ہرے پربت، بھرے میدان


میں اس شہر میں پہلے بھی کئی بار آ چکا ہوں لیکن ہر بار ایک نئی رنگت اس کے منھ پر دیکھی ہے۔ یہ احساس اندر کا کوئی موسم ہے یا باہر کے حالات کا اثر، کچھ معلوم نہیں۔ جب بھی اس شہر میں آؤ ایک نئی بہار اور نئی آمد کا اعلان سننے کو ملتا ہے۔ ایک نئی استراحت اور نئی دعوت دیکھنے کو ملتی ہے۔ چاہے جتنی کوشش کر لو، پھر بھی اس شہر میں آ کر جلدی جلدی یہاں سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا۔ یہ ایک کوہستانی میدان ہے، سبز پہاڑوں کے درمیان ایک رنگ برنگی پلیٹ، فطرت کی آغوش میں دھری ہوئی۔

اس پلیٹ میں شہر کے سرخ چھتوں والے خوبصورت مکان، بازار، دکانیں اور درختوں کے ذخیرے اگے ہوئے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ندیاں اور نہریں ہر طرف رواں ہیں۔ ہر مکان کے ساتھ ایک دلکشا کچن گارڈن ہے جو ایک کھلے سرسبز میدان یا گہرے گھنے جنگل سے جا کے لگتا ہے۔ کشمیر کے شہروں میں اس شہر کا حسن سب سے بڑھ کر ہے سوائے سرینگر کے اور کوئی شہر اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ آہ سرینگر۔ سندر ڈل کا شیتل جل جس کا سینہ کھول کے نکلتا ہے اور جس کے سات کدل (پل) ہیں اور جس کی دیواروں سے لگ کر دریائے جہلم ایک دھندلے خواب کی طرح گزرتا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ پانی کا یہ ذخیرہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔ دنیا میں سطح سمندر سے اس قدر بلندی پر کوئی شہر اتنا ہموار نہیں جتنے یہ دو شہر۔ سرینگر اور راولاکوٹ۔

ہم نے دو دن کا پروگرام بنا لیا۔ ایک رات راستے میں کاٹی۔ اور دوسری راولاکوٹ میں۔ قیام ازابیلا گیسٹ ہاؤس میں تھا جو ایک خوبصورت جھیل کے کنارے ابھی ابھی تعمیر ہوا ہے۔ ایک مقامی آدمی سے ہم نے ازابیلا ریسٹورنٹ کے متعلق پوچھا تو وہ حیرانی سے ہمیں دیکھنے لگا کہ یہ کون سی زبان بول رہے ہیں۔ مجھے بھی اتنی ہی حیرانی کا سامنا تھا کہ اس بازنطینی قسم کے نام کا یہاں کیا کام۔ گیسٹ ہاؤس کا ذکر بعد میں کروں گا پہلے اس سفر کے سبب کے متعلق سن لیں۔

راولاکوٹ میں ہمیں سدھن ایجوکیشنل کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا جس میں کل کشمیر مشاعرے کے انتظامات کیے گئے تھے۔ یہ تاریخ تھی 23، مہینہ اگست کا اور سال 2022۔ میں اپنے شاعر دوست اعجاز نعمانی کے ساتھ درجن بھر دوسرے شاعروں سمیت نیلہ بٹ کی طرف رواں دواں تھا۔ یہ کشمیر کلچرل اکیڈمی کا قافلہ تھا جس میں شہر کے جانے پہچانے شاعر شامل تھے۔ یہ قافلہ ایک اور محفل سخن میں شامل ہونے جا رہا تھا جس کا انعقاد یوم نیلہ بٹ کے حوالے سے کیا گیا تھا۔

سفر لمبا نہیں تھا۔ اس سے پہلے کئی بار یہ سفر کیا ہو گا۔ خاص کر سرکاری امور انجام دینے کے لیے۔ جب مجاہد اول پارک نیلہ بٹ کے مقام پر تعمیر ہو رہا تھا تو میں اس کام کی ٹیکنیکل ٹیم میں شامل تھا۔ اس لیے کئی چکر لگے، لیکن آج یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پہلی بار جا رہا ہوں۔ دل پر کوئی بار نہیں تھا، موسم نکھر نکھر کر سامنے آ رہا تھا۔ پہاڑوں پر سبزے کی بہار کچھ اس سے سوا تھی۔ ساون کے جھولے جھول رہے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے ان گھاٹیوں میں کوئی ماہی آ ماہی آ کے نغمے الاپ رہا ہے۔

