عالمی شہرت یافتہ لاپتہ افراد
ایسے لوگوں کی کہانی جن کے بغیر تاریخ پڑھنانا ممکن اور ادھورا!
کیا تاریخ یا منظرنامے سے کسی بڑی شخصیت کا ذکر غائب ہوجانا، اس کے کردار کے ختم ہو جانے یا مر جانے کی دلیل ہے، بلاشبہ اس فانی دنیا میں بسنے والی مخلوق فانی ہے، لیکن کس کا انجام کیا ہو گا، کب ہو گا، کیسے طے ہو گا، تاریخ سے گم تو کافی کردار ہوئے، ہم مسلمانوں کی تاریخ میں جہاں جنرل بخت خان کا نام آتا ہے، ہندوستانیوں کے لئے نیتا جی سبھاش چندر بوس کا نام ایسے ہی ناموں میں آتا ہے، لیکن دوسری جنگ عظیم کا اختتام اور ہٹلر کا منظر سے ہٹ جانا ہی کیا کافی ہے، کیا رائش ٹیغ (Reichstag جرمن پارلیمنٹ) کے باغیچے میں واقعے ایک بنکر کا قصہ سچا ہے، یہ سب آخر کیا تھا اس معاملے میں حتمی سچ کیا ہے آخر؟
میرے پاس جنرل بخت خان کے حوالے سے کوئی بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں، تاہم نیتا جی سبھاش چندر بوس اور ہٹلر کے حوالے سے مواد کی کمی نہیں، گزشتہ دنوں بھارتی قومی سلامتی کی مشیر اجیت دوول نے نیتا جی کے حوالے سے ایک تقریب میں خطاب کیا، اس کے کچھ حصے میری نظر سے گزرے، دوول صاحب کہہ رہے تھے۔ ”نیتا جی وہ واحد لیڈر تھے، جن کو جناح بھی لیڈر مانتے تھے، نیتا جی آزادی بھیک کی طرح نہیں چھین کر لینے کے آرزو مند تھے۔
“ ۔ تاریخ بتاتی ہے ہندوستان سے جلاوطنی کے بعد نیتا جی جب جرمنی پہنچے تو، تو ان کی ملاقات ہٹلر سے ہو گئی، دوسری جنگ عظیم جاری تھی، نیتا جی کو ایک جرمن آبدوز (یوبوٹ ) کے ذریعے جاپان لے جایا گیا، جاپان جنگ میں شامل ہوا، اتحادیوں کو اب مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھی جنگ لڑنا پڑی، جاپان نے برما پر فتح کا نشان لہرایا تو برما اور ہندوستان کی سرحد تک جنگ پھیل گئی پھر سبھاش چندر بوس اپنی آزاد ہند فوج کے ساتھ جنگ میں شامل ہو گئے، ابتدا میں کامیابیاں بھی ملیں، لیکن جب جاپان کی پسپائی کے ساتھ مجبوراً ان کو بھی پسپا ہونا پڑا، پھر نیتا جی کی موت کے حوالے سے بھی دو مختلف نظریات سامنے آتے ہیں، ایک یہ کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ سے پسپا ہوتی جاپانی افواج کے ایک طیارے میں سوار ہوئے تھے اور اس طیارے کو منچوریہ سے گزرتے ہوئے حادثہ پیش آ گیا اور ان کی موت اس حادثے میں ہو گئی تھی، یہی خیال ایک عرصے تک یہ نظریہ کی طرح سامنے رہا، لیکن موجودہ بھارتی حکومت کے قیام کے بعد یہ خبریں بھی آئیں کہ نیتا جی تو ساٹھ کی دہائی تک زندہ رہے، بلکہ جس سرکاری تقریب میں معاہدہ تاشقند پر ایوب خان اور شاستری نے دستخط کیے تھے نیتا جی وہاں موجود تھے۔ پھر ان کا کیسے دیہانت (موت) ہوا یہ تفصیل سامنے نہیں آئیں۔
تصویر کیپشن : ہٹلر، تاشقند میں سبھاش چند ر بوس کی ممکنہ تصویر، ہٹلر کو ارجنٹینا پہنچانے کے لئے ممکنہ طور پر استعمال ہونے والی آبدوز (جرمن یوبوٹ یو پانچ سو تیسا/ U۔ 530 )
اب ہٹلر کی بات کر لیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہٹلر کیا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم آدمی تھا؟ یقینا نہیں، جنگی تدابیر میں کسی بھی جنگ میں حملے کی صورت میں پسپائی کے راستوں پر سب سے پہلے یقینی طور پر غور کیا جاتا ہے، جنگ ہوتی ہی ایک سرپرائز پیکج ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہٹلر کو جب روسی افواج اور اتحادی افواج کو برلن کی طرف آنے کی اطلاعات مل رہی ہوں گی تو اس وقت وہ خود کیا سوچ رہا ہو گا اور اپنے بچاؤ کے لئے کوئی ترکیب تو لڑائی ہوگی؟
اسٹالن کی ریڈ آرمی (روسی افواج) تو یقینی طور پر ہٹلر سے حساب بے باق کرنے کی موڈ میں تھیں، ظاہر ہے ان کے شہریوں پر جو مظالم روس کو فتح کرنے کے لئے توڑے گئے ان کی تکلیف کوئی غلط بھی نہیں تھی، مغربی یورپ کی فتح پر مظالم کوئی کم نہیں ہوئے تھے، لیکن وہاں بلٹز کریگ (Blitzkrieg ) وہ تیز جنگ جو ہٹلر کی افواج کا خاصہ تھی، شاید اس وجہ سے وہاں مظالم کی داستانیں روس میں ڈھائے گئے مظالم سے تھوڑی کم مخصوص ہوتی ہیں، جنگ کی وجہ سے جوزف اسٹالن یقینا ہٹلر کا بد ترین دشمن بن گیا تھا، لیکن دونوں کی ابتدا ہی مختلف تھی اور جس قسم کی سفاکی ان دونوں کرداروں سے وابستہ ہے وہ چھپی ہوئی نہیں۔ 30 اپریل 1945 کی تاریخ ایوا براؤن اور ہٹلر کی برلن میں خودکشی کے حوالے سے تاریخ بتائی جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں ایک کتاب گرے وولف (Grey Wolf the escape of Adolf Hitler ) کے نام سے مجھے ملی جس کے پبلشر نوٹ میں ہٹلر کے فرار کا منصوبے کے حوالے بات کچھ اس طرح شروع ہوئی ”جب ہمارے سامنے ہٹلر کے فرار کے منصوبے کا تصور پیش کیا گیا تو ہم نے فوری طور پر اس کو رد کر دیا شاید یہ ایک اور سازشی نظریہ ہے، یہ سب جانتے ہیں کہ ہٹلر، ایوا براؤن نے زندگی کے آخری دن برلن کے زیر زمین بنکر میں گزارے، یقینا وہ ہزیمت سے بچنے کے لئے خودکشی کی موت بہتر سمجھی۔“ ۔ 2011 میں یہ کتاب منظر پر آئی، 2014 میں جس پر ڈاکومینٹری فلم بنائی گئی، جس کو برطانوی میڈیا میں کافی پذیرائی ملی، اس فلم کی ریٹنگ پر غور کیا جائے تو دس میں ساڑھے پانچ بھی مناسب لگتی ہے، ایمازون پر ساڑھے چار کی ریٹنگ شاندار ہے، خیر یہ باتیں تو ایکسٹرا نوٹ ہی ہیں اس اس قصے میں۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر نازی پارٹی، جرمن فوجی، ان کے معاونین جن کا تعلق جرمنی بشمول فرانس، کوریشیا، بیلجیئم سمیت مختلف ممالک سے بتایا جاتا ہے، ان افراد نے نیرومبرگ ٹرائل سے بچنے کے لئے ایک ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں ان کا ٹرائل نہ ہو سکے۔ ایڈولف آئیخ مین (Adolf Eichmann ) جن کو ہزاروں افراد کے کنسنٹریشن کیمپ منتقل کرنے اور دیگر انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اسرائیلی سیکریٹ سروس نے اس کو ارجنٹینا سے اغوا کیا، اپریل 1961 ء میں یروشیلم میں اس پر مقدمہ ہوا، جس میں اس کو سزا ہوئی، جن لوگوں نے ہالی وڈ مووی آپریشن فینالی (Operation Finale) دیکھی ہو وہ اس حوالے سے یقینا جان گئے ہوں گے ، اسی طرح کے 9000 نازی فوجی افسران اور معاونین کو برازیل، چلی میں تلاش کیا گیا، سب سے بڑا پانچ ہزار کا تعلق ارجنٹینا سے جڑا، جرمن آبدوزوں (یو بوٹس، U Boats ) کی مدد سے اس بر اعظم تک پہنچنا ناممکن نہیں تھا، یو بوٹ نو سو ستتر (U۔977 ) کی تفصیلات ملتی ہیں جس کے ذریعے کئی جرمن اہلکاروں نے ارجنٹینا فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، ایک اور جرمن یوبوٹ کا ذکر بھی سامنے آتا ہے جس کا سیریل نمبر یوتھری فائیو ٹو تھری (U۔ 3523 ) کا نام بھی سامنے آتا ہے یہ اپنے وقت کی جدید ترین جرمن یو بوٹ تھی، جو انتہائی خاموشی سے اٹلانٹک عبور کرنے کی صلاحیت کی حامل تھی، اس آبدوز کا ملبہ ڈنمارک کے قریب سے بر آمد ہوا، لیکن بتایا جاتا ہے کہ یہ آبدوز کبھی ارجنٹینا کی جانب پٹرولنگ پر نہیں گئی، جب کہ یو نو سو ستتر (U۔977 ) کے عملے کے حوالے سے معلوم ہوا کہ یہ ارجنٹینا فرار ضرور ہوئے لیکن ان کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایک تیسری آبدوز کا ذکر بھی ملتا ہے ڈیلی میل کی اشاعت (مورخہ 22 جون 2023 ) سے یوپانچ سو تیس (U۔ 530 ) کے حالیہ ملنے والے ملبے پر سوال اٹھے جو صوبہ بیونس آئریس کے ایک پورٹ سٹی کوکین کے قریب سے ملا ہے۔ یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے وقت جرمن اہلکار، فوجی اور نازی پارٹی کے لوگ ارجنٹینا کو محفوظ مقام ضرور تصور کرتے تھے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہٹلر کیا واقعی فرار ہوا تھا؟ اور کہاں سے ہوا؟ کیا وہیں رائش ٹیغ (Reichstag ) کے باغیچے سے؟ یا وہ پہلے ہی کسی اور خفیہ مقام پر منتقل ہوا؟ تو رائش ٹیغ (Reichstag ) کے پاس باغیچے کے بنکر کے پاس سے ملنے والی جلی ہوئی لاشیں اگر ایو براؤن اور ایڈوف ہٹلر کی نہیں تھیں تو کس کی تھیں؟ کہا جاتا ہے کہ روسی اہلکاروں نے مخصوص قسم کے سونے کے بنے دانتوں کے برج کی مدد سے ہٹلر کی شناخت کی تھی، یہ بھی بتایا جاتا ہے لاشوں کے ملنے کی اطلاع سب سے پہلے جوزف اسٹالن کو بھجوائی گئی، لیکن جوزف اسٹالن کی جانب سے یہ بات کسی جیت کے اعلان کے لئے استعمال نہیں ہوئی، جیسا ہم نے امریکنوں اور صدام حسین کے کیس میں دیکھا، (صدام حسین کا ٹرائل ہندوستان کے بہادر شاہ ظفر کے انداز میں ہوا)، سزا ہوئی اور عید کی ایک صبح پھانسی چڑھا دیا گیا جو مناظر دنیا نے ٹی وی پر براہ راست دیکھے، دوسری جانب اسامہ بن لادن کا کیس بھی اس لحاظ سے انوکھا ہے کہ اس آپریشن میں ملنے والے شخص یعنی اسامہ بن لادن کی لاش کی کوئی تصویر نہیں سامنے لائے گئی، بلکہ لاش کو بحر ہند میں سمندر برد کر دیا گیا۔
