عید قرباں


آج عید قربان ہے موجودہ نامساعد اور دگرگوں معاشی حالات میں قارئین کو عید مبارک کہنا بڑے ہی دل گردے کا کام ہے کیونکہ عوام جس طرح سے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں وہ ہر روز حکومتی ایوانوں کی مہربانی سے قربانی دے رہے ہیں اور نہ جانے کب تک قربانی دیتے رہیں گے کہ ہر حکمران عوام سے ہی قربانی مانگتا ہے اور عوام کے بڑے دل کی بھی داد دینی پڑے گی جو ہر حکمران کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں چاہے وہ انہیں پسند ہو یا نہ ہو کیونکہ عوام خود بے بس ہیں اور اس بے بسی کی خبر ہر حکمران کو خوب ہوتی ہے اس لئے وہ قربانی کا بکرا بھی عوام کو ہی بناتا ہے۔

عید کے موقع پر میں حکمرانوں کی بدخوئی اور ان کے عوام پر مظالم کا ذکر کر کے میں اس بابرکت تہوار کو بد مزہ ہر گز نہیں کرنا چاہتا کیونکہ پاکستان کی عوامی زندگی میں خوشی کے مواقع کم ہی آتے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ جب بھی کوئی خوشی کا موقع میسر آتا ہے تو حکمران پارٹی بے طرح یاد آجاتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ قربانی کے جانوروں کی تو بہتات ہے مویشی منڈیوں میں بیوپاری گاہکوں کے منتظر ہیں لیکن عوام جو کہ سنت ابراہیمی کو ذوق و شوق سے ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں وہ اس عید قربان سے پہلے خود ہی حکمرانوں کی مہربانیوں سے کئی قربانیاں دے چکے ہیں اور عوامی قربانیوں کا یہ دراز سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

آج کے تازہ حالات میں حکومت کے توسط سب سے بڑی قربانی کوئی اگر مانگ رہا ہے تو وہ عالمی ساہوکار ادارہ آئی ایم ایف ہے جو ہمارے معاشی ابتری کو سدھارنے کے لئے حکومت سے مطالبات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ عوام کو یہ خبر ہو کہ عید قربان کے بعد ابھی عوام کو مزید قربانیاں بھی دینی ہیں لہذا جمع خاطر رکھیں اور ملکی مفاد میں مزید قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لیں۔

عید قربان کے موقع پر کئی برس کے بعد گاؤں میں عید گزارنے کا موقع ملا ہے۔ ہم دیہاتی جو شہروں میں پردیسوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں ہر وقت گاؤں واپسی کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور جیسے ہی موقع ملتا ہے شہر کی ہنگامہ خیز زندگی سے دور گاؤں کے کسی حد تک پر سکون اور پر فضاء ماحول میں پہنچ جاتے ہیں۔ شہر کی زندگی ہم دیہاتیوں کے روزی روزگار کے لئے اشد ضروری ہے کیونکہ ہماری حکومتوں نے دیہات میں کوئی ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی کہ دیہاتی اپنے گھر میں ہی روزی روٹی کا بندو بست کر سکیں۔

یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ شہروں کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے شہری زندگی پر دباؤ بڑھ رہا ہے دیہات سے شہروں کو نقل مکانی کی وجہ سے شہری سہولیات بھی ناکافی ہو رہی ہے اور ہمارے بڑے شہروں کی حدود بھی بڑھتی جا رہی ہے نت نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں کیونکہ دیہات سے شہروں کو نقل مکانی کی وجہ سے شہروں میں رہائش کی موجودہ گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ بہر حال شہری زندگی کی سہولتیں بھی اپنی جگہ پر مسلم ہیں جو دیہات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں لیکن لاہور میں مقیم ہم پردیسی اپنے گاؤں کو چھجو کا چوبارہ سمجھتے ہیں جہاں پہنچ کر ہی ہمیں سکون کی چند گھڑیاں نصیب ہوتی ہیں۔

لاہور میں ایک ضرب المثل بہت مشہور ہے کہ ”جو مزہ چھجو دے چوبارے وہ بلخ نہ بخارے“ مغلیہ دور میں اندرون لاہور میں چھجو نامی ہندو سنار ایک چوبارے میں رہتا تھا جس کی محفل میں صوفی اور بزرگ شامل تھے انہی محفلوں میں حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل ہوتے تھے ان کی روحانیت کی برکت سے چھجو کے دل میں مخلوق خدا کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو اور وہ دنیا چھوڑ کر اللہ والوں کی خدمت میں مگن ہو گیا اور یہ بات مشہور ہو گئی کہ جو سکون چھجو کے چوبارے کی محفل میں ہوتا ہے وہ بلخ اور بخارے میں نہیں ہو سکتا۔ اس زمانے میں وسط ایشیاء میں بلخ اور بخارہ دو ایسے علمی اور ادبی شہر تھے جن کی روحانی محفلوں کی اس خطے میں دھوم تھی لیکن اسی زمانے میں لاہور کے فقیر یہ کہتے پائے جاتے کہ چھجو کے چوبارے کی محفل زیادہ پر سکون ہے۔ اس لئے ہم دیہاتی بھی کہتے ہیں کہ جو سکون اپنے گاؤں میں ملتا ہے وہ شہر کی سہولتوں میں نہیں ہے اسی لئے ہر دیہاتی موقع پاتے ہی گاؤں لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔

قربانی خاص طور پر اللہ اور بندے کا معاملہ ہے اسی لئے سورۃ حج میں کہہ دیا گیا ہے کہ ”اللہ کو نہ ان کا (جانوروں ) گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون، بلکہ اسے تو تمہارے دل کی پرہیز گاری پہنچتی ہے“ ۔ سنت ابراہیمی کی ادائیگی خالصتاً اللہ کی خوشنودی کے حصول اور اس بابرکت قربانی کی یاد میں کی جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی عزیز ترین شے کی قربانی کا حکم دیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تم سے زیادہ عزیز کوئی اور نہیں ہے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا بابا جان آپ اللہ کے حکم پر لبیک کہیں میں حاضر ہوں اور پھر عین قربانی کے وقت اللہ تعالیٰ نے براق کو قربانی کے لئے بھیج دیا۔

اسی عظیم واقعہ کی یاد میں ہم مسلمان قربانی کی سنت ادا کرتے ہیں۔ ہم آپ سب مسلمان ہیں لیکن بعض اوقات اللہ تعالیٰ کے واضح فیصلوں سے بھی روگردانی کر جاتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں قربانی کا مطلب یہی ہے کہ قربانی کے گوشت میں اپنے عزیزوں کے علاوہ غرباء اور مساکین کو شامل کریں۔ عید قربان کے موقع پر گوشت ذخیرہ کرنے کی بجائے اس کو اسی دن تقسیم کر دینا چاہیے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو صاحب حیثیت ہیں اور قربانی کرتے ہیں وہ سال بھر گوشت کھا سکتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ عید قربان کے موقع پر اپنے گھر کے افراد کے لئے صرف ایک وقت کے کھانے کے لئے قربانی کا گوشت استعمال کریں اور باقی گوشت ان ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں جو اس کے اصل حقدار اور مستحق ہیں یہی افضل طریقہ ہے اور یہی قربانی کی اصل روح ہے۔

Facebook Comments HS