اس مہینے میں رات کے وقت نیلہ بٹ کا موسم اتنا سرد ہوتا ہے کہ سردی دانت بجاتی ہے۔ لیکن اس بار ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات یوں بھی ظاہر ہوئے ہیں کہ اب وہاں ٹھنڈک تو ضرور تھی لیکن اس طرح کی سردی نہیں تھی۔ نیلہ بٹ کی اونچی اور یخ ٹھنڈی چوٹی پر شعر خوانی کے بعد ہم سب نیچے اتر آئے اور چمیاٹی کے مقام پر اپنے جگری ایاز عباسی کے گھر شب بسری کے لیے پہنچے۔ احمد عطا وہاں پہلے ہی اپنے ساز و سامان سمیت براجمان ہو چکے تھے۔

اعجاز نعمانی اور مخلص وجدانی پہنچے تو اس گھر میں گویا ایک تقریب ملاقات برپا ہو گئی۔ چائے کے دور چلے، شعر و ادب پر باتیں ہونے لگیں۔ تعلیم و تربیت پر بحث چھڑی تو کہیں سے کہیں جا پہنچی۔ رات گئے تک ہم آپس میں باہم الجھتے رہے۔ پھر اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے۔ جلد ہی معلوم ہوا کہ اعجاز کو بستر کی اجنبیت سونے نہ دے گی۔ میری بھی نیند اڑتی ہی رہی۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ اس نیند سے خالی کمرے کی خاموشی میں گپ شپ، گپ شپ کر کے اس وقت تک رات گزاری جائے جب تک کہ نیند کی دیوی مہرباں ہو کر ہمیں سلا نہ دے۔

آپ کی دوسری کتاب کی نظمیں پہلی کتاب جیسی ہیں یا مختلف؟ اعجاز نے پوچھا۔ مجھے لگا یہ سوال وہ پہلے بھی کئی بار پوچھ چکے ہیں۔ ”ایک دم مختلف“ میں نے کہا، ”بلکہ ہر نظم دوسری سے مختلف اسلوب، مختلف شعریات، مختلف موڈ، مختلف جنس رکھتی ہے“ ۔ میں نے ایک نظم سنائی تو وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور یوں ہم نے شعری ادراک و فہم کے اپنے اپنے پٹارے کھولنے شروع کر دیے۔ جدید ما بعد جدید، عصری، کلاسیکی، فن شعر، آرٹ، کہی ان کہی، لفظ، موسیقی، استعارہ، امیج، علامت، سمبل سارا کچھ ایک ملغوبہ سا بن کر ہمارے سروں سے بہنے لگا۔

اس سے پہلے میں سوچ رہا تھا کہ صاحب علم ہونا بھی ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اس لحاظ سے تھوڑا علم زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس سے انسان ایک تو علمی تکبر سے بچ جاتا ہے اور دوسرے یوم حشر کو لاعلمی کی خصوصی رعایت پاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ تھوڑا علم آدمی کو برانگیختہ کیے رکھتا ہے۔ تھوڑے علم والا خود کو سمندر سمجھ لے تو پھر بہت کچھ اس سونامی کی زد میں آ جاتا ہے۔ علم کا سمندر لا انتہا ہے اس کی اتھاہ تک پہنچنا ممکن ہی نہیں۔