ایک اور سوال ہے کہ ارجنٹینا نے محوری قوتوں کا انتخاب کیوں کیا، اس ایک جواب تو سیدھا سا ہے کہ اسپین، جرمنی اور اٹلی سے ان کے پرانے ثقافتی اور معاشرتی تعلقات تھے، پھر سرمایہ کاری کسے بری لگتی، پہلے لنک میں تفصیل موجود ہے۔ ہٹلر اگر ارجنٹینا پہنچ جانے میں کامیاب ہو گیا تھا تو اس کے عزائم کیا تھے، نازی پارٹی میں سے کون کون سی شخصیات اس سے ملنے میں کامیاب رہیں، ارجنٹینا کی سرکار کا رویہ کس قسم کا تھا، مارٹن بورمن (Martin Bormann) کا نام سامنے آتا ہے جن پر غیر موجودگی میں نیورمبرگ مقدمے میں سزا سنائی گئی، کتاب میں مارٹن بورمن کی جانب واضح طور پر بتایا گیا کہ وہ ہٹلر سے ملاقات کرتے رہے جب وہ ارجنٹینا میں تھے جہاں وہ تھرڈ رائخ دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنے کی تیاری کر رہے تھے، کیا ارادے تھے، اس وقت ہٹلر کی صحت کیسی تھی دوسری جنگ عظیم جیسے سخت تجربے کے بعد ہٹلر کی ذہنی حالت کیا تھی، اگر ایو براؤن ہی ساتھ تھیں تو وہ کب مریں، اور اگر ایوا براؤن نہیں تھیں تو کون تھیں؟
ایسے بہت سے سوالات جن کے جوابات ملنا مشکل ضرور ہیں، لیکن دنیا ایک حیرت کدہ ہے، شاید یہ راز کسی معاشی اور سیاسی مصلحت کے ختم ہونے کے بعد ضرور ملیں گے یہ بھی ممکن ہے کہ رائش ٹیغ (جرمن پارلیمنٹ ) باغیچے سے ملنے والی لاشوں، اور ارجنٹینا میں رہنے والے بنا موچھ کے ہٹلر کی کہانیاں ایک پروپیگنڈا سٹنٹ ہی ہوں، اور حقیقت ہمیشہ کے لئے تاریخ سے چھپا دی گئی ہو، لیکن دونوں کے درست کا ہونے کا امکان بہر حال موجود ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکی قیادت ہٹلر کی موجودگی سے آگاہ ہو، لیکن سرد جنگ میں ایک ممکنہ کارڈ کے طور پر استعمال کرنا ان کی ممکنہ خواہش ہو۔ یقینا روس ایک بڑے دشمن کے طور پر اس وقت سامنے تھا، بڑے گیمز میں یہ سب کچھ ہونا کوئی عجب نہیں۔
ریفرنس
ہٹلر اور نازی سہولت کار
https://www.thoughtco.com/why-did-argentina-accept-nazi-criminals-2136579
https://www.youtube.com/watch?v=Gr_YmMfw1Jc
https://www.imdb.com/title/tt2493402/
https://www.bbc.com/news/world-europe-51751272
https://www.smithsonianmag.com/smart-news/wreck-germanys-most-advanced-u-boat-discovered-180968874/
https://www.dailymail.co.uk/news/article-11411631/Was-submarine-used-Hitler-escape-Argentina-Wreck-Nazi-U-boat-expert-says.html
https://www.dailymail.co.uk/news/article-12221993/Nazi-hunters-demand-Argentinas-government-end-suspicious-silence-U-boat-discovery.html
تاشقند میں مانوس اجنبی بوس
https://www.youtube.com/watch?v=1F_tcuuM91A
https://economictimes.indiatimes.com/news/politics-and-nation/was-netaji-subhas-chandra-bose-in-russia-till-1968/articleshow/53148364.cms?from=mdr
https://zeenews.india.com/news/india/evidence-on-netaji-man-photographed-with-shastri-in-tashkent-resembles-subhas-chandra-bose_1833742.html



