حضرت سلطان محمد مراد شاہ


انبیاء اور رسولوں کے بعد صحابہ کرام، خلفائے راشدین، تبع تابعین اور اولیائے کرام نے پوری دنیا میں اسلام کا پرچم سربلند کیا۔ اولیائے کرام نے توحید کا جو بیچ بویا اس کی مثال نہیں ملتی اسی توحید کے بیچ نے اسلام کی ترویج کا کام کیا۔ اسلام کے جتنے بھی پیروکار ہیں آج تک سب امن و سلامتی اور صبر و تحمل کا درس دیتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں اسلام اس وقت آ چکا تھا جب کہ کسی صوفی کا اس دنیا میں وجود تھا نہ تصوف کا۔ گو دوسری صدی ہجری کے اواخر یا تیسری صدی کے اوائل میں چند ایک بزرگوں کو صوفی کہا جانے لگا تھا۔ تاہم ان کی ابتداء تیسری صدی ہجری میں شمار ہوتی ہے۔ اور جو صوفیائے کرام برصغیر پاک و ہند میں تشریف لائے اور ان کی وساطت سے ہند میں اشاعت اسلام کا کام ہوا، ان میں سے دو ہستیاں ہی زیادہ مشہور ہیں جو پہلے پہل تشریف لائیں۔

پہلے حضرت علی ہجویری ( 1009 ء تا 1072 ء / 400 ہ تا 465 ہ) ہیں، یہ ہندوستان میں 1069 ء / 462 ہ میں تشریف لائے اور دوسرے بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ( 1142 ء تا 1235 ء / 537 ہ تا 633 ہ) ہیں۔ جن کی ہندوستان میں آمد کی تاریخ دس محرم 561 ہ بمطابق 1161 ء بتلائی جاتی ہے، جو کہ سخت مشکوک ہے۔ تذکرہ نگاروں کے بیان کے مطابق یہ تاریخ بھی 577 ہ اور 580 ہ کے درمیان ہونی چاہیے۔ پاکستان اولیاء اکرام کی دھرتی ہے جس میں ہزاروں اولیاء اکرام مدفون ہیں۔

اس طرح ایک اللہ والے جن کا مزار پاکستان کے صوبے کے پی کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے 26 کلومیٹر دور ایک گاؤں لنڈا شریف میں واقع ہے۔ آپ رحمت علیہ حضرت سید مبارک شاہ کے فرزند ارجمند ہیں۔ آپ کا پورا نام سلطان العارفین حضرت سلطان محمد مراد شاہ ہے۔ حضرت سلطان مراد شاہ رح نے مشہد سے لنڈہ شریف ہجرت فرمائی۔ آپ حضرت سلطان نورنگ کھیتران کے پہلے خلیفہ اول تھے۔ حضرت سلطان نورنگ کھیتران کا مزار تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع ہے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کا دور 1100 ہ رہا ہے۔ حضرت سلطان باہو آپ کے ہم عصر تھے۔ آپ کا طرز زندگی سلاطین جیسی شان و شوکت کی طرح ہوتی ہیں آپ کی طبیعت میں جلال، ہیبت، رعب اور دبدبہ تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا قد مبارک درمیانہ رنگت گوری گیس مبارک انتہائی گھنی تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے شکار کے بھی کا شوقین تھے۔ اسی وجہ سے آپ کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں گھوڑے تھے۔

روایت میں ہے۔ سلطان مراد شاہ اپنے پیر و مرشد حضرت نورنگ کی نماز تہجد کے وضو کے لئے پانی کا لوٹا بھرنے کے لئے کنویں پر تشریف لے گئے۔ آندھی کی وجہ سے پانی لوٹے میں نہیں جاتا تھا آپ نے لوٹے کو پانی بھرنے کے لئے سے نیچے رکھ کر کنویں کو چکر دینے لگے جب آپ لوٹے کے پاس آئے تو دیکھا ایک شخص پانی کا لوٹا بھرے کھڑا ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، اے شخص تو میرے کام میں دخل کیوں دیتا ہے جو پانی کا لوٹا تو نے بھرا ہے خالی کردو اس نے فوراً اس کو خالی کر دیا۔

سلطان مراد شاہ صاحب پھر کنویں کو چکر دینے میں مصروف ہو گئے جب آپ واپس آیا تو وہ شخص پھر پانی کا بھرا ہوا لوٹا پکڑے کھڑا تھا۔ غرض اس شخص نے یہ تین بار ایسا کیا۔ سلطان مراد شاہ نے اس شخص سے مخاطب ہو کر کہا اے میرے بار بار منع کرنے کے باوجود ایسا کیوں کرتے ہو تو اس شخص نے کہا اے مراد، تم مجھے نہیں جانتے۔ میں خضر علیہ السلام ہوں۔ تو کیا دریاؤں کا خضر، میرا خضر، میرا پیر ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ پانی کا بھرا ہوا لوٹا لے کر اپنے پیر کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سلطان نورنگ کھیتران نے فرمایا اے مراد تم نے دیر کیوں کردی۔ آپ نے تمام ماجرا اول سے آخر تک بتا دیتا ہے یہ سن کر آپ کو حضرت سلطان نورنگ نے نور معرفت سے سرفراز کیا ( بحوالہ منا قب مرادیہ 6 )

اس کے علاوہ آپ کے اور بہت سے کرامات آپ کی سوانح عمری میں ان کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔ آپ رح کی کرامات اگلی نشست میں بیان کرو گا۔

آپ رح نے اپنے پیر و مرشد حضرت سلطان نورنگ کھیتران کے حکم سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں لنڈہ شریف تشریف لائے اور توحید کا کام شروع کیا۔ آپ نے ہمیشہ توحید اصلاحی، معاشرے کی اصلاح اور براہی کے خاتمے کے لئے ایک ہو کہ کام کیا۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے انبیاء اور رسولوں کے بعد صحابہ کرام، خلفائے راشدین، تبع تابعین کے بعد اسلام کا درس عام لوگوں تک امانت سمجھ کر پہنچایا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے پہلے خلیفہ پیر خیر محمد شاہ نے آپ کا کام جاری رکھا۔ اپ کے مزار شریف پر ہزاروں کی تعداد میں زائرین، مریدین اور عقیدت مند نہ صرف کے پی کے بلکہ پنجاب بھر سے بھی آتے ہیں، خاص کر جب نیا چاند ہوتو لوگوں کا ایک رش سا ہو جاتا ہے۔ آپ کا عرس ہر سال 9 اور 10 محرم کو بڑی عقیدت و احترام سے منایا جا تا ہے۔

Facebook Comments HS