عصر حاضر اور روسی ادب

عالمی افسانوی ادب میں روسی ادب کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ روس میں مختلف ادوار میں قابل ذکر مصنفین کی لکھی گئیں ادبی تحریریں، جن میں لیو ٹالسٹائی کی تحریر کردہ وار اینڈ پیس اور فیوڈور دو ستوئیفسکی کی کرائم اینڈ پنیشمنٹ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی ان ہی شہرہ آفاق تصانیف کی وجہ سے انیسویں صدی کو عالمی ادب میں روسی ادب کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کا روسی ادب اپنے اندر فطرت انسانی

Read more

میکاولی کا ”پرنس“ اور پاکستانی سیاستدان

اگر آپ سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کیسا انسان بننا چاہیے گے تو یقینا آپ کا جواب ہوگا کہ آپ ایک نیک اور ایماندار انسان بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آپ ایک اچھے انسان بننے کی خواہش رکھتے ہوں گے اور اچھا نظر آنا چاہتے ہوں گے کیوں کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ برا ہونا ایک برا خیال ہے۔ آپ کا عمومی خیال یہ ہوگا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے اور نہ ہی وعدہ خلافی کرنا کوئی اچھی

Read more

پرمینائیڈیز کا خواب

یہ کہانی ہے یونان کے اس فلسفی کی جس نے آج سے تقریباً تین ہزار پہلے بہت ہی اہم سوال اٹھا کر سب کو حیران کر ڈالا۔ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ ”ہے“ کا کیا مطلب ہے؟ دراصل اس کا یہ سوال اس کے دیکھے گئے ایک خواب کی پیداوار ہے۔

Read more

وزیر اعظم عمران خان اور سگمنڈ فرائڈ

تصور کریں کہ آپ پنجاب کے شہر صادق آباد میں کچھ دن اپنے کسی دوست کے مہمان ہوتے ہیں اور جب آپ اس کے ساتھ شہر کی سیر کو نکلتے ہیں تو آپ اپنے دوست سے پوچھتے ہیں کہ کیا اس شہر میں خواتین نہیں ہوتیں؟ آپ یہ سوال اس لئے پوچھتے ہیں کیوں آپ کو شہر میں سوائے مرد حضرات کے علاوہ بہت ہی کم خواتین بازاروں میں یا عام چلتے پھرتے دکھائی دیتیں ہیں۔ اب تصور کریں کہ

Read more

افلاطون، جمہوریت اور پاکستان

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی تحریریں حقیقت کی عکاسی کرتیں ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یقینا، ایسے لوگ دور اندیش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ حساس طبعیت کے مالک بھی ہوتے ہیں اور شاید اسی لئے ایسے لوگ دنیا میں کوئی کارنامہ دکھا کر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

آج سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے، یونان کے مشہور فلسفی، افلاطون نے جمہوریت کا جو نقشہ کھینچا تھا اس کی ایک قسم پاکستانی جمہوریت کی شکل میں نظر آتی ہے۔ گویا، اگر یوں کہا جائے کے افلاطون نے پاکستانی جمہوریت کا عکس بہت دکھا دیا تھا، تو بے جا نہ ہوگا۔

Read more

اندیشہ

مارچ دو ہزار بیس میں جب یہ اعلان کیا گیا کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے کرونا کی وبا کی وجہ سے ایک غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے اور تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن موڈ پر آ جائیں گی تو بحیثیت ایک ٹیچر کے میرے ذہن میں یہ تشویش لاحق نہیں ہوئی کہ تعلیمی ادارے کب دوبارہ سے کھلیں گے بلکہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آیا آئندہ آنے والی نسلیں پاکستان کی

Read more