مغرب میں سائنسی انقلاب کیوں آیا؟


مغربی دنیا سائنسی سوچ کو پروان چڑھانے والا ماحول بنانے میں کیوں کامیاب ہوئی؟ میں نے سالوں اس سوال کے بارے میں سوچا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ سوال اس تہذیب کو تاریک دور سے باہر لانے کی کسی بھی کوشش میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔

سب سے پہلے میں مختلف تہذیبوں اور سائنس اور فلسفے میں ان کی کامیابیوں کا جائزہ لوں گا تاکہ ایک نقطہ نظر حاصل کیا جا سکے۔ میں اس مضمون کے بعد کے حصے میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا کہ ایسا کیا ہوا کہ موجودہ سائنسی انقلاب مغرب میں رونما ہوا، کہیں اور نہیں۔

دنیا نے مختلف دور میں تہذیبوں کے عروج و زوال کو دیکھا ہے۔ ہر تہذیب چند صدیوں تک قائم رہی اور پھر ختم ہو گئی۔ بعض اوقات ایک تہذیب اپنے روشن دور کے بعد تاریک دور میں داخل ہو گئی۔

شاید سب سے زیادہ قابل ذکر تہذیب جو اس دنیا نے دیکھی ہے وہ یونانی تہذیب ہے۔ یونانی تہذیب مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں پروان چڑھی، یونان کے ایتھنز سے لے کر اناطولیہ، شام اور مصر تک تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح سے لے کر تقریباً دوسری صدی قبل مسیح تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس تہذیب نے انسانی فکر کی بہت سی شاخوں جیسے ریاضی، فلسفہ، اخلاقیات اور فلکیات میں اعلیٰ ترین سطح کے کارنامے انجام دیے۔

اس تہذیب کا راستہ سقراط، افلاطون اور ارسطو جیسے فلسفیوں، ارشمیدس اور اسکندریہ کے ہیرو جیسے طبیعیات دانوں، بقراط اور جالینوس جیسے طبیبوں، اور فیثاغورث اور اقلیدس جیسے ریاضی دانوں نے روشن کیا ہے۔ یہ صرف چند روشن ترین نام ہیں۔ مکمل فہرست یہاں پیش کرنے کے لیے بہت لمبی ہے۔ یونانی تہذیب نے انسانی تہذیب پر دیرپا نقوش چھوڑے۔

تاہم، ان کی پائیدار وراثت وہ نظریات نہیں ہیں جو تاریخ کے ان عظیم انسانوں نے پیش کیے تھے۔ کیونکہ ان میں سے اکثر انسانی فکر کے ارتقاء کے دوران یا تو الٹ چکے ہیں یا تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ بنی نوع انسان کے لیے ان کی لازوال میراث عقلی سوچ کو تخلیق کی بلندی پر رکھنے میں مضمر ہے جو یونانی تہذیب کے معدوم ہونے کے ہزاروں سالوں کے بعد بھی زندہ ہے۔

یونانی تہذیب کی جگہ رومیوں نے لی۔ رومی عظیم منتظم تھے جنہوں نے ایک وسیع سلطنت بنائی جس نے دنیا پر حکمرانی کی۔ عظیم فوجی طاقت کے باوجود، رومی تہذیب پہلی صدی قبل مسیح میں اپنے عروج سے پانچویں صدی میں زوال تک سائنس اور فلسفے میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکی۔

رومی سلطنت کے زوال نے یورپ میں تاریک دور کا آغاز کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپ میں تاریک دور کا آغاز عیسائیت کے عروج کے ساتھ ہوتا ہے۔ شہنشاہ قسطنطین نے چوتھی صدی میں عیسائیت کو ریاستی مذہب کے طور پر اپنایا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ 200 عیسوی اور 750 عیسوی کے درمیان، جب مسلمان منظر پر نمودار ہوئے، کسی تہذیب نے علم کو آگے بڑھانے میں شاید ہی کوئی اہم کردار ادا کیا ہو۔

