جمیل جالبی کا تہذیبی طرز احساس
سوات سے ہجرت کر کے برطانوی ہندوستان میں جا بسنے والے یوسف زئی پٹھانوں کا ذکر ایک ساتھ چھڑے یا کراچی شہر اور ادب کا تو میرے ذہن کے افق پر دو نام چمکنے لگتے ہیں ؛ان میں سے ایک افسانے کا کردار ہے اور دوسرا حقیقی مگر دونوں اردو ادب کے صفحات پر بھی دمک رہے ہیں۔ افسانوں کا کردار ہمارے محترم افسانہ نگار اسد محمد خاں نے لکھا ہے۔ انہوں نے بتا یا ہے کہ وہ کردار اصل زندگی میں بھی انہوں نے دیکھ رکھا تھا۔ اس کا نام عبد المجید تھا قوم کا یوسف زئی، تقسیم میں وہ وہیں سرحد پار ہی رہ گیا تھا مگر یہ کردار اسد محمد خاں کے افسانے میں یوں آیا ہے کہ عبد المجید یوسف زئی سے مئی دادا ہوا اور امر ہو گیا۔
دوسرا کردار آخر تک حقیقی اور اپنی ذات میں منفرد رہا۔ اسے کسی اور تخلیق کار کے قلم کے سہارے کی ضرورت نہ تھی کہ اس کے اپنے ہاتھ میں ایک مخلص محقق، ایک صاحب الرائے ناقد، ایک ذہین مترجم اور ایک تہذیبی دانشور کا قلم تھا۔ جی، علی گڑھ کے یوسف زئی پٹھانوں کے خاندان کا محمد جمیل خان جو بعد ازاں جمیل جالبی ہوئے اور جو اردو ادب کی تاریخ میں ایک ہی ہیں۔
”تاریخ ادب اردو“ اور جمیل جالبی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ یوں نتھی ہو گئے ہیں کہ ایک نام لیں تو دوسرا یاد آتا ہے۔ کہہ لیجیے دونوں ایک دوسرے کی پہچان ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے وہ انکم ٹیکس کے محکمے سے وابستہ ہوئے کہ رزق کمانا تھا۔ وہیں سے انکم ٹیکس کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے اور کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہونے سے لے کر علم و ادب کے دوسرے کئی اداروں کی سربراہی تک جس کام میں ہاتھ ڈالا وہ ان کی توقیر میں اضافہ کرتا گیا۔
ان کی شخصیت کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے علم و ادب کے میدان میں ایسے کام کیے ہیں جو فقط انہی کے قلم کا بخت ہوئے ہیں۔ ان کی دلچسپی کے موضوعات متنوع تھے ؛ مگر سوچ اور فکر میں تہذیب کا پاس تھا۔ عالمی ادب، اردو زبان، اردو ادب کی تاریخ، تحقیق، تنقید، قدیم مخطوطات کی تدوین اور سب سے بڑھ کراس خطے میں بسنے والوں کی ثقافتی اور تہذیبی شناخت ان کی دلچسپی کا علاقہ رہے۔
آج کی نشست میں میرا جی چاہتا ہے کہ جمیل جالبی کی شخصیت کے اس پہلو کا ذکر ہو جو ہماری آج کی قومی اور تہذیبی شناخت کے حوالے سے بہت اہم ہو گیا ہے۔ جالبی صاحب بھی اس باب میں بہت بے چین رہتے تھے اور ان ساری الجھنوں کو ہمارے ذہنوں سے رفع کرنے کے متمنی تھے جو ہمیں ایک قوم بننے کی راہ میں مزاحم ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جمیل جالبی کی یہ بے چینی 1960 ءکے فوراً بعد ان کے قلم کے راستے کاغذ پر منتقل ہونا شروع ہو گئی تھی اور اس باب کی باقاعدہ تصنیف 1964 ءمیں شائع ہوئی تھی جس کا عنوان تھا: ”پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ“ ۔
اس کتاب کے مقدمے میں انہوں نے اس کرب کا اظہار کیا ہے جو گزشتہ کچھ برسوں سے انہیں بے چین کیے ہوئے تھا۔ یہ کتاب اس موضوع پر اپنے زمانے کی پہلی کتاب تھی اور جالبی صاحب اپنے دل کا درد اپنے پڑھنے والوں ہی میں نہیں اس ملک کے دانشوروں اور مقتدر طبقے کے سینوں میں منتقل کرنا چاہتے تھے۔ پاکستانی کلچر کا مسئلہ جمیل جالبی کے نزدیک ہماری قومی بقا کا مسئلہ تھا اور اب یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی شدید ہو کر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے تب اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ کاش ان کے غور و فکر اور بے چینی سے ایسا نظام خیال پیدا ہو سکے جو ہمارے جدید ذہن اور ہمارے مادی، معاشرتی اور تہذیبی تقاضوں کو نہ صرف آسودہ کرے ہمیں ایک قوم ہو کر سوچنے اور اپنا لائحہ عمل مرتب کرنے کی راہ بھی سجھائے۔ اس کتاب کے 9 ابواب کے موضوعات پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جمیل جالبی کس رخ پر سوچ رہے تھے۔ اس کتاب کے دو ابواب تو مذہب اور کلچر ہی سے بحث کرتے ہیں، جی ایسے موضوع پر جس سے جدید ذہن اور مذہبی ذہن والے، دونوں کنی کاٹ کر نکل جانا چاہتے ہیں یا پھر کج بحثی پر اتر کر دست بہ گریباں ہو جاتے ہیں۔
جالبی صاحب نے ایک ایک نکتہ قرینے سے سلجھایا ہے۔ وہ آپ کی نظر میں سلجھا ہے یا نہیں اس پر بات ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے مگر جس تحمل اور دھیمے پن سے انہوں نے کتاب کے چالیس سے بھی زائد صفحات پر دلیل اور حوالوں کے ساتھ باب کی ہے اس پر رشک آتا ہے۔ باقی ابواب میں کلچر کے عناصر اور اس کی تشکیل پر بات ہوئی ہے۔ آزادی، تقسیم اور ایک مشترکہ تہذیب سے کٹنا، تہذیبی مسائل اور اس باب کے تضادات، قومی یک جہتی کی بنیادیں، مادی ترقی اور کلچر کے ارتقا جیسے موضوعات پر مباحث پڑھے جانے کے لائق ہیں۔ ایک مشترک کلچر کے فروغ میں زبانوں کے کردار کے علاوہ ذہنی آزادی اور تہذیبی عوامل اور جدید ذہن کی الجھنیں سب کچھ اس کتاب میں پڑھا جاسکتا ہے۔
وہ اگرچہ کلچر اور تہذیب کے دائروں کو نشان زد کرتے ہوئے الجھے ضرور ہیں اور بطور خاص ہند اسلامی تہذیب اور پاکستانی ثقافتی عناصر کے اختلافات، تضادات اور امتیازات نشان زد کرتے ہوئے ہم پڑھنے والوں کو الجھاتے بھی ہیں مگر مجموعی طور پر ان تمام مسائل کو نشان زد کرنے میں وہ کامیاب رہے ہیں جو پاکستان میں قومی اور تہذیبی سطح پر ہمارے انتشار کا سبب رہے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان کی تحریک ملی احساس کا نتیجہ تھی، یعنی نئے اور محدود جغرافیے کے اندر رہتے ہوئے بھی غیر جغرافیائی ہونے کی تحریک۔
اس میں ملی احساس کے ذریعے پھلنے پھولنے کا زبردست حوصلہ موجود تھا۔ پاکستان کا حصول اور اس کا جغرافیہ بہ قول جمیل جالبی دراصل ذریعہ تھا ملی آدرش کے حصول کا۔ مگر ہماری تنگ نظری یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کے قیام کے بعد ذریعے کو منزل بنا کر اس پر قناعت کرلی۔ بہ قول ان کے 1947 میں جغرافیائی تقسیم کے بعد جس ذہنی عمل سے ہم گزرے اس میں جغرافیائی حدود تو بہت واضح تھیں تاریخی حدود تاریکی میں چلی گئیں اور ہم کبھی موہنجوداڑو میں اپنا ماضی تلاش کر رہے ہوتے ہیں کبھی ٹیکسلا اور گندھارا کے کھنڈروں میں، اور کبھی محض علاقائی تہذیب پر قومی اور ملی تصور سے بے نیاز ہو کر فخر کر رہے ہوتے ہیں۔ تاہم آگے چل کر جمیل جالبی یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ بغیر ماضی کے نہ کوئی قوم بنتی ہے اور نہ ملک ملک بنتا ہے۔ بہ قول ان کے یہی وہ تضاد ہے جس نے ہماری معاشرتی، تہذیبی اور اخلاقی بساط کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔
اس مسئلے کی تشخیص کے بعد انہوں نے یہ علاج تجویز کیا تھا کہ ایک دفعہ پھر سے تخلیق پاکستان کی وجوہ پر غور کیا جائے۔ جمیل جالبی کے نزدیک ایسے کلچر کا فروغ وقت کا تقاضا تھا جس کے ذریعے ملی شخصیت اور قومی انفرادیت کو آزادی کے ساتھ برقرار رکھا جاسکتا مگر ایسا ہو نہ پایا اور یہی قومی سطح پر ہمارے انتشار کا سبب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد بھی جمیل جالبی کے ہاں قومی وجود کے حوالے سے بے چینی کم نہیں ہوتی۔ وہ دوسرے مصنفین کی ایسی کتب کی تلاش میں رہے جو اس مسئلے کو درست تناظر میں سمجھانے میں معاون ہو سکتی تھیں۔
ان کی نظر عزیز احمد کی انگریزی تحریروں پر پڑی تو انہیں جھٹ اردو میں منتقل کر دیا۔ عزیز احمد کی کتاب کا ترجمہ ”ہند و پاک میں اسلامی جدیدیت“ اور ان کے اپنے مضامین کے مجموعے ”ادب، کلچر اور مسائل“ مرتبہ خاور جمیل کو اسی ضمن میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ جمیل جالبی کی کتاب ”پاکستانی کلچر“ ہو یا عزیز احمد کی کتاب کا مقدمہ اور ان کی بعد میں شائع ہونے والی کتاب کے مضامین جن میں ادب، فکر، سائنس، ٹیکنالوجی، قومی کلچر، لوک ورثہ اور اس نوع کے دیگر مسائل پر قلم اٹھایا گیا ہے کاش ہم نے ان کی طرف تب دھیان دیا ہوتا جب جمیل جالبی اپنی ان تحریروں سے اپنا درد دل ہمیں منتقل کرنا چاہتے تھے تو شاید ہم اکہتر کے قومی سانحے سے بچ نکلتے۔
اور اگر ہمارا دولخت ہو جانا ناگزیر تھا تو اس سانحے کے بعد یوں گلی گلی، شہر شہر، اسمبلیوں اور عدالتوں میں باہم الجھ کر اپنے قومی وجود کو بکھیر نہ رہے ہوتے۔ اگرچہ بہت دیر ہو چکی مگر خدارا اتنی بھی دیر نہیں ہوئی کہ پاکستانی کلچر کی تشکیل کے لیے اپنے نظام خیال اور تہذیبی طرز احساس کو کام میں لاکر اپنا بچا کھچا وجود نہ بچا پائیں۔
۔


