مسلم لیگ (ن) انٹرا پارٹی الیکشن
بالا آخر پانچ سال بعد مسلم لیگ (ن) انٹرا پارٹی الیکشن ہو ہی گئے۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 ء کے تحت ہر چار سال بعد ہر سیاسی جماعت پارٹی انتخابات کرانے کی پابند ہوتی ہے خواہ صورت حال کچھ بھی ہو۔ اس قانون کے مطابق ہر چار سال بعد انتخابی ڈھونگ رچانا ہر سیاسی جماعت کی قانونی مجبور ہوتی ہے۔ بصورت دیگر سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ہی منسوخ کر دی جاتی ہے۔ لہذا رجسٹریشن کو بحال رکھنے کے لئے سیاسی جماعتوں کو انٹرا پارٹی الیکشن کا سوانگ رچانا قانونی پابندی ہے۔
جماعت اسلامی کے سوا شاید ہی کوئی جماعت قانونی تقاضے پورے کر کے الیکشن کمیشن کو جماعتی انتخابات کی رپورٹ جمع کراتی ہے۔ جماعتی انتخابات کرانے میں تاخیر پر ایک بار چیف الیکشن کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی جماعتیں جس طرح انتخابات کراتی ہیں۔ ہمیں سب کچھ پتہ ہے لیکن اس کے باوجود انتخابات کرانے نہیں کرائے جاتے مسلم لیگ (ن) کے آخری بار انتخابات 2018 ء میں ہوئے تھے جب نواز شریف کو ملکی سیاست سے نکالنے کے لئے انہیں نہ صرف نا اہل قرار دے دیا گیا بلکہ پابند سلاسل کر دیا گیا نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سے محروم کرنے کے لئے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کا سہارا لیا گیا کچھ ایسی ہی صورت حال پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیدا کی گئی شریف خان کو جلاوطن ہونے پر مجبور کر دیا گیا پرویز مشرف دور میں مسلم لیگ (ن) کے حصے بخرے کر دیے گئے سرکاری مسلم لیگ جو بعد ازاں مسلم لیگ (ق) کے نام سے مشہور ہوئی قائم کر دی لیکن مسلم لیگ (ن) میں توڑ پھوڑ کے باوجود مسلم لیگ (ن) قائم رہی شریف خاندان کی جلاوطنی کے دوران جاوید ہاشمی نے قائم مقام صدر، راجہ محمد ظفر الحق نے چیئرمین اور چوہدری نثار علی خان نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھا پرویز مشرف کی ناراضی کے پیش نظر کوئی شخص مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس کے لئے ہوٹل یا ہال دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔
بلوچستان سے مسلم لیگی سینیٹر صوبیدار مندوخیل ہی تھے جنہوں نے اپنا فارم ہاؤس مرکزی جنرل کونسل کے لئے پیش کر دیا کچھ ایسی ہی صورت حال 1992 میں تھی جب سابق صدر غلام اسحق خان کے غیظ و غضب سے خوفزدہ ہو کر کوئی شخص ہال دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ یہ مرد پوٹھوہار حاجی نواز کھوکھر ہی جرات مند مسلم لیگی رہنما تھے جنہوں نے غلام اسحق کے فون اور نتائج کی پروا کیے بغیر اپنی رہائش گاہ کو مرکزی کونسل کے اجلاس کے لئے پیش کر دیا حاجی نواز کھوکھر کی رہائش گاہ پر اس موقع پر جن مسلم لیگی رہنماؤں کی موجودگی میں بند کمرے میں نواز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ان میں راجہ محمد ظفر الحق، چوہدری نثار علی خان، راجہ افضل، ملک نعیم، عبدالستار لالیکا حاجی نواز کھوکھر اور فدا محمد خان شامل تھے۔
ان میں سے اب دوچار ہی زندہ ہیں۔ باقی سب اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں جب نواز شریف کو پہلی بار پارٹی کا صدر بنایا گیا تھا تو ان کے ساتھ قد آور مسلم لیگی لیڈر تھے۔ حامد ناصر چٹھہ اور اقبال احمد خان تو نواز شریف کو مسلم لیگی نہیں تسلیم کرتے تھے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ج) کے نام سے الگ جماعت بنا لی چوہدری شجاعت حسین کی صدارت میں مسلم لیگ (ق) قائم ہے لیکن مسلم لیگ (ن) ہی چلی جس کے قائد نواز شریف کی مقبولیت نے مسلم لیگ (ن) کو ملک کی سب سے بڑی جماعت بنا دیا پرویز مشرف کا مارشل لاء لگا تو بیگم کلثوم نواز کے لئے کوئی مسلم لیگی اپنا دروازہ کھولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ یہ چوہدری تنویر خان جنہوں نے بیگم کلثوم نواز کو اپنے گھر مدعو کرنے پر دو سال سے زائد جیل کاٹی۔
