یہ ترقی کی رفتار تھوڑی آہستہ نہیں کر دیتے۔ الو نامہ


شاید تیس بتیس سال پرانی بات ہے ہم آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے کسی ایک نے خواہش کی کاش میں اس دور میں پیدا ہوتی جس میں سارے کام بٹن دباتے ہی ہو جاتے۔ سستی میں میرا مدمقابل آج تک کوئی نہیں سو میں نے فوری طور پر کہا ”اور کاش میں اس دور میں پیدا ہوتی جس میں بٹن بھی نہ دبانا پڑے اور کام بھی ہو جائے“ ۔ اور پھر ہم نے وہ دور دیکھ لیا جس میں حقیقتاً ایسا ہو رہا ہے۔ جتنی ایجادات ہم نے ابن صفی اور بعد کی جاسوسی کہانیوں میں پڑھیں وہ ساری آج موجود ہیں۔

ایجادات کی ترقی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کسی ایجاد کو قدم جمانے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ پچھلے چالیس سالوں میں ایک کے بعد ایک ایجاد کام آسان کر رہی ہے اور زندگی مشکل۔ انسان ذہنی لحاظ سے سست ہو رہا ہے کہ ذہن کو چست کرنے کے سارے کام ایجادوں نے اور خصوصاً موبائل نے ہم سے لے لئے ہیں۔ لکھنے کا کام یاد رکھنے کا کام۔ خاندان یا دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر ذہنی طور پر اس شخص سے موبائل کے ذریعے محو گفتگو ہیں جو اس وقت محفل میں نہیں ہے اور دلچسپ بات یہ ہے جس کے ساتھ برقی گفتگو جاری ہے جب اس سے ملیں گے تو کسی اور کے ساتھ برقی گفتگو میں مصروف ہو جائیں گے۔

ان آلات کی وجہ سے دماغ ہر وقت مصروف ہے اور یادیں بنانے کے لئے جو پراسیسنگ کا عمل ہے اس کے لئے ذہن کو فرصت چاہیے جو اس کے پاس نہیں ہے۔ منظر آنکھ سے نہیں کیمرے کی آنکھ سے دیکھتے ہیں تو بھلا دماغ کس منظر کی پراسیسنگ کرے۔ ہر چیز ہم مصنوعی ذہانت کے سپرد کر بیٹھے ہیں اور مصنوعی ذہانت کیا گل کھلائے گی اس کا اندازہ مصنوعی ذہانت بنانے والے کو ہو گیا تھا اس لئے اب وہ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ ہمارے پاس جو نسلیں تیار ہو رہی ہیں ان کی سوچ محدود ہو رہی ہے چھ انچ کی سکرین تک۔

بھلے آپ اس میں لامحدود دنیا دریافت کر لیں لیکن آپ کا کینوس چھ انچ کا ہی ہو گا۔ ہو سکتا ہے میں یہ باتیں اپنی لاعلمی کی وجہ سے لکھ رہی ہوں ان کا کینوس وسیع ہو اور شاید میں اس کا احاطہ نہ کر سکتی ہوں۔ مگر میں مصنوعی ذہانت سے شدید خوفزدہ ہوں کیونکہ وہ انسانوں کے ذہن کو سلا کر ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید یہ دنیا سو سال سے زیادہ نہ جی سکے کیونکہ ہماری ترقی کی رفتار حد رفتار عبور کر چکی ہے۔

ہم اس وقت تیز رفتار ترقی کے دور میں جی رہے ہیں جدید ترین دور میں۔ مگر تاریخ بہت ظالم ہے وہ مجھے ہمیشہ ”قدیم دور کا بیوقوف انسان“ لکھے گی اور ہمیں اس طرح یاد کرے گی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے فطرت کی وحشیانہ طبیعت کو جاننے کے باوجود اس سے جھگڑا مول لیا۔ جنہوں نے ماحول کی قیمت دے کر ترقی کو چنا اور پھر ترقی کے سنہرے جال میں اس طرح پھنسے کہ جال کی تاریں ان کے دماغوں اور سانسوں سے لپٹ گئیں اور یہ نسل دم گھٹنے سے مر گئی۔ ماحول کی قیمت میں ترقی بہت مہنگا سودا ہے کچھ وقت ابھی باقی ہے۔ یہ ترقی کی رفتار تھوڑی آہستہ نہیں کر دیتے شاید انسان دوست ماحول کچھ اور دن جی لے۔ اور ہم سب بھی۔

Facebook Comments HS