عصر حاضر اور روسی ادب


عالمی افسانوی ادب میں روسی ادب کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ روس میں مختلف ادوار میں قابل ذکر مصنفین کی لکھی گئیں ادبی تحریریں، جن میں لیو ٹالسٹائی کی تحریر کردہ وار اینڈ پیس اور فیوڈور دو ستوئیفسکی کی کرائم اینڈ پنیشمنٹ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی ان ہی شہرہ آفاق تصانیف کی وجہ سے انیسویں صدی کو عالمی ادب میں روسی ادب کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔

انیسویں صدی کا روسی ادب اپنے اندر فطرت انسانی اور معاشرتی پیچیدگیوں کی بھرپور عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں نفسیات اور فلسفہ جیسے علوم سے بھرپور فائدہ لیا گیا ہے۔ چونکہ انسانی تعلقات کسی سائنسی مفروضے اور نظریہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے علم نفسیات اور فلسفہ انسان کو حقیقت پسندی کے نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ ہی وجہ تھی کہ روسی مصنفین نے بڑی باریک بینی سے ان کا مشاہدہ کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی ذہن کی عملی تصویر پیش کیں۔

روسی ادب کثرت سے حقیقت پسندی کی ایک مضبوط روایت پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، جس میں روزمرہ کی زندگی اور معاشرتی مسائل کی واضح تصویر کشی کی گئی ہے۔ ایوان ترگنیف کی فادرز اینڈ سنز اور اینٹن چیخوف کی دی چیری آرچر اور دی سیگل جیسی شہکار تحریریں، انسانی تعلقات اور معاشرتی تبدیلیوں کی باریکیوں کے بیان سے بھرپور ہیں۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں، روسی ادب میں الیگزینڈر بلوک، آندرے بیلی اور سرگئی یسینن جیسے شاعروں نے علامت پرستی کی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی خصوصیت استعارہ اور اشارہ آمیز تصویر کے ذریعے معاشرہ کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے شامل ہیں۔ علامت پرستی کی تحریک نے معنی اور شخصی تجربات کی گہری پرتوں کو تلاش کیا۔

روسی ادب کی بات کی جائے اور سوویت دور کا ذکر نہ ہو تو یہ سویت دور کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ سویت دور میں لکھا گیا ادب اس لئے منفرد سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس میں اس وقت کے نظریاتی اور سیاسی عوامل نے مصنفین کو بے حد متاثر کیا۔ بورس پاسٹرناک ( ”ڈاکٹر زیواگو“ ) اور الیگزینڈر سولزینٹسن ( ”ایوان ڈینیسووچ کی زندگی میں ایک دن“ اور ”گلاگ جزائر“ ) جیسے مصنفین نے اس وقت کی مشکلات اور تنازعات پر بات کی اور ریاستی پابندیوں کو بھرپور چیلنج کیا۔

روسی ادب اپنی گہرائی، خود اعتمادی اور انسانی حالت کی عکاسی کے لئے جانا جاتا ہے۔ اس کا اثر روس کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ روسی مصنفین کے کاموں کی تلاش، انسانی وجود کی پیچیدگیوں اور مختلف ادوار کے سماجی تانے بانے میں گہری بصیرت فراہم کر سکتی ہے۔

ساخت اور موضوعات کے لحاظ سے روسی ادب نے اردو ادب کی نشوونما میں ایک طویل اور وسیع کردار ادا کیا ہے۔ ان کی مماثلت اور باہمی پیچیدگی دونوں روایات کو ثقافتی اور ادبی تبادلے کے لئے اچھی طرح سے جگہ دیتی ہے جو آج بھی جاری ہے۔ گورکی، جس نے ادب کے اندر ترقی پسند عناصر اور معاشرتی تنقید کو متعارف کروایا، پاکستانی اردو کہانی نویسوں اور شاعروں کو بے حد متاثر کیا اور یوں انہوں نے اپنی متاثر کن ادبی تخلیقات کو ایک منفرد مقام بخشا جن میں فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے انقلابی شاعر اور سبط حسن اور سجاد ظہیر جیسے مصنفین کے نام قابل ذکر ہیں۔

تاہم، ایک بات جو بے حد تشویش ناک ہے اور وہ یہ کہ پچھلے تیس سے پینتیس سالوں میں اردو ادب میں کچھ ایسا خاطر خواہ کام دیکھنے میں نہیں آیا جس سے جدید روسی ادب کو نوجوان تک پہنچایا جا سکے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان اور روس کے درمیان ثقافتی، علمی اور ادبی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی اور کالج کے نصاب میں بالکل اس طرح روسی ادب کو متعارف کروایا جائے جس طرح انگریزی ادب کو متعارف کروایا گیا ہے ۔ اگر ایسا ہو جائے تو کم سے کم ہم ادب میں تو عصبیت پسندی سے جان چھڑا ہی سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS