پنشن ملے گی تو ٹیکس دیں گے!
” یار مجید تجھے یاد ہے کہ یہ ہمارا نیشنل بینک کب بنا تھا۔“ ”ہاں رؤف پاکستان بننے کے دو سال بعد 1949 میں پاکستان آرڈیننس کے تحت بنا تھا“ ۔ ہاں! پتہ ہے جب تک سٹیٹ بینک آف پاکستان نہیں بنا تھا یہ سینٹرل بینک کے انڈر آتا تھا۔ ”رؤف مزید کہنے لگا۔“ اس کی پہلی برانچ مغربی پاکستان میں پٹ سن بنانے والے علاقے میں کھلی تھی۔ ”مجید نے اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا:“ 1950 میں جدہ میں اس کی برانچ کھولی گئی اور پھر 1955 میں کلکتہ اور لندن میں۔
1957 میں بغداد میں کھلی۔ لیکن 1965 میں دشمنی کی وجہ سے کلکتے والی برانچ بند کر دی گئی۔ 1971 میں مغربی پاکستان کی تقسیم کے بعد وہاں کی برانچز بند ہو گئیں۔ پھر 1974 میں NBP کو نیشنلائزڈ کر دیا گیا۔ ”ابھی وہ دونوں بیٹھے ہوئے یہی باتیں کر ہی رہے تھے کہ ان کے دو اور پرانے ساتھی بھی آ گئے۔ یہ سب کسی زمانے میں اکٹھے ہی نیشنل بینک میں مختلف عہدوں پر نوکری کیا کرتے تھے روزانہ کی میل ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔
نیشنل بینک بہت سی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ جس میں مختلف قرضہ جات، پالیسی، زر مبادلہ، چھوٹے اور بڑے تجارتی قرضے، زرعی قرضے، مستند قرضے اور کاشت کاری کے قرضے وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اب یہ چاروں دوست ایک چائے کے ڈھابے پر بیٹھے اپنی ریٹائرڈ زندگی کے نشیب و فراز کی باتیں کر رہے تھے۔ مہنگائی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ مجید کہنے لگا“ یار پینشن والوں نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔ 61 سال سے لے کر 78 سال کے بوڑھے، لاغر، لا چار پینشنرز دھکے کھا رہے ہیں لیکن بینک کی انتظامیہ پینشنرز کو ان کے حقوق ہی نہیں دے رہی۔
”اسرار ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہنے لگا!“ ان گزرتے برسوں کے دوران بڑھنے والی جان لیوا مہنگائی بھی جینے نہیں دے رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ بچوں کی یونیورسٹی کے اخراجات پورے کروں یا بیوی کی بیماری کا خرچہ اٹھاؤں۔ اوپر سے پینشن بھی بروقت نہیں ملتی۔ ”“ تم بر وقت کی بات کرتے ہو۔ ”“ میں کہتا ہوں ملتی ہی نہیں۔ پچھلے دو برس سے میں اپنا جمع شدہ پیسہ توڑ توڑ کر کھا رہا ہوں۔ ”علیم نے بیچ میں لقمہ دیا۔ وہ سب تھوڑی دیر کو خاموش ہو گئے۔
میز پر پڑی چائے میں سے اپنی باقی ماندہ زندگی کے کھوئے ہوئے سکھ تلاش کر رہے تھے۔ سب نے چائے کے گھونٹ بھرے۔ چائے بھی ان کی زندگیوں کی طرح ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ ظاہر ہے ساری زندگی جبر مسلسل کی طرح گزری تھی۔ بچوں کو پالتے پالتے اپنی خواہشات کہیں کھو سی گئی تھیں۔ بچوں کے سنہرے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے جیسے تیسے زندگی گزار دی۔ اب اپنے اپنے دکھڑے سنا رہے تھے۔ سب نے اپنے کچھ بچوں کی شادیاں کر دی تھیں اور کچھ رہتے تھے۔