جب کوئی انسان علم کی بلند ترین سطح یعنی سمندر کی انتہائی گہری سطح کو چھونے لگتا ہے تو وہ سمندر کی طرح ہو جاتا ہے۔ بالکل شانت، پر سکون، خاموش، پرشکوہ، جلالی، وسیع اور ہمہ گیر۔ لیکن ایک نشانی اس کی قوت برداشت ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کسی انسان کی قوت برداشت غیر معمولی ہو تو سمجھ لو کہ وہ شخص صاحب علم ہے۔ ہم دونوں واجبی علم ہی رکھتے ہیں۔ بلھے شاہ کی بات ”علموں بس کریں او یار“ پر سر دھنتے عمر گزار دی لیکن کبھی علم کی جستجو میں نہیں نکلے۔ اگر نکلے تو ادھورے۔ ہمارے سبق کبھی پورے نہ ہوئے۔ کتابیں خریدیں، اٹھائیں، ذخیرہ کیں۔ لیکن علم کا شوق کبھی پورا نہ ہوا۔ کتابیں اکٹھی کرنے میں اعجاز کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔

رات تیزی سے گزر رہی ہے اور ہم باتیں کرتے جا رہے ہیں۔ باتیں کرنے میں بھی اعجاز مجھ سے کئی درجے آگے ہے۔ مجھے تو صرف ہنسنا اور سننا آتا ہے۔ کھل کر ہنسنا بھی کم کم ہی ہوتا ہے۔ اعجاز کے قہقہے تو بہت بلند رہتے ہیں۔ انھی قہقہوں کے دوران میں ہی ہم نے اپنے اپنے کرداروں کو حاضر کر لیا اور وہ بھی ہماری روحوں میں حلول کر کے قہقہے لگانے لگے اور خاص لہجے کی پہاڑی بکنے لگے۔ پہلے اعجاز کا کردار بولا۔ ”اوووو۔ ووو۔ تہاڑا سر نی نا کم کرنا۔

ناں ں ں ں۔ کتاواں تو بڑیاں کٹھیاں کری کندھیاں پر علموں بس کریں او یار کے مصداق اچھا علمی کتابی بندہ (اعجاز کا کردار بیچ بیچ میں اردو بھی بولتا ہے ) نہ بنی سکیائیں ”۔ میرا کردار کہتا ہے“ تو وی تے علموں بس ای ایں۔ ڈریولی البتہ بڑی کمال ای تہاڑی۔ یہ سوانگ ہم اکثر رچاتے ہیں اور نہ جانے اپنی کون سی خواہش کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ ان دونوں کرداروں کا جو ہم پر کسی جن کی طرح آتے ہیں، کوئی نام نہیں لیکن ہم انھیں برسوں سے جانتے ہیں۔

اور اکثر ان کو دیکھتے سنتے رہتے ہیں۔ کبھی مظفرآباد کے پرانے بازار میں، کبھی گڑھی دوپٹہ کے قصبے میں اور کبھی چکار کے پرانے محلے کے کسی گوشے میں۔ ’آنچھا تے فیر۔ اساں او گل نہیں بولتے ہوئے انھیں ہم سنتے ہیں اور ان کے ساتھ اونچی آواز میں قہقہے لگاتے ہیں۔ یہ قہقہے ہماری میڈیسن ہیں۔ زندگی کی سختیاں اور کرب کی جو صورتیں ہمارے دلوں کے حساس ہونے کی وجہ سے ہم پر پکے رنگوں کی طرح چڑھ جاتی ہیں یہ قہقہے انھیں دو منٹوں میں دھو کر اڑا دیتے ہیں۔

رات بھیگتی جا رہی ہے لیکن ہمیں نیند نام کو نہیں۔ چلو ایک نظم سنو۔ میں اعجاز کو کہتا ہوں۔
”دو گیانی ایک گیان“
دو گیانی
دو خیال لے کر نکلے
ایک جنوب کی طرف
ایک شمال کی طرف
جنوب والے کے خیال میں
خدا مخلوق کی کثرت میں گم ہے
جب کہ شمال والا
اسے مخلوق سے باہر تلاش کرتا ہے
برسوں وہ اس سفر میں رہے
گھاٹ گھاٹ پھرے
نگر نگر گھومے
آخر اک ویرانے میں
دونوں
ایک دوسرے میں
داخل ہو گئے