مسلم لیگ (ن) کے سخت جان لیڈر سیاست کا موسم سرد ہو یا گرم نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے پچھلے 30 سال کے دوران دریاؤں کا پانی پلوں کے نیچے سے گزر گیا سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے۔ اقتدار کی جنگ میں مقابلے پر بھائی ہو یا باپ معافی کی گنجائش نہیں ہوتی کل تک نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے بارے میں کون کہہ سکتا تھا کہ دونوں کے راستے الگ ہوجائیں گے۔ سردار مہتاب احمد خان، اقبال ظفر جھگڑا کہاں ہیں؟ 12 اکتوبر 1999 ء کو نواز شریف کے حکم پر پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کے لئے کراچی ائرپورٹ پر جانے والا غوث علی شاہ کہاں ہے؟
نواز شریف کے قافلے کی قوت اعلی قیادت کی بے اعتنائی یا ان کی خواہش پوری نہ ہونے قافلے سے بچھڑ گئے ہیں جب مسلم لیگ (ن) اقتدار میں ہوتی ہے تو جناح کنونشن سنٹر میں مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس خوب منعقد کرتی ہے لیکن اب حکومت میں ہونے کے باوجود ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور انجم عقیل پر مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس کی ذمہ داری ڈالی گئی۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت کے بس میں ہوتا تو انٹرا پارٹی الیکشن میں مزید تاخیر کر دی جاتی اور نواز شریف کی واپسی پر انتخابات کراتی لیکن الیکشن کمیشن کی بار بار کی وارننگ کے بعد الیکشن کرانا پڑا۔
الیکشن کمیشن کی لٹکتی تلوار نے مسلم لیگی قیادت کو انتخابات کا ڈرامہ سٹیج کرنے پر مجبور کر دیا غالباً جماعت اسلامی پاکستان کی واحد جماعت ہے جس میں انتخابی عمل سیکرٹ بیلٹ سے ہوتا ہے جب کہ دیگر جماعتیں پہلے ہی سے طے شدہ امیدواروں کی بلامقابلہ کامیابی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک دو بار شناختی کارڈوں کے ذریعہ انتخابی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی تو جسٹس وجیہہ الدین صدیقی سے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا اسی طرح ایک بار جمعیت علما اسلام میں مولانا فضل الرحمنٰ کو مولانا محمد خان شیرانی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا انہیں بڑی مشکل سے مقابلے سے دستبردار کرایا گیا سیاسی جماعتوں مے گروپ بندی ہوتی اس کا اظہار عام طور پارٹی عہدوں کی تقسیم یا پارٹی ٹکٹوں کی کی الاٹمنٹ کے موقع پر کیا جاتا ہے۔
بعض اوقات گروپ بندی پارٹی کی تقسیم کا باعث بن جاتی ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن سے قبل ہی مریم نواز کو نہ صرف پارٹی کا سینئر نائب صدر بنا دیا گیا تھا بلکہ ان کو پارٹی کا چیف آرگنائزر بنا کر ان کی پارٹی میں پوزیشن مزید مستحکم کر دی گئی تھی۔ ابتدائی طور انہیں پارٹی کے 16 نائب صدور کے ساتھ پارٹی کی نائب صدر بنایا گیا تھا۔ ان کو سینئر نائب صدر بنائے جانے کے بعد سینئر نائب صدر شاہد خان عباسی نے اپنے اس عہدے سے استعفاٰ دے دیا ان کے استعفے کے کئی مطالب نکا لے گئے لیکن شاہد خاقان عباسی نے ان کے استعفے کو کوئی بڑی خبر نہ بننے دیا لیکن جب وہ پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں نظر نہ آئے تو پھر چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں انہوں نے پارٹی کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں شرکت کی بجائے پیرس میں ائر شو کو ترجیح دی لیکن اگلے روز ان کی لندن میں اپنے قائد نواز شریف سے ملاقات کر کے افواہوں کے غبارے سے ہوا نکال دی
مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں شہباز شریف نے اسحق ڈار پر تنقید کرنے والوں کو کھری کھری سنا دیں اور کہا کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں مریم نواز نے پارٹی الیکشن کے بعد سب سے پہلے سندھ مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ محمد شاہ اور جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل کو پارٹی عہدوں سے ہٹانے کا کام کیا مریم نواز کو پارٹی میں قبولیت حاصل ہے۔ انہیں اپنے انکلز کو پارٹی میں واپس لانے لے لئے ذاتی طور پر رابطے قائم کرنے چاہیں۔