دوسرا بڑا دور اسلامی تہذیب کا ہے جس کے مراکز بغداد اور قرطبہ میں تھے۔ اسلام کے سنہری دور کے دانشوروں میں جابر بن حیان شامل تھے جنہوں نے کیمسٹری کی بنیاد رکھی، الخوارزمی جنہیں الجبرا ایجاد کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے، الکندی جنہیں پہلا مسلمان فلسفی مانا جاتا ہے، حنین بن اسحاق جن کی طب میں خدمات جدید دور تک با اثر رہیں، اور ابن الہیثم جنہیں آپٹکس کا باپ سمجھا جاتا ہے۔ اس دور نے کچھ عظیم فلسفی بھی پیدا کیے۔ ان میں ابن سینا شامل تھے جو اسلامی تاریخ کے بہت با اثر فلسفی تھے، الفارابی جن کو اکثر ارسطو کے مساوی شمار کیا جاتا ہے، الغزالی جن کی ارسطو کی سائنس پر تنقید نے اسلامی فکر کو بہت متاثر کیا۔ اور ابن رشد جنہیں عقلیت پسندی کا باپ سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی تہذیب تیرہویں صدی کے وسط تک پروان چڑھی۔ پھر دو واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کے زوال اور مغرب کے عروج میں اہم کردار ادا کیا۔

میرے نزدیک، مسلمانوں کے زوال کی بڑی وجہ صلیبی جنگیں تھیں۔ 27 نومبر 1095 کو ، پوپ اربن دوم نے، کلیرمونٹ کی کونسل میں چرچ کے رہنماؤں کی ایک جماعت کے سامنے قرون وسطی کی شاید سب سے زیادہ نتیجہ خیز تقریر کی۔ پوپ نے شرکت کرنے والے مسیحی عقیدے کے لوگوں کو یروشلم کی ”مقدس سرزمین“ کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کرانے کا حکم دیا۔ 638 ء میں حضرت عمر کے دور خلافت میں یروشلم مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا تھا۔ اس تقریر نے تقریباً دو سو سال تک جاری رہنے والی صلیبی جنگوں کو متحرک کیا۔ شروع میں صلیبی اپنے مقصد میں کامیاب رہے لیکن آخر کار ناکام ہوئے اور 1291 عیسوی میں آخری صلیبی جنگ میں انہیں مشرق وسطیٰ سے مکمل طور پر نکال دیا گیا۔

صلیبی جنگوں میں فوجی کامیابی کے باوجود صلیبیوں کے مسلسل حملوں سے مسلمانوں کا دفاع کمزور پڑ گیا۔ اس کے نتیجے میں جب منگولوں نے مسلم سلطنت پر حملہ کیا تو وہ اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ 1258 عیسوی میں، ہلاکو خان ​​نے بغداد پر قبضہ کیا، خلیفہ سمیت شہر کے زیادہ تر مرد باشندوں کو قتل کر دیا، اور شہر کی تقریباً اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسلمان اس عبرتناک شکست سے آج تک نہیں نکل سکے۔ اس شکست نے ان کے سنہری دور کا مرکز مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ صلیبی جنگیں یورپیوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئیں۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ مغربی مورخین 1095 کو وہ سال قرار دیتے ہیں جب یورپ اس تاریک دور سے نکلا تھا جس میں وہ چھٹی صدی میں رومی سلطنت کے زوال کے وقت داخل ہوا تھا۔ یہ اس حقیقت کے باوجود کہ صلیبی جنگیں عیسائی افواج کے لیے ایک فوجی آفت ثابت ہوئیں۔ اعلیٰ درجے کی اسلامی تہذیب سے رابطہ ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔

اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ یونانی علم جو رومی دور میں کھو گیا تھا اس تعلق کے ذریعے یورپیوں تک پہنچا۔ اٹلی میں نشاۃ ثانیہ، جرمنی میں اصلاحی تحریک اور پورے یورپ میں عقلیت کے دور کا آغاز، ان سب کی جڑیں دو سو سال تک کھیلے جانے والے اس ڈرامے سے وابستہ تھیں۔ اس حقیقت نے کہ خدا مقدس سرزمین کو ”کافر مسلمانوں“ سے چھیننے میں صلیبیوں کی مدد نہیں کر سکا تھا، عوام پر پوپ اور کلیسا کی گرفت کو کمزور کر دیا۔ کلیسا کے کمزور ہونے کے ساتھ، ایک عقلی سوچ نے زور پکڑا جس کا نتیجہ سولہویں صدی میں ایک سائنسی انقلاب کی شکل میں رونما ہوا۔

