بکرا خریدنے کے چکر میں ہم پھنس گئے


یہ غالباً نوے کی دہائی کا ذکر ہے کہ بکرا عید کی آمد تھی۔ جیسے جیسے عید قریب آ رہی تھی بکرے کی خریداری کے لیے بیگم کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا۔ اور حسب عادت ہم ٹال مٹول سے کام چلا رہے تھے۔ ایک دن حالات کو کافی دگر گوں دیکھ کر بیگم کو بڑے مدبرانہ انداز میں سمجھایا کہ دیکھو ابھی عید آنے میں دو ہفتے باقی ہیں۔ دو ہفتے تک بکرا صاحب کے چارہ پانی کے انتظامات کرنا ہوں گے۔ دن کو تو چلو باہر گلی میں کھڑا رہے گا۔ لیکن رات کو کیا کریں گے۔ اگر گھر کے اندر باندھیں گے تو ساری رات بھاں بھاں کر کے ہم سب کو جگا کے رکھے گا۔ اور اگر باہر گلی میں باندھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ رات کو کوئی ہم سے بھی بڑا ضرورت مند اسے کھول کر اپنے ساتھ لے جائے۔ بہر حال دلیل کافی وزنی بن گئی تھی۔ لہذا فریق ثانی کے پاس اسے با رضا و رغبت تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

تین چار دن اور گزرے کہ بیگم کے بھائی صاحب تشریف لائے۔ اور انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس گاؤں میں ایک بہت موٹی تازی پٹھ کھڑی ہے پٹھ ایسی جوان بکری ہوتی ہے۔ جو زچگی جیسے مراحل اور بچے جننے کے جملہ اسرار و رموز سے مکمل طور پر ناآشنا ہوتی ہے۔ اور اس کا گوشت اس لیے بھی پسند کیا جاتا ہے۔ کہ اس میں نر قبیلے کے گوشت میں موجود مخصوص مہک اور مشک نہیں ہوتی بہر حال موقع غنیمت جانتے ہوئے ہم نے فیصلہ صادر فرما دیا۔ کہ بس ٹھیک ہے تم اسے ہمارے لیے اپنے ہی گھر میں کھڑا رہنے دو عید سے ایک دن پہلے یہاں بھجوا دینا اور قیمت کا تعین اپنی بہن کے ساتھ کر لو اور پیسے لے جاؤ۔ میں اپنی کارکردگی سے بڑا خوش تھا۔ کہ چلو بکرے کی خریداری اور خاطر داری جیسے بہت سے مسائل سے جان چھوٹی۔

عام معمولات سے ہٹ کر کام کرنا میرے لیے ہمیشہ سے ہی ایک ایسی قباحت رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مجھے اپنے ففتہ و جفتہ اوصاف حمیدہ کے منظر عام پر آنے کے خدشات اور اندیشہ ہائے دور دراز لامق ہوتے ہیں صرف لاحق ہی نہیں ہوتے۔ بلکہ اکثر و بیشتر ایسے ناگہانی حالات میں یہ پورے طور پر طشت از بام بھی ہو جاتے ہیں۔ بہرحال میں بہت خوش تھا کہ بغیر کسی چوں چرا اور شور شرابے کے ایک دینی فریضے کی ادائیگی کے معاملات کو بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیا جا رہا ہے۔

ایک دن پہلے مذکورہ پٹھ صاحبہ گھر کے سامنے شہتوت کے درخت کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ اور محلے کے لڑکے بالے اور بچے اس کے اردگرد کھڑے ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے کیوں کہ محلے میں موجود اپنی قبیل کے تمام جانوروں سے قد کاٹھ اور صورت شکل میں یہ نمایاں نظر آ رہی تھی۔ اس منظر سے مجھے اتنی عمدہ خریداری کے کارنامے پر ایک فخر بلکہ غرور محسوس ہو رہا تھا۔ بہر حال اسی فخر میں پھولا پھلایا شام کو کلب چلا گیا۔ وہاں سب لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری کے سلسلہ میں اپنے اپنے تجربات ایسے بیان کر رہے تھے کہ ہر کوئی اس معاملے میں اپنے آپ کو افلاطون ہی ثابت کر رہا تھا۔