نظم کے بعد ایک خاموش لمحے نے جنم لیا۔ رویا، ہنسا، کھیلا کودا، لڑکپن اور بڑھاپے سے گزرا اور پھر مر کر ایک آواز میں بدل گیا۔ ساری کائنات اسی روش پر چلتی ہے۔ مجھے نظم پر داد ملنے لگی۔ داد میں ایک اور آواز بھی شامل تھی۔ ایاز عباسی بھی چپکے سے کہیں فرش پر لیٹے نظم اور باتیں ہماریاں سن رہے تھے۔ نظم کے مندرجات تو وہی ہیں جو کئی ایک کے ہاں دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن یہاں ادبی زبان کے عدم استعمال نے ایک الگ سی طرز اپنا کر گویا ”کاف اور نون“ کا اعلان کیا ہے۔

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی یگانگت پر بڑے بڑوں نے لکھ لکھ کر میدان مارے ہیں۔ میری اس نظم کا جواز صرف طرز اور اسلوب کی جداگانہ حیثیت ہے اور کچھ نہیں۔ اور کیا پتا یہ صرف میرا خیال ہو۔ دوسرے کیا سوچتے ہیں اس بارے میں مجھے کیا معلوم۔ شاعروں ادیبوں میں کسی زعم میں مبتلا ہونا عام ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس بیماری سے محفوظ رہے۔ ان میں ایک محمد خالد اختر بھی ہیں۔ گزشتہ برس ان کی کچھ تحریریں بار دگر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اتفاق سے وہی صفحہ سامنے آیا جس پر انھوں نے ایک مشہور سفرنامہ نگار اور ادیب کی خبر اس لیے لی تھی کہ وہ اپنے آپ کو عظیم ادیب سمجھنے لگے تھے۔ حالانکہ اس وقت وہ نئے لکھنے والے تھے۔ محمد خالد اختر لکھتے ہیں :

”نوجوان مصنف نے ہر ایک کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی تھی کہ اردو میں اصل اور حقیقی سفرنامے صرف اسی نے لکھے ہیں اور بعد میں آنے والوں نے ان کی نقالی کی ہے۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ آیا اس نے کبھی سٹیونسن، ڈی ایچ لارنس، ماہام، ملر، گراہم گرین، ولفرڈ تھیسائجر اور بیسیوں دوسرے مغربی مصنفوں کے سفرنامے پڑھے ہیں۔ وہ اپنے سفرناموں کو ان کے مقابلے میں کیا مقام دے گا۔ ماضی کے کتنے ہی صاحب جوہر اور با کمال، جو اپنے دور میں اپنے متن میں سر دفتر اور پیشوا مانے جاتے تھے، ان کے نام اور کام سب خاک ہوئے۔ ان کو یاد کرنے والا کوئی نہیں۔ میرا ایلفا فراموش ہو گیا۔ اور تو اور بے چارے ارنسٹ ہیمنگوے کے اسلوب کی بھی ہنسی اڑائی جا رہی ہے۔ دلی اتنی نزدیک نہیں“ ۔

اب اگر کوئی اللہ کا پیارا رباعیات کی فارم اور مثنوی کا اسلوب اٹھا لے اور دعویٰ کرے کہ میں بھی مولانا روم اور عمر خیام کی طرح امر ہونے والا ہوں تو ہم اسے اللہ کا پیارا ہی کہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیق کا منشا یہی ہوتا ہے کہ وہ فنا سے بچ نکلے لیکن یہ ابدیت کسی کسی کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔ محمد خالد اختر نے ایلفا کا ذکر بڑی محبت سے کیا ہے۔ میرا ایلفا کہہ کر ۔ کیا جداگانہ اور پاک صاف اسلوب تھا ایلفا کا ۔ سادہ اور دلفریب۔ جس پر کبھی کوئی کلک نہ پھری تھی۔ ایلفا کا اصل نام اے جی گارڈینر تھا اور وہ ’ایلفا اآف دی پلوح‘ کے قلمی نام سے مضامین لکھتا تھا۔

آج اگر کوئی ایلفا جیسے شاندار اسلوب میں ایسے لکھ لے تو یہ بڑی توفیق کی بات ہو گی۔ اپنے دل کی آواز پر آج طویل عرصے بعد اس کا ایک ایسے ”آن ورڈ میجک“ انٹر نیٹ سے ڈھونڈنے لگا ہوں۔ اس کے مضامین کا ایک مجموعہ تھا ”لیوز ان دی ونڈ“ ، اس میں بڑے مزے کے مضامین تھے۔ یہ مضمون بھی۔ لیجیے پڑھنے لگا ہوں تاکہ لطف کے اس ذائقے میں ڈوب کر آپ کو بھی اس ایلفائی خوشبو میں شامل کروں۔ ذرا دیکھئے، الفا کیا لکھتا ہے اور کیسے لکھتا ہے۔ (صرف ایک پیراگراف)

Wordsworth, like Homer and Milton, and all who touch the sublime in poetry, had the power of transmuting a proper name to a strange and significant beauty. The most memorable example, perhaps, is in the closing lines of the poem to Dorothy Wordsworth:

But on old age serene and bright,
And lovely as a Lapland night,
Shall lead thee to thy grave.

”Lapland“ is an intrinsically beautiful word, but it is its setting in this case that makes it shine, pure and austere, like a star in the heavens of poetry.

اسی مضمون میں آگے جا کر ایلفا مزید لکھتا ہے :

Words of course have an individuality, a perfume of their own, but just as the flame in the heart of the diamond has to be revealed by the craftsman, so the true magic of a beautiful word only discloses itself at the touch of the master.

الفاظ واقعی جادو اثر ہوتے ہیں لیکن ان کا یہ جوہر اس وقت تک سامنے نہیں آتا جب تک یہ لعل کسی جوہری کے ہاتھ میں نہ آ جائیں۔ الفاظ اور ان کی اسی نشست و برخاست سے اسلوب، انداز، طرز کی شکلیں بنتی ہیں اور تحریر میں ایک اپنی وضع کی شان جلوہ نما ہوتی ہے۔ تاہم یہ ہنر سیکھنے سمجھنے میں زمانے کم پڑتے ہیں۔ شاعروں کو اس سحر کاری سے زیادہ کام رہتا ہے لیکن نثر لکھنے والوں کو بھی اس کی مشق کرنی پڑتی ہے۔

اسلوب کا تذکرہ ہمارے ہاں بہت ہوتا رہتا ہے۔ لیکن یہ کیا بلا ہے اس کا ادراک بہت سوں کو نہیں۔ کم از کم اس لفظ کی وہ شکل جو موم کی طرح نرم و ملائم ہے ہر کسی کی انگلیوں میں صورت پذیر نہیں ہو پاتی۔ ہزاروں پوریں ایسی ہوں گی جن کے لمس کو اس لفظ نے قبول ہی نہیں کیا ہو گا۔ اور انگلیاں ہیں کہ اپنے سامنے گھومتا چاک دیکھ کر سمجھ رہی ہیں کہ یہ جہاں انھوں نے ہی خلق کیا ہے۔ ارے بھائی ہزاروں میں دو تین ہی ہوتے ہیں۔

بقیہ ہم تم سب زنجیر کے حلقے ہیں اور بس۔ زنجیر بھی وہ جسے ہم نے خود اپنے ہی پیروں میں ڈال رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو زبان کی قید سے نکلو۔ پھر کچھ جان سکو گے کہ اسلوب کی طرف اٹھنے والا قدم کیسا ہوتا ہے۔ سنو! یہ ایک آزاد قدم ہوتا ہے۔ لسان اور نشان کی قید سے آزاد۔ پہلے ادبی زبان اور ادبی اشرافیہ کی قید سے نکلو۔ پھر ان سے وابستہ ہر قید سے نکلو۔ تب کہیں جا کر اسلوب کی راہ پکڑنے کے گر سیکھ پاؤ گے۔ اسلوب پر مجھے ابھی تک کوئی ایسی کتاب نہیں ملی جو عابد علی عابد کی کتاب ”اسلوب“ سے بہتر ہو۔