سوال اب بھی باقی ہے : ایسا کیوں ہے کہ عیسائی یورپ میں سولہویں صدی کے وسط میں سائنسی انقلاب برپا ہوا؟ اس کے باوجود کہ یونانیوں اور مسلمانوں نے کئی صدیوں تک حکومت کی، یونانی اور مسلمان جیسی عظیم تہذیبوں کے دور میں یہ کام نہ ہو سکا۔ وہ نیوٹن کے قوت ثقل یا حرکت کے قوانین سے موازنہ کرنے والی کوئی چیز پیدا نہیں کر سکے۔ ان قوانین کی اہمیت یہ تھی کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسے قوانین وجود میں آئے جو آفاقی تھے۔ ان قوانین کی درستگی چھوٹی سے بڑی اشیاء تک تھی۔ ان قوانین کی تشکیل نے ایک سائنسی انقلاب برپا کیا۔

سائنسی انقلاب عیسائی یورپ میں کیوں وقوع پذیر ہوا، مسلم دور میں کیوں نہیں، اس اہم سوال پر میرا نقطہ نظر یہ ہے۔

سولہویں صدی میں عقلی فکر اور عیسائی مذہب ایک دوسرے سے تصادم کے راستے پر تھے۔ ایسا دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ یہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ کسی مذیب نے ایسے عقائد کو فروغ دیا جو سائنسی سوچ اور انسانی فکر کے براہ راست مخالف تھے۔

یورپ، جو عیسائیت کے عروج کے ساتھ ایک تاریک دور میں داخل ہو گیا تھا، اس دور سے نکل رہا تھا۔ طویل تاریک صدیوں کے دوران، عیسائیت نے، پوپ کے تحت، ایک انتہائی سائنس مخالف رویہ پیدا کیا تھا۔ ایک ایسا رویہ جو آج مسلم دنیا میں رائج ہے۔ فرق یہ ہے کہ اسلام میں پوپ جیسی مرکزی شخصیت کبھی نہیں آئی۔ پوپ، اور چرچ، عیسائیت کے اندر طاقت کے مرکز کی علامت تھے۔

عیسائیت اور سائنس کی کشمکش کا سب سے نمایاں مظاہرہ یہ تھا کہ جب نکولس کوپرنیکس نے نظام شمسی کا ایک ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا، ایک ایسا نظام جس میں تمام سیارے، بشمول زمین، سورج کے گرد دائرے میں حرکت میں ہیں، تو اسے چرچ کی شدید مخالفت کا سامنا تھا۔ یہ نئی سوچ اس پندرہ سو سال پرانے بطلیمی جیو سینٹرک ماڈل کی جگہ لے رہی تھی جس کے مطابق انسانوں سے بسی زمین نظام شمسی کے مرکز میں حالت سکوت میں تھی اور تمام سیارے، بشمول سورج اور چاند، اس کے گرد حالت گردش میں تھے۔

کوپرنیکس کے تجویز کردہ ہیلیو سینٹرک نے نظام شمسی میں زمین، اور اس طور انسان، کی مرکزیت کو چھین لیا جو عیسائی مذہبی تعلیمات کے خلاف تھا۔ عیسائی چرچ اور پوپ کی مخالفت اس قدر شدید تھی کہ کچھ روایات کے مطابق کوپرنیکس اپنی زندگی کے آخر تک اپنی ہیلیو سینٹرک تھیوری کو شائع نہ کر سکے۔ ان کو اپنی کتاب De Revolutionibus کا شائع شدہ نسخہ اپنی زندگی کے آخری دن ملا، اس طرح وہ یہ جانے بغیر مر گئے کہ ان کے نظریات انسانی سوچ پر کتنے گہرے نقوش چھوڑیں گے۔

