ایک ٹیکسی ڈرائیور اور بھارت کا ٹیکس سسٹم


ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے 1999

ایک دن مجھے ایک صاحب سے ملنے کے لیے ہوٹل سے کافی دور جانا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ سے راہنمائی حاصل کی۔ تو انھوں نے مجھے یہ کہا کہ اگر آپ ٹیکسی پر جاتے ہیں تو بہت وقت لگ سکتا ہے۔ راستے میں رش بھی ہوتا ہے لیکن سفر مشکل نہیں ہوتا۔ اگر آپ برداشت کر سکتے ہیں تو لوکل ٹرین پر سفر کریں۔ یہ مشکل سفر ہوتا ہے۔ میں نے ان کی بات سن کر طے کیا کہ میں ٹیکسی پر جاؤں گا اور واپسی لوکل ٹرین پر آؤں گا تاکہ میں دونوں طرح کا تجربہ حاصل کر سکوں۔

ممبئی میں اس وقت بھی ایک لاکھ سے زیادہ ٹیکسیاں تھیں۔ میں نے ایک ٹیکسی والے کے ساتھ سفر شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ شاید ہماری اسپیڈ پیدل چلنے والوں سے بھی کم ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے شہر کو بڑے اچھے انداز سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔ ممبئی ان شہروں میں سے ایک ہے جو تجارتی نقطۂ نظر سے برصغیر میں سب سے پہلے آباد ہوا۔ ممبئی کے نقشے کو دیکھیں تو آپ جان سکیں گے کہ یہ لمبائی میں زیادہ اور چوڑائی میں کم ہے۔ اس لیے اگر آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑے تو آپ کو طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا اور حسب معمول ڈرائیور سے باتیں کرنے لگا۔ وہ سفر تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ تھا اس لیے مجھے ان صاحب کے ساتھ بہت ساری باتیں کرنے کا موقع ملا۔

چند باتیں انتہائی دلچسپ ہیں جو میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

ٹیکسی ڈرائیور راجستھان کے کسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ راجستھانی لہجے میں بات کر رہے تھے جسے وہ کھڑی بھاشا کہتے ہیں۔ اس کا ذکر میں نے دلی سے متعلق لکھتے ہوئے کیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کتنے بھائی ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ دو بھائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مجھے ایک کہاوت بھی سنائی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ وہ کہاوت کچھ یوں تھی کہ ”ایک کی ماں اندھی اور دو کی ماں کانی“ ۔ میں نے ان سے اس کا مطلب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اگر ایک بیٹا ہو تو ماں کو پوری دنیا میں صرف اپنا بیٹا ہی نظر آتا ہے باقی دنیا کے لیے وہ اندھی ہوتی ہے۔ دو بیٹے ہوں تو پھر وہ ایک آنکھ سے بیٹوں کو اور دوسری آنکھ سے پوری دنیا کو دیکھتی ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ٹیکسی آپ کی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ٹیکسی میری ہے لیکن میرے نام پر نہیں ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ یاد رہے کہ یہ 1999 ء کی بات ہے۔

اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام بہت سخت ہے۔ میں بڑی دیر سے ممبئی میں ٹیکسی چلا رہا ہوں میرے پاس کچھ پیسے بھی اکٹھے ہو گئے تھے لیکن میں ٹیکسی نہیں لے سکتا تھا کیونکہ میں انکم ٹیکس نہیں بھرتا تھا۔ یہاں پر قانون ہے کہ وہی ٹیکسی خرید سکتا ہے جو ٹیکس ادا کرتا ہو۔ میرے ایک کزن بینک میں کام کرتے ہیں۔ میں نے یہ پیسے انھیں دے دیے اور انھوں نے مجھے بینک سے گاڑی لے کر دی۔ اب وہ بینک کو اس کی قسطیں ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے یہ گاڑی کیسے لی ہے تو میں بتاتا ہوں کہ بینک سے قرض لے کر خریدی ہے۔ اس طرح میں بغیر ٹیکس دیے گاڑی خریدنے میں کامیاب ہو گیا۔

میں نے اس سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تعلقات کے بارے میں پوچھا۔ اس کا جواب بہت خوشگوار نہیں تھا۔ میں نے بھارت کے شمال اور جنوب میں کئی لوگوں سے مسلمانوں کے بارے میں پوچھا ہے۔ ان کے خیالات سننے کے بعد میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ سب ایسا ہی ہے لیکن میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کے شمال میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس قدر ہم آہنگی نہیں ہے جس قدر جنوبی بھارت میں پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جتنے بھی فاتحین آئے ؛ جو انتہائی جنگجو تھے، انھوں نے شمال میں واقع مختلف ہندو ریاستوں کو ختم کیا اور ان علاقوں پر اپنی حکمرانی قائم کی۔ ان کی آبادی کبھی بھی دس فیصد سے زائد نہ رہی جبکہ جنوب میں بہت سے مسلمان تجارت کی غرض سے آئے اور انھوں نے وہاں کوئی جنگ نہ کی بلکہ امن سے رہے اس طرح یہاں پر ایسے بہت سے شہر موجود ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد چالیس فیصد سے بھی زائد ہے۔

ٹیکسی میں سفر کرتے کرتے میں نے ارد گرد بہت ساری ایسی چیزیں دیکھیں جو بہت ہی دلچسپ تھیں۔ ایک جگہ گائے اور اس کے ساتھ چارہ بیچنے والا بھی موجود تھا۔ آپ کو اس بات کا علم ہو گا کہ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں اسے بے حد مقدس سمجھتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کئی لوگ گائے کے پاس سے گزرتے ہوئے چارے والے سے چارہ خرید کر گائے کو ڈال رہے تھے۔ یہ ایک طرح سے ان کا گاؤ ماتا کے لیے احترام تھا۔ یہ بالکل اسی طرح سے جیسے لاہور میں ہمارے ہاں لوگ نہر کے کنارے گوشت لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور لوگ ان سے گوشت خرید کر پرندوں کو ڈالتے ہیں۔

اگر آپ کا راوی کے پل سے گزرنے کا اتفاق ہو تو وہاں پر بھی لوگ اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ لوگ دریائے راوی میں سکے بھی ڈالتے تھے۔ کچھ لوگ پرندوں کو دانہ ڈالنا بھی ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ ثواب کا یہ تصور تقریباً ًہر جگہ پایا جاتا ہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ممبئی میں پیپل کے درخت کے نیچے کئی مورتیاں رکھی ہوتی تھیں اور لوگ آتے جاتے وہاں پر بھی کچھ سکے ڈال دیتے تھے۔ آپ نے لاہور میں بھی دیکھا ہو گا کہ اکثر سڑکوں کے کنارے موجود مزاروں پر بھی لوگ آتے جاتے کچھ نہ کچھ ڈال دیتے ہیں۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایسا صرف پاک و ہند میں ہی نہیں ہوتا بلکہ میں نے ایک منظر تائیوان میں بھی دیکھا جہاں بدھ مت کے ماننے والے رہتے ہیں۔ تائیوان کے ایک ٹیمپل میں جعلی کرنسی نوٹ ملتے تھے۔ لوگ اصلی نوٹ دے کر بہت سے جعلی نوٹ خرید لیتے تھے اور پھر ان کو وہیں پر آگ میں جلا دیتے۔ میں نے اپنے میزبان سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آگ میں جتنے نوٹ جلیں گے اتنے ہی اصلی نوٹ ہمیں دوبارہ مل جائیں گے۔

Facebook Comments HS