میں نے یہ جملہ ہر صاحب الرائے اور خالص ادیب سے سنا ہے۔ (میں خود بھی یہی خیالات رکھتا ہوں اگرچہ میں خالص ہونے کا دعوے دار نہیں ) ۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ صورت و معنی کا اشتراک ہی اصل بنیاد ہے جس پر اسلوب کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اعجاز چاہتے ہیں کہ اسلوب پر ہم سب اپنے اپنے خیالات پیش کریں۔ ایاز عباسی کہیں چپکے سے نکل گئے ہیں۔ مخلص بھی سو گئے ہیں۔ اب میں اور اعجاز ہی رہ گئے ہیں۔ رات کا عمل جاری ہے۔ دو وووووور کہیں کسی جانور کی آواز سے ماحول میں نشاط انگیز خوف کی لہر سی اٹھی ہے۔

”کھیت سے باہر، شاندار جھانک موٹی گردن اینٹھائے، پھیلے ہوئے بارہ سینگ تاج کی طرح لگائے خاموش کھڑا کچھ سوچ رہا ہے۔ ہاتھ پیر، سر یا آنکھیں کسی کو بھی جنبش نہیں ہے۔ صرف کان وقتاً فوقتاً ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر پھر جاتے ہیں۔ آنکھیں اس قدر تیز نہیں ہیں کہ برابر گھنے جنگل کی تاریکیوں میں پتا چلا سکیں۔ ہوا بھی مخالف ہے، کھیت سے جنگل کی طرف چل رہی ہے، اس لیے بو بھی نہیں لے سکتا۔ کانوں ہی سے کام لے رہا ہے۔

دور گھنے میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلکی کھس کھس ہوتی ہے۔ دائیں ہاتھ پر کسی جگہ سے بہت خفیف کھٹ کھٹانے کی آواز آ رہی ہے۔ ان دونوں آوازوں کی اسے مطلق پروا نہیں۔ یہ صاف پہچان گیا ہے کہ یہ آواز نیولی کے بچوں کے کھیلنے کی ہے اور دوسری جنگل کی نیلی کھٹ کھٹ بڑھئی کے درخت کی چھال میں سے کیڑے چننے کی ہے۔ جھانک اس فکر میں ہے کہ ابھی تھوڑی دیر ہوئی سال کے درختوں میں وہ جو زمین سے لمبی سی چیز کے ہلنے کا شبہ سا ہوا تھا، وہ دراصل شیر تھا یا کچھ اور؟ ”

جیسے ہم اقبال کے یا غالب کے شعر کو دور سے پہچان لیتے ہیں یا صادقین کی پینٹنگ کو دیکھتے ہی شناخت کر لیتے ہیں، اسی طرح جنگل اور جانوروں کی نفسیات پر جب بھی کوئی تحریر ایک خاص ڈھب میں سامنے آتی ہے تو یہی لگتا ہے کہ یہ سید رفیق حسین کا افسانہ ہے۔ اسلوب کا سارا قصہ شاید یہی ہے۔

اعجاز کو ٹھنڈے بستر میں اب اونگھ آنے لگی ہے۔ اور میں خیالوں ہی خیالوں میں رفیق حسین کے افسانوں کی دنیا میں پہنچ گیا ہوں۔ گھنی سرسبز جھاڑیاں، فرنوں سے ڈھکی ڈھلوان، سال کے اونچے لمبے پیڑ، تر زمین پر نرکل کا بستر۔ اور اس پر شیر، شیرنی اور ان کے بچے بے سدھ پڑے سو رہے ہیں۔

دیر تک ہم سوتے رہے۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سے بھری صبح آئی اور ہمیں پتا بھی نہ چلا۔ قریبی سڑک سے جب کوئی گاڑی گزرتی ہے تو چڑیوں کے گیت تھم جاتے ہیں۔ میں نے اٹھ کر باہر کا نظارہ کرنے کا سوچا۔ دھلی دھلائی دھیر کوٹ کی سرسبز پہاڑیوں پر دھوپ کا سونا چمک رہا تھا۔ سیب کے پیڑوں پر پھل کی رنگت کچھ سرخی اور کچھ زردی سے مچل رہی تھی۔ سبز نرمیلی گھاس کی پتیوں پر شبنم کے موتی ابھی اس کی نگاہ کے منتظر تھے جس کے لیے غالب نے کہا تھا

پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
(ناتمام)

Facebook Comments HS