ہم نے بھی اس معاملے میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے قربانی کی خریداری میں اپنے مبینہ کارنامے کو کچھ اس طرح بڑھا چڑھا بلکہ بڑھا گھٹا کر بیان کیا کہ قربانی کے جانور کا قد بڑھا کر اسے تقریباً ایک چھوٹے سائز کی گائے کے برابر کر دیا۔ اور قیمت کو گھٹا کر ایک میمنے کی قیمت کے قریب قریب کر دیا۔ سبھی حاضرین اور شرکا، حسد و رشک کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انگشت بدنداں میری طرف متوجہ تھے۔ کہ اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی واضح رہے کہ یہ قصہ ان دنوں کا ہے جب موبائل کی مطلوبہ سہولت میسر نہیں ہوا کرتی تھی۔

پورے کلب میں صرف ایک ٹیلی فون ہی ہوا کرتا تھا۔ جو سب ممبران کی ضرورتوں کے لیے کافی بلکہ کافی سے بھی تھوڑا زیادہ ہی ہوا کرتا تھا۔ اس ٹیلی فون کی بجنے والی گھنٹی نے حاضرین میں سے ہر ایک کو چونکا دیا۔ ہر کوئی اسی سوچ میں غلطان تھا کہ پتہ نہیں قرعہ فال کس کے نام نکلتا ہے اور اس سے کیا برآمد ہوتا ہے۔ اشفاق نے بہت ہی آہستگی سے فون اٹھایا اس کے ریسیور کو بغور دیکھا۔ اسے قمیض کے دامن سے صاف کر کے دوبارہ اس کا جائزہ لیا۔ حاضرین کو جس شدت سے نتائج کی برآمدگی انتظار تھا۔ وہ ظالم اسی نسبت سے سست روی پر عمل پیرا تھا۔ خدا خدا کر کے اس نے فون کان سے لگایا۔ بغور سنا پھر سوالیہ انداز میں ہاں جی بول کر دوبارہ سنا اور ریسیور میز پر رکھ کر ہماری طرف آیا اور میری طرف اشارہ کر کے بولا۔ سر آپ کے گھر سے فون آیا ہے۔

ویسے تو سبھی حاضرین اپنی اپنی معمول کی گفتگو میں مشغول تھے۔ لیکن مجھے بخوبی علم تھا کہ وہ سب ہمہ تن گوش ہوش باطرف فون ہذا ہیں۔ بہر حال میں نے بڑے اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی سست روی، لاپرواہی اور بے اعتنائی سے اس آلہ جدید پر ایک نگاہ غلط ڈالی انداز ایسا ہی تھا کہ فون سننے کی زحمت گوارا کروں یا اس سے کنارہ ہی کر لوں۔ بہر حال تذبذب اور گومگو کی ملی جلی کیفیت میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا فون کے قریب آیا۔

اٹھا کر کان سے لگایا اور آواز کو ذرا رعب دار بناتے ہوئے ہیلو کہا۔ میرے ہیلو کہنے کی دیر تھی کہ آگے سے الفاظ کی ایک ایسی بوچھاڑ آئی کہ لمحہ بھر کے لیے میں سمجھنے سے قاصر رہا کہ معاملہ کیا ہے۔ جب تھوڑی دیر کے بعد اوسان بحال ہوئے تو پتہ چلا کہ بیگم جوش خطابت میں کچھ یوں فرما رہی تھیں۔ تمہیں کلب کے علاوہ باقی دنیا جہان کی کچھ فکر ہے۔ صبح عید ہے ملتان سے میجر صاحب اپنے بچوں سمیت آچکے ہیں۔ صبح کو ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر نورین نے بچوں کے ساتھ ادھر ہی آ کر عید کرنا ہے۔

برائے وضاحت بتاتا چلوں کہ یہ اس بھلے دور کا ذکر ہے۔ جب عید کرنے کے لیے پورا خاندان ایک ہی گھر میں جمع ہو جایا کرتا تھا۔ اہل خانہ کو درون خانہ سے اکٹھا ہونے والے لوگوں کی تعداد سے کوئی الجھن نہ ہوتی۔ اور مہمان حضرات کو گھر میں جگہ کی کمی کی بدولت کبھی تنگی داماں کی شکایت نہ ہوتی۔ ہنسی خوشی دو تین دن اکٹھا گزارنے کے بعد سبھی اپنے اپنے ٹھور ٹھ کانوں کی طرف کوچ کر جاتے

بہر حال قصہ مختصر بیگم کی تقریر کا یہ تھا کہ کل صبح عید کو سبھی اہل خاندان ہمارے گھر میں اکٹھا ہو رہے ہیں اور ہمارے پاس ہی قربانی کے لیے کوئی جانور موجود نہیں ہے۔ لمحہ بھر کے لیے بیگم کی ذہنی صحت پر شک گزرا کہ شاید مہمانوں کی آمد کے خوف سے وہ ذہنی عدم توازن کا شکار ہو گئی ہیں۔ ابھی تو میں اپنی خریداری کے کارنامے کے تفاخر اور غرور کی کیفیت کے نشے سے ہی باہر نہیں نکلا تھا کہ انہوں نے کیسی باتیں شروع کر دی ہیں۔

خلاصہ اس طویل اور تلخ و تیز گفتگو کا یہ نکلا کہ ایک چرواہے نے انہیں بتایا تھا کہ اس پٹھ کے پیٹ میں بچے ہیں اور اسے قربان نہیں کیا جاسکتا۔ صورت حال کے اس گمبھیر پہلو کے بارے میں تو سوچا ہی نہیں تھا۔ بہرحال میں نے نہایت ہی مدھم اور دھیمی آواز میں تسلی دینے کی کوشش کی کی تم بے فکر رہو۔ صبح قربانی کے وقت سے پہلے پہلے میں تمہارے لیے اس کا بہت اچھے سے کوئی انتظام کر دوں گا۔ ٹیلی فون بند کر کے واپس مڑا تو میرا خیال ہے کہ میرے وجود پر چھائے ہوئے مایوسی اور اداسی کے سائے وہاں پر موجود تمام لوگوں کو نظر آرہے تھے۔

ہر کوئی میرے ان اندرون خانہ حالات سے بخوبی واقف ہو چکا تھا جن کو چھپانے کے لیے میں ایک ناکام کوشش میں مصروف تھا۔ بہرحال کسی نے اصرار و استفسار کرنے کی زحمت گوارا نہ کی اور حسب معمول ہلکی پھلکی گفتگو جاری رہی۔ رات بارہ بجے کے قریب کلب سے واپس گھر پہنچا تو گھر میں موجود سبھی لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ میں بھی صحن میں بچھی ہوئی ایک خالی چار پائی پر لیٹ کر خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔ صبح وقت پر آنکھ کھل گئی نہا دھو کر نماز سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ڈاکٹر ارشد اور نورین بچوں سمیت پہنچ گئے۔

عید کی نماز میں ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔ میں ارشد سے کہا، کہ چلو منڈی چلنا ہے اور وہاں سے ایک بکرا خرید لانا ہے۔ اس نے حیرانی سے پوچھا کہ ابھی تک بکرا نہیں خریدا میں نے وہ داستان طویل اسے مختصر مختصر کر کے سنائی گھر سے باہر نکلنے لگے تو ماں جی سے ملاقات ہوئی۔ ان کو اس ساری کہانی کا علم تھا۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ تم دونوں منڈی مت جاؤ ابھی تھوڑی دیر رکو صادق نہا رہا ہے۔ وہ نہا کر فارغ ہو لے تو اسے ساتھ لے لینا تمہیں ایسے کاموں کے بارے میں کیا پتہ ہے گو بات تو یہ صحیح تھی۔

لیکن ہمیں یہ بات کھا گئی۔ ہم نے کہا کہ ماں جی آپ کیا صادق صادق کرتی رہتی ہیں۔ صادق نے وہاں کیا کرنا ہے۔ پیسے ہماری جیب میں ہیں اور بکرا منڈی میں ہے۔ پیسے دیں گے اور بکرا لے کر آ جائیں گے۔ یہ کون سا مسئلہ فیثا غورث ہے۔ ماں جی تھوڑا سا مسکرائیں اور ہمارا راستہ چھوڑ کر ہمیں گویا جانے کی اجازت دے دی۔ ہم دونوں بھاگم بھاگ منڈی میں پہنچے۔ طائرانہ نظر دوڑائی تو وہاں یہ تین چار لاغر اور بوڑھی سی گائیں کھڑی ہوئی دکھائی دیں اور پانچ سات منحنی اور مدقوق سے بکرے برائے فروخت موجود تھے۔

گاڑی سے نیچے اترنے کا تکلف ہم دونوں میں سے کسی نے بھی نہ کیا۔ حاضر مال میں موجود بہتر انتخاب کرتے ہوئے اس کے مالک کو بکرا گاڑی کے قریب لانے کا اشارہ کیا۔ وہ ہمارے پاس آیا قیمت دریافت کرنے پر اس نے چھ ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی حیرانی کی ضرورت نہیں۔ ان دنوں بکرے کی قیمت اتنی ہی ہوا کرتی تھی۔ تاہم میں نے ایک چابک دست اور ہوشیار گاہک کا تاثر دیتے ہوئے اپنی جیب سے چار ہزار روپے نکال کر دیے۔ اور اسے کہا کہ بکرا اٹھا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھ دو۔

اس نے پیسوں کو گنا پھر میری طرف غور سے دیکھا۔ اس کے بعد بکرے پر ایک نگاہ غلط ڈالی تھوڑی دیر کے لئے سر جکایا پھر سر اٹھا کر یہی عمل دہرایا۔ میں نے کہا، سوچ کیا رہے ہو؟ تمہیں بکرے کی معقول قیمت ادا کر دی ہے۔ چلو اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالو اور خود بھی فارغ ہو کر جا کر عید پڑھنے کی تیاری وغیرہ کرو۔ تھوڑے تذبذب کے بعد اس نے بکرا اٹھا کر گاڑی میں ڈالا ہمیں سلام کیا اور چلتا بنا

واضح رہے کہ اس دوران ہم نے گاڑی سے نیچے اتر کر بکرے کو حسب رواج ٹٹولنے کی کوشش سے گریز کیا۔ اس سودے بازی کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد بھاگم بھاگ گھر پہنچے۔ بکرے کو پہلے والی قربانی کے جانور کے ساتھ شہتوت کے درخت کے ساتھ باندھا اور مسجد کی طرف ہو لیے کیوں کہ مولوی صاحب نماز عید پڑھانے کی تیاری میں تھے۔ عید پڑھنے کے بعد لوگوں سے ملتے ملاتے گپ شپ لگاتے بڑے ہی خوش گوار موڈ میں گھر داخل ہوئے۔

تو یہاں پر ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ ہمارا تازم تازہ خرید شدہ بکرا گھر کے صحن میں کھڑا تھا اور تمام بچے اس کے اردگرد کھڑے اس کی جملہ و شستہ صفات کے گن گا رہے تھے۔ ایک آواز آئی ابو آپ نے کمال کا بکرا خریدا ہے۔ ایسا حسین و جمیل اور وجیہہ و شکیل بکرا ہم نے آج تک نہیں دیکھا۔ ایک دوسری آواز ابھری رنگ کیا خوبصورت ہے۔ غرض کہ اس کی تعریف و توصیف میں بھانت بھانت کے تعریفی کلمات ادا کیے جا رہے تھے۔ جوں جوں یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا شکوک و شبہات کے دیرینہ سنپولیے میرے ذہن میں رینگنے لگے اور مجھے احساس ہونے لگا کہ کوئی نہ کوئی حماقت سر زد ہو چکی ہے لیکن کیا؛یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔

اب میں نے بچوں کو باقاعدہ ڈانٹنا شروع کر دیا کہ اصل بات بتاؤ کہ ہوا کیا ہے۔ لیکن ان کا تو ایک شغل لگا ہوا تھا۔ اتنی دیر میں ماں جی ایک کمرے سے نکل کر وہاں آئیں اور بولیں کہ میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ صادق کو ساتھ لے جاؤ وہ سیانا ہے۔ تمہیں ان کاموں کے بارے میں کیا پتہ ہے۔ آخر کار وہی ہوا ناں جس کا مجھے ڈر تھا۔ تم بکرے کی جگہ پھر بکری خرید لائے ہو۔

اب سب چھوٹے بڑے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ارشد نے تو یہ بیان دے کر اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں ہے۔ میں نے تو انہیں صرف کنوینس ہی مہیا کی تھی۔ میری ڈیوٹی انہیں منڈی لے جانے اور واپس لانے کی تھی۔ باقی تمام معاملات میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے

بہرحال اس کے بعد ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی تفصیل کچھ ایسی خوشگوار نہیں ہے کہ بتائی جا سکے۔ لیکن میں آج بھی اس بات پر حیران ہوں کہ یہ کوئی اتنی بڑی غلطی تھی نہیں جتنا کہ اس کے بارے میں ڈھول بجایا گیا اور مزے کی بات ہے کہ اس دن وہ پہلے والی پٹھ ذبح کی گئی وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ اس کے پیٹ میں موجود بچوں والی بات غلط نکلی۔ گوشت بہت اچھا نکلا بلکہ بہت نکلا اور دوسرے دن دوسری بکری ذبح کی گئی اس کا گوشت بھی اچھا نکلا۔ مجھے تو آج بھی شک ہے کہ اس چرواہے کو بھی ہمارے انہی مہربانوں میں سے کسی نے سازش کے تحت بھیجا تھا۔ تاکہ قربانی کے سلسلہ میں ہماری کی جانے والی خریداری کی بہترین کارکردگی کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ واللہ اعلم بالصواب

Facebook Comments HS