کوپرنیکس کی یہ تقدیر اسی طرح کے مشاہدات پر مسلم معاشرے کے ردعمل کے بالکل برعکس تھی۔ بطلیمی جیو سینٹرک ماڈل دسویں صدی سے ہی مسلمان فلکیات دانوں کی تنقید کی زد میں تھا۔ الحازن نے الشکوک الا بطالمیوس (بطلیموس کے بارے میں شکوک) کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اسی طرح البیرونی کی فلکیات کی بنیاد اس بات پر تھی کہ آسمان کی بجائے زمین حرکت کرتی ہے۔ 13 ویں صدی کی ایک عربی تصنیف میں کہا گیا ہے : جیو میٹرز [یا انجینئرز] کے مطابق، زمین مسلسل گردش میں ہے، اور جو چیز آسمانوں میں حرکت کرتی نظر آتی ہے وہ دراصل زمین کی حرکت کی وجہ سے ہے نہ کہ ستاروں کی حرکت کی وجہ سے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں یہ مشاہدات کسی انتقامی کارروائی کے خوف یا مذہب سے اخراج کے خطرے کے بغیر کیے جا سکتے تھے۔ اسلام میں ان کو مذہب سے خارج کرنے کے لیے کوئی پوپ نہیں تھا۔

دوسری، اور شاید سب سے مشہور، مثال گلیلیو گیلیلی کی ہے۔ انہوں نے سیارے مشتری کے چاندوں کو دریافت کیا۔ نئی دریافت شدہ دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کی بڑی فلکیاتی دریافتوں نے کوپرنیکس کے تجویز کردہ ہیلیو سینٹرک نظام کو قبول کرنے کی راہ ہموار کی۔ تاہم، ان خیالات کو مذہبی طور پر توہین آمیز اور بائبل کی تعلیمات کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ 1615 میں رومن انکوائزیشن کے ذریعے ان پر پوپ کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

گیلیلیو کو سزائے موت سے بچنے کے لیے ہیلیو سینٹرک ماڈل کے لیے اپنی حمایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے اپنی باقی زندگی گھر میں نظر بند گزاری۔ تقریباً چار سو سال بعد 1992 میں چرچ نے ہیلیو سینٹرک ماڈل کی حمایت کرنے کے جرم میں گلیلیو پر مقدمہ چلانے کو اپنی غلطی تسلیم کیا۔ پوپ جان پال دوم نے تسلیم کیا کہ چرچ نے گلیلیو کے ان خیالات کی مذمت کرنے میں غلطی کی تھی جن کے مطابق زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

انسانی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی عقلی رویہ کو مذہب کی طرف سے اتنی سخت مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ کشمکش، میری رائے میں، عیسائی مغرب میں سائنسی انقلاب کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ سائنس اور سائنسی سوچ فاتح نکلی۔ سائنس بارش اور سورج گرہن جیسے مظاہر کی نہ صرف وضاحت کر سکتی ہے، بلکہ اعتماد کے ساتھ ان اور ان جیسے اثرات کی پیشن گوئی بھی کر سکتی ہے جن کو ایک وقت مذہبی عقائد کی روشنی میں سمجھا جاتا تھا۔

سائنسی نظریہ کی صداقت کو کوئی بھی اور کہیں بھی بڑی کامیابی کے ساتھ آزما سکتا ہے۔ دوسری طرف، مذہب کسی عقلی جواز کے بغیر عقائد پر مبنی ہے۔ سائنس کی اس طاقت نے عوام پر مذہب کی گرفت کو کمزور کر دیا۔ غیر واضح مشاہدات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اب مذہب کی ضرورت نہیں تھی۔ اب یہ سمجھا جانے لگا کہ سائنس، جس کی بنیاد عقلی دلائل پر ہے، ان مشاہدات کو بخوبی واضح کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس طور مذہب کی اتھارٹی نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ سائنسی انقلاب کے نتیجے میں عیسائی دنیا میں مذہب کی چمک دمک ختم ہو گئی۔ پورے عیسائی یورپ میں مذہب کے مقابلے میں سائنسی فکر کو اعلیٰ تسلیم کیا گیا۔

مذہب پر سائنس کی فتح نے ایک بے مثال سائنسی انقلاب کا آغاز کیا جو آج تک جاری ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy