حسن منظر کی افسانوی دنیا


گزشتہ جمعے بتاریخ تئیس جون جوش ملیح آبادی لائبریری آرٹس کونسل میں ریڈر اینڈ رائٹر کیفے کی روح رواں ڈاکٹر تنویر انجم کے زیر سایہ ایک پروقار ادبی نشست ایک پروقار اور اردو ادب کی ایک ذی وقار شخصیت حسن منظر کے ساتھ منعقد کی گئی۔

اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس نشست میں جناب حسن منظر صاحب بنفس نفیس موجود تھے جس کے لئے نہ صرف حاضرین نشست ڈاکٹر تنویر انجم صاحبہ کے شکر گزار اور ممنون تھے بلکہ بذات خود حسن منظر صاحب نے بھی اپنی موجودگی کی اس کاوش کو بہت خلوص اور تہہ دل سے بڑی صراحت سے سراہا۔

اس نشست کی ترتیب کچھ اس طرح تھی

افضال احمد سید : نے حسن منظر کے ڈرامے ”صدر مملکت کا خودرو پھول: کا ایک تجزیہ“ زرد پتوں کے بن میں صدر مملکت کا خودرو پھول کے عنوان سے پیش کیا۔

ڈاکٹر تنویر انجم : نے ”حسن منظر کی کہانیوں میں تنہا خواتین کا شعوری ارتقا“ پر اپنا مضمون حاضرین نشست کے روبرو پیش کیا۔

ڈاکٹر رخسانہ صبا : نے ”حسن منظر کے ناولوں کے تاریخی تناظر“ کو بہت طوالت اور سیر حاصل مطالعے کے دائرے میں بڑی روانگی اور آسانی کے ساتھ حاضرین نشست اور مہمان خاص کی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ بڑی دلجمعی کے ساتھ پڑھا۔

اقبال خورشید : نے ”حسن منظر کا فکشن، ذاتی تجربات اور دلپذیر اجنبیت“ کے عنوان تلے اپنے مقالہ نما مضمون کو اپنے بیانیہ اسلوب سے تہہ در تہہ کھولتے کھولتے اختتام تک پہنچایا جنھوں نے حاضرین نشست کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

رفاقت حیات: نے ”سوئی بھوک کے افسانے“ پر مضمون لکھا تھا جو ان کی موجودگی میں خالد معین نے بہت اچھے انداز میں پڑھ کر سنایا اور حاضرین نشست نے پسند کیا۔

اس پروگرام کی میزبان ڈاکٹر یاسمین سلطانہ فاروقی تھی جنھوں نے اپنی جاذب شخصیت کی طرح اس پروگرام کو بھی بہت جاذبیت کے ساتھ اول تا آخر اپنی گرفت میں رکھا اور حاضرین نشست کی توجہ کی مستحق ٹھہری۔

جیسا کہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں حسن منظر صاحب اردو فکشن کی ایک عظیم شخصیت ہیں۔ وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اور یہاں میں انہیں متعارف کرانے کی جسارت نہیں کروں گا کیونکہ وہ اپنا تعارف خود اور ان کی تخلیقات ہیں۔ وہ اب شاذونادر ہی گھر سے نکلتے ہیں۔ لیکن یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ اس پروگرام میں نہ صرف ان کی تخلیقات سے ہم سیراب ہوئے بلکہ ان کے دیدار کی جو تشنگی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔

سب سے پہلے رفاقت حیات کا مضمون ”سوئی بھوک کے افسانے“ جو خالد معین نے پڑھ کر سنایا بڑا لائق توجہ تھا۔ اس میں شامل ایک ایک افسانے پر اپنی تنقیدی نگاہ بڑی عرق ریزی سے ڈالی۔ اس مضمون میں حسن منظر کی تخلیق اور تخلیقی شخصیت کو بین الاقوامی شخصیت گردانا گیا اور ان کی تخلیقات کو بین الاقوامی زبانوں میں منتقل کرنے کی استدعا کی گئی اور ساتھ ساتھ صاحب مضمون نے حلقہ ہائے ادب سے یہ بھی گلہ کیا کہ اگر حسن منظر دوسری قوم کی زبان کے شاعر ہوتے تو اب تک ان کو نوبل ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہوتا۔

انھوں نے حسن منظر کو اس نظر سے بھی دیکھا کہ چونکہ وہ ایک سائیکیٹرسٹ ہیں تو وہ اپنی کہانیوں میں انسانی کرداروں کا تجزیہ یا تحلیلی نفسی بڑی احسن طریقے سے کر جاتے ہیں۔ چونکہ حسن منظر ایک ترقی پسند سوچ کے لکھاری ہیں اس لئے وہ سماجی حقیقت نگاری کے پھیلاؤ کے بل بوتے لکھی گئی کہانیوں کی وجہ سے اپنے ہم عصروں اور پیشروؤں سے سبقت لے جاتے ہیں۔ سوئی بھوک نو کہانیوں پر مشتمل مجموعہ ہے جس کی پہلی کہانی مال غنیمت ہے کو تقسیم کے موضوعہ پر لکھا گیا ہے جس میں معصوم کی زندگی اور مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے اور ان کے سامان میں سے جو شیلڈ ان کومل جاتا ہے وہ ان کی زندگی کا حاصل ہوتا ہے۔

دوسری کہانی ایک سائیکیٹرسٹ کی ہے جن کو سننے کے لئے جوان لڑکے اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہر عمر کے نفسیاتی مریض آتے ہیں تو ان کے ساتھ بھانت بھانت کی کہانیاں ہوں گی۔ اس کے بعد کہانی ایک موت جس پر کوئی نہیں رویا در اصل ایک لائبریری کی بندش پر ہے جو ختم ہوئی اور اس کی بندش پرنہ کسی طالب علم، نہ کسی استاذ، نہ کسی اخبار یا سیاستداں نے کوئی احتجاج کیا۔ اور یہ آخر میں اداس کرنے والی کہانی ہے۔ سوئی بھوک خود سندھ اور بلوچستان کے ہاریوں کی حالت زار، طبقاتی کشمکش اور ان کی سماجی اونچ نیچ کی دی ہوئی بھوک کے گرد گھومتی ہے۔

اس کے بعد خدشہ افسانہ بھی ایک نچلے طبقے کے ایک خاندان کے گرد گھومتا ہے جس میں والدین اس وجہ سے وہ محلہ چھوڑتے ہیں کہ ادھر ان کی بچے کی زندگی خراب ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد ایک بڑے گھر کی کہانی ہے جو رسومات اور روایات سے محروم ہیں۔ اس کے بعد دو آزاد خیال بہنوں کی کہانی ہیں جس میں ایک بہن احسن نامی لڑکے سے محبت کرتی ہے اور شادی سے پہلی جنسی ملاپ میں مبتلا ہو جاتی ہیں لیکن شادی کے بعد ان کے ساتھ محبوب کا جو رویہ ہوتا ہے اور ان کا یہ جملہ کہ آپ کے جسم میں نیا کیا ہے؟ کہانی کا کلائی میکس ہے۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے اور اس میں ایک ناول کی بھی چاشنی موجود ہے۔

اس کے بعد اقبال خورشید نے حسن منظر کا فکشن، ذاتی تجربات اور دلپذیر اجنبیت کے عنوان سے اپنا مضمون پڑھا۔ جمیں انھوں نے شروعات خود ایک افسانوی انداز سے کیا اور ایک ساحلی شہر میں افسانوی کہکشاں میں دو ستاروں کی کھوج کی بات کی جس میں سے ایک اسد محمد خاں اور دوسرے حسن اکبر نمودار ہوئے۔ انھوں نے کہاں کے دونوں کئی جہات سے ایک دوسرے سے الگ ہیں لیکن کئی حوالوں سے ایک جیسے بھی ہیں۔ دونوں اپنی اپنی کہانیوں کو مانجھتے رہتے ہیں۔

حسن منظر کے ناولوں میں ایک ازخود قسم کی اجنبیت ہے اور ناول بھی نئے پن کے اساس کا نام ہے اور اس میں جو زندگی ہوتی بھی ہے وہ نامعلوم ہوتی ہے۔ ان کے ناولوں میں اجنبی ماحول مقامی لوکیل یا سیٹنگ کا ماحول کے ساتھ ساتھ یاداشت کے نوٹس کا اہتمام ہوتا ہے۔ انھوں مزید یہ کہا کہ وہ ساری دنیا گھومے اور ہر جگہ کے کردار اور کہانیاں ان کی مقامیت اور کرداروں کے ساتھ تخلیق کی ہیں۔ وہ جب واپس لوٹے تو ان کے پاس لکھنے کو بہت کچھ تھا لیکن اسد محمد خاں، مستنصر حسین تارڑ اور عبداللہ حسین بہت کچھ لکھ چکے تھے۔ لیکن حسن منظر کے پاس بھی لکھنے کو بہت کچھ تھا وہ پریم چند سے ضرور متاثر تھے لیکن جب ہم ان کی تخلیق کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں حسن منظر ہی نظر آتے ہیں۔

اس کے بعد ڈاکٹر رخسانہ صبا نے حسن منظر کے ناولوں کے تاریخی تناظر پر اپنا تفصیلی مضمون پڑھا۔ انھوں نے سب سے پہلے آغاز اس طرح کیا کہ ناول کا مرکزی کردار بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ حسن منظر کا کام ناول میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور ان کے ناول متنوع موضوعات پر مشتمل ہیں۔ العاصفہ میں بڑی تخلیقی ہنرمندی ملتی ہے۔ یہ ایک سو چھہتر صفحات اور ستائیس ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ ناول عرب کے بدو معاشرے پر لکھا گیا ہے۔

اس ناول میں خاندان، ریاست اور عالمی استعماری موضوع بحث ہے۔ اپنے تبصرے میں ڈاکٹر صاحبہ نے انیس سو تئیس سے لے کر دو ہزار تئیس تک امریکہ اور عرب کی تیل کے سبب تعلقات اور عدم تعلقات کو ڈسکس کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس ناول کے کردار بہت جان دار ہیں۔ دوسرا ناول وبا روایتی ناول سے ہٹ کر ہے۔ اس میں کہانی ایک ہسپتال کے گرد گھومتی ہے اور انیس سو پچاس سے لے کر انیس سو اسی تک کا احاطہ کرتی ہے جب چیچک کی وبا، پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔

اور اس میں ہوسٹن کا ذکر بہت معنی رکھتا ہے جہاں جہاز رکتا ہے اور پھر چیچک کی بیماری پھیلتی ہے۔ آخر میں انھوں نے اس ناول سے یہ جملہ کہ ایک ساکت معاشرے کے لئے وبا اتنی ہی ضروری ہوتی ہے جیسے کہ جنگ، بھی اخذ کیا۔ دنی بخش کے بیٹے سندھ کی ثقافت پر لکھا گیا ناول ہے۔ انسان اے انسان سماجی رویوں پر لکھا گیا ناول ہے ماں بیٹی تانیثیت کے موضوع پر لکھا گیا ناول ہے۔ حسن منظر کے ناول نو تاریخیت کے ناول ہے اور ناول زبان اور ثقافت کے بغیر نہیں لکھا جا سکتا ہے لیکن حسن منظر ان سب کا احاطہ بڑی مہارت سے کرتے ہیں۔ اور آخر میں اس شعر پر اپنا مضمون کا اختتام کیا۔

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اس کی داستان معلوم ہوتی ہے

اس کے بعد نشست کے میزبان نے ڈاکٹر تنویر انجم کو اپنے مضمون کو پڑھنے کے لئے مدعو کیا جو حسن منظر کے افسانوں میں تنہا خواتین کا شعوری ارتقاء پر تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے آغاز ہی میں یہ دعویٰ کیا کہ ان کی نظر میں حسن منظر ایک فیمینسٹ لکھاری ہیں اور ان کی کہانیاں زمان و مکان سے آزاد ہیں وہ افتاد گان خاک ہیں اور ان کو فیمینسٹ کردار اور ان پر ظلم زیادتی جہاں بھی ہو اور جس ملک یا مذہب سے بھی ہو نظر آجاتی ہیں اور وہ اس پر کھل کے لکھ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ نے حسن منظر کی چار کہانیوں کو اپنے مضمون کے لئے منتخب کیا تھا۔ جس میں بپتا کی رات، رہائی، روکنگ چئیر اور میری چھوٹی سی دل کی تلیہ۔

بپتا کی رات کی کہانی ایران کی سیٹنگ میں ہے جہاں پر ایک اسلام پسند فوج ایک عورت کے ہاتھوں ایک عورت کو چالیس کوڑے لگواتی ہے اور اس دوران اس کے بچے ان کے انتظار میں بھوکے رہتے ہیں۔ کوڑوں کے بعد جب اس عورت سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے اس کوڑوں سے سبق حاصل کیا تو وہ ڈٹ کر جواب دیتی ہیں کہ نہیں، کیونکہ اس کے علاوہ اس کو روٹی کمانے کا کوئی ہنر نہیں اتا۔ اس افسانے میں حسن منظر صاحب کو اس عورت سے بھی ہمدردی ہے جو کوڑے لگانے کے اس کرخت عمل میں مردانہ وجاہت کی خاتون بنا دی گئی ہوتی ہے اور اس کی نسوانی جذبات کو ختم کر دیا ہوا ہوتا ہے۔

اس کے بعد دوسری کہانی رہائی ہے۔ جس میں ایک تعلیم یافتہ خوب رو لڑکی مرکزی کردار ہے اور اس کا اپنا اور سسرالی خاندان قدامت پسندی کی وجہ سے اس سے اس لئے نفرت کرتے ہیں کی وہ کسی سے نفرت ہے نہیں کرتی۔ اس کہانی مین ہندوستانی کلچر کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ لڑکی بانجھ ہوتی ہیں تو اس کا شوہر اس کو مزارات پر گھومتا پھراتا ہے اور گاڑی میں بھی اپنے ساتھ نہیں بٹھاتا اور اکیلے خالی ڈبے میں بٹھاتا ہے جہاں ایک مسلمان ٹکٹ چیکر اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے لیکن وہ اپنے آپ کی دفاع کر لیتا ہے اور ٹکٹ چیکر پکڑا جاتا ہے اور اس پر کیس چلتا ہے لیکن ٹکٹ چیکر کو رہائی ملتی ہے لیکن اس لڑکی کو اپنے خاندان والے اپنی عزت پر داغ سمجھتے ہیں اور ایک۔

ملیچ کے ہاتھوں اس کا جسم چھونے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ افسانے کے دوسرے فلیش میں وہ لڑکی ایک ویسٹ انڈین ڈاکٹر کے ساتھ سمندر کے کنارے کھیل رہی ہے اور اپنی آزاد خیالی میں خوش ہیں اور رنگ نسل زبان اور کلچر سے آزاد دو بچوں کی ماں ہونے کے ناتے ایک ڈاکٹر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد رولنگ چئیر دو بہنوں کی کہانی ہیں جو یتیم اور آزاد خیال ہوتی ہیں نانی بھی بچپن میں مر جاتی ہیں۔ ایک بہن حسن کے ساتھ محبت میں جنسی ملاپ کی عادی ہو جاتی ہیں اس کی بڑی بہن کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنا یہ عمل جاری رکھتی ہیں جبکہ حسن کی فیملی یہ سب کچھ اچھا نہیں سمجھتے اور حسن کا رشتہ اس کے ساتھ کرانے کے حق میں نہیں ہوتے ہیں لیکن حسن اس کے ساتھ شادی تو کر لیتا ہے لیکن شادی کی پہلی رات جب وہ اس کے قریب آ جاتا ہے تو اسے کہتا ہے کی تم میں نیا کیا ہے اور سو جاتا ہے۔

اس عمل سے وہ دل برداشتہ ہو کر حسن سے الگ ہو جاتی ہے اور روکنگ چئیر پر اپنی بہن کے پاس آ جاتا ہے۔ آخری کہانی میری چھوٹی سی دل کی تلیہ ایک ٹوم بوائے لڑکی کی کہانی ہے۔ جو ہجرت کے بعد لاہور آجاتی ہے اور بھاگ کر اپنی محبوب سے شادی کرتی ہے اور حاملہ ہونے کے بعد وہ لڑکا اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور لڑکیوں کی گروہ میں رہتی ہیں لیکن اس کی زبان کی وجہ سے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ جلد ہی اپنا کلاس کو سمجھ جاتی ہے اور اپنے بچے کی حفاظت کے لئے اپنی آیا کے پاس چلی جاتی ہے۔

آخر میں افضال احمد سید کو مدعو کیا گیا جنھوں نے حسن منظر کے ڈرامے صدر مملکت کا خودرو پھول کا تجزیہ زرہ سے بدل کر زرد پتوں کے بن میں صدر مملکت کا خودرو پھول کے عنوان سے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب دو ہزار دس میں شائع ہوئی لیکن ادب کے تنقید نگاروں کی توجہ اپنے جانب مبذول نہ کرا سکی شاید اس لیے کہ ڈرامہ ایک دشوار صنف ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار خود صدر مملکت ایک ہیں۔ اس ڈرامے کی سیٹنگ پاکستان ہو بھی سکتا ہے نہیں بھی ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان تک محدود نہیں رکھا جاسکتا ہے کیونکہ تیسری دنیا کے اکثر ڈکٹیٹر ایسے ہی ہوتے ہیں۔

اس ڈرامے میں دوسرا کردار صدر مملکت کی بیوی ہیں جو نامساعد حالات کے باوجود بھی ثابت قدم رہتی ہے۔ انھوں یہ بھی کہا کہ اس ڈرامے میں جگہ جگہ انگریزی کے جملے نظر آتے ہیں جو اس سے پہلے قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا میں بھی استعمال کیا ہے۔ سارا ڈرامہ ایک رات پر محیط ہے۔ اس ڈرامے میں حسن منظر نے تمام جذبات کا خیال رکھا ہے۔ اس میں متوسط طبقہ کی بھی ترجمانی ملتی ہے۔ آخر میں حسن منظر نے اپنے اعزاز میں نشست رکھنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ اور سوالات اور جوابات کے باقاعدہ یہ نشست اختتام کو پہنچی۔

Facebook Comments HS