چڑھتے سورج کے پجاری!


محترم عرفان صدیقی صاحب کی نثر بلاشبہ اوج کمال پر ہوتی ہے مگر اس اعلٰی و عرفٰی نثر اور لفاظی کو اس طرح برباد ہوتے ہوئے دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ایسا لکھاری اور ایسی گراوٹ، اللہ اللہ۔

خود ہی فرمایا کہ باجوہ صاحب کی پوسٹنگ میں میرا بھی ہاتھ تھا تو ظاہر ہے اس وقت وہ بھی وقت کے ایوبی و غزنوی قرار دیے گئے ہوں گے ان کے لئے بھی ایسی لفاظی کے دریا بہائے گئے ہوں گے، یقیناً ایسا ہی ہے۔

اوریا صاحب یاد آ گئے، ان کا خواب 2019 والا اور پھر وہی خواب 2022 نئی تشریحات اور توجیحات کے ساتھ بنام باجوہ صاحب، اللہ ایسے ممدوح سے محفوظ ہی فرمائے آمین۔

صدیقی صاحب نے آج کے ( 27۔ 06۔ 2023 ) اپنے کالم میں ممدوحیت کا جو پیمانہ موجودہ چیف کے متعلق رکھا ہے، اللہ رحم ہی کرے۔

غالب نے کیا خوب کہا ؎
تجھے ہم ولی سمجھتے، گر نہ بادہ خوار ہوتا

الفاظ کی بادہ خواری نے بہت سوں کو کافی خوار کیا ہے، آئیے ان انمول موتیوں سے استفادہ کرتے ہیں، چیف صاحب تو شاد ہوئے ہی ہوں گے، عوام الناس بھی ان بیش بہا الفاظ کی وجہ سے اپنے چیف کو کم از کم ایوبی بنا کر ہی دم لیں گے۔

”کالم کا عنوان ہی اوج ثریا کو چھو رہا ہے“
فوج کی سوچ میں جوہری تبدیلی
اب کچھ جملہ ہائے تعریف و توصیف بنام سالار اعظم،
فتنہ گروں نے بہت پیچ و تاب کھائے کہ جنرل سید عاصم منیر کی تقرری کا راستہ روکا جائے۔
سید عاصم منیر کی قوت، گرفت اور اثر آفرینی کو کئی گنا بڑھا گئی۔

فوج اور سول حکومت کے اشتراک باہم کا سفر، پاکستان کو درپیش سنگین اقتصادی بحران کی مسیحائی کے مشترکہ عزم سے شروع ہوا ہے۔

اس اہم قومی مشن میں فوج کی موثر شراکت سے معیشت انقلاب آشنا ہو جائے گی اور پاکستان غیروں کی احتیاج سے نکل آئے گا۔ (پھر، ، اسی عطار کے لونڈے سے، ، کیا کہے بندہ اب)

یہ سب کچھ اسی وقت ہو گا جب جنرل سید عاصم منیر اور ان کے رفقا کی یہ سوچ مستقل طور پر ادارہ جاتی پالیسی میں ڈھل جائے۔

سید عاصم منیر اپنے اس انقلابی اقدام کے باعث دیر تک یاد رکھے جائیں گے۔
پڑھئے اور سر کے ساتھ سر دھنیے۔
؎
باز نہیں آتے یہ جملہ باز اپنی ناز آفرینیوں سے

Facebook Comments HS