وہ سب بینکر دوست آنے والے دنوں کو پر مسرت سمجھتے تھے۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ مہنگائی کا اژدھا ایک مژدا بن جائے گا۔ اب انتخابات کی افواہیں اور ہوائیں بھی چل رہیں ہیں۔ سنا تھا پٹرول کی قیمت میں کمی کا منصوبہ تیار ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 % اضافہ اور پینشن میں 30 % اضافہ ہو گا۔ دوسری طرف مزدوروں کی اجرت کم از کم 40 ہزار ہو گی۔ اب سوچو چالیس ہزار لینے والے کے گھر کا بجٹ کیسے بنے گا۔ الیاس بولا“ پینشن کے مسائل بھی unsustainalbe ہو چکے ہیں۔
اب تو اس میں اصلاحات ہو جانی چاہئیں۔ وفاقی بجٹ میں جب پینشن فنڈ قائم کیا جاتا ہے تو پھر اس کے قوانین اور طریقہ کار پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا ہے۔ ”رؤف میرے یار سالانہ مکان کا ٹیکس اور دیگر اخراجات ادا کر کے اب میرے پاس سب سے چھوٹی بچی کی شادی کے پیسے بچے ہی نہیں۔ پریشان ہو کہ کس سے قرض لوں۔“ رؤف کہنے لگا ”ہاں یار! دیکھ پیٹرول، مشروبات، سگریٹ اور تمام اشیاء خورد نوش کوئی چیز ایسی نہیں جس پر ٹیکس مقرر نہ ہو۔
اب تو حکومت کو چاہیے کہ واک اور جاگنگ پر بھی ٹیکس لگا دے۔“ تمام دوستوں کے چہروں پر حیرت کے تاثرات ابھر آئے۔ ”اکٹھے ہی بول پڑے کیا کہہ رہے ہو تم؟“ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب لوگ مفت میں ہی پاکستان کی زمین پر چلتے ہیں اور مزے اٹھاتے ہیں لہذا ان کے اوپر بھی ٹیکس لگنا چاہیے ”۔ اب اگر ہماری ہی خدمت کے صلے میں ہماری پینشن نہیں ملتی تو ہم کون سادر کھٹکھٹائیں۔ نیشنل بینک آف پاکستان کے تقریباً 61 سے 95 سال کے ضعیف مظلوم پینشنرز ابھی تک پینشن کی لا حاصلی پر پریشان حال ہیں۔
وزیر اعظم سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ پینشنرز کی داد رسی کی جائے۔ پچھلے کئی برسوں سے مقدمہ لڑتے ہوئے تمام ملکی عدالتوں کے 70 % پینشن فارمولہ بحالی اور حکومتی پینشن ان کریز ادائیگی کے فیصلوں کے باوجود نیشنل بینک کی انتظامیہ ابھی تک متذکرہ فیصلوں پر عمل درآمد کرنے سے کیوں گریزاں ہے۔ 2018 سے لے کر اب تک گاہے بگاہے حکومتی بجٹ میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ نہیں دیا جا رہا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بینک ہذا کے ریٹائرڈ ملازمین کی پاکستان کے کسی بھی ادارے کے مقابلے میں سب سے قلیل و حقیر یعنی ان کی بنیادی تنخواہوں کا محض 30 % پینشن کا ریٹ ہے۔
اب بتائیے بھلا اس جان توڑ مہنگائی میں ہم شدید معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔ اب اس عمر میں کوئی نوکری بھی نہیں ملتی۔ کم از کم پینشن تو ملے تا کہ ہم جسم اور روح کے رشتے کو برقرار رکھ سکیں۔ تمام پینشنرز معزز چیف جسٹس آف پاکستان سے التجا کرتے ہیں کہ نیشنل بینک کے 15 ہزار بشمول 3 ہزار بیوائیں پینشنرز کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کو پینشن دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ آخر میں استدعا ہے حضور! ہماری عدلیہ کا نظام اتنی سست روی کا شکار کیوں ہے آخر؟ ہم بوڑھے پینشنروں کو انصاف دیا جائے تاکہ ہم اپنی زندگیوں کو چلا سکیں۔ دیکھیں ناں مہنگائی اور ٹیکس کتنے زیادہ ہو چکے ہیں۔ پینشن ملے گی تو ٹیکس دیں گے۔


