں کچھ تو پولیس کے ہتھے چڑھ کر جیلوں اور کیمپوں میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ کچھ پناہ کی درخواست دے کر مدتوں فیصلے کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں بنیادی سہولتیں بھی ٹھیک سے میسر نہیں آتیں۔ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے اجرت بھی معمول سے کم دی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی اکثریت اپنا کیس ہار جاتی ہے اور پھر انہیں ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ واپس پہنچنے والے چند خوش نصیب زندہ سلامت پہنچ تو جاتے ہیں مگر تب تک وہ اپنی زندگی کے قیمتی سال اور پیسہ برباد کر چکے ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق مختلف ممالک کی جیلوں میں 12000 سے زائد پاکستانی سالوں سے بے یارو مددگار قید ہیں جن کی اکثریت کے لواحقین یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے لخت جگر زندہ ہیں یا زندہ درگور ہو چکے ہیں۔ ایسی خوفناک غیر قانونی ہجرت عام طور پر جان کے خطرے کے باعث کی جاتی ہے۔ مگر پاکستانی نوجوان روشن مستقبل کی خاطر یہ قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے مگر حالات بدلنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں۔
لاکھوں روپیہ ایجنٹوں کو دینے کی بجائے اسی رقم سے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار بھی تو کیا جاسکتا ہے؟ یاد رہے کہ یورپ میں بھی نوٹ درختوں پر نہیں اگتے، وہاں بھی محنت کرنی پڑتی ہے، جان مارنی پڑتی ہے۔ درحقیقت وہاں کی جدوجہد میں آپ کے اپنے آپ کے ساتھ نہیں ہوتے جبکہ پاکستان میں آپ کے دکھ درد میں آپ کا ساتھ دینے کے لئے آپ کے پیارے موجود ہوتے ہیں۔ مگر شاید ہم شارٹ کٹ کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ کم وقت میں حالات بدلنے کی خواہش انسان کو ایسے ہی اقدامات اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب خواہشات کی تکمیل کے لئے انسان جائز و نا جائز کی تمیز بھول جائے تو وہ خواہش اس کا الہ بن جاتی ہے اور انسان کو اسی طرح برباد کرتی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ زندگی کسی بھی صورت آسان نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ باہر جا کر ان کی زندگی کے مسائل ختم ہو جائیں گے یا خواہشات کا سلسلہ تھم جائے گا تو وہ غلط سوچتے ہیں۔ کیونکہ زندگی میں نہ تو کبھی مسائل ختم ہوتے ہیں نہ ہی خواہشات۔ مسائل اور خواہشات صرف اپنا روپ بدلتے رہتے ہیں۔ ایک مسئلہ دوسرے مسئلہ میں اور ایک خواہش مزید خواہشات کو جنم دے کر انسان کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جہاں سے نکلنا ممکن نہیں۔ ضرورت اور مجبوری کے بھیس میں چھپی خواہشوں کے جال میں پھنسنے سے صرف وہی شخص بچ سکتا ہے جو اپنی پہلی خواہش پر ہی قدغن لگا لے۔ ورنہ سورہ التکاثر میں ارشاد ہوتا ہے : ہلاک کر دیا تم کو کثرت (کی خواہش) نے۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔


