اداکار شکیل بھی رخصت ہوئے
عید کی چھٹیوں میں ہم وہاں تھے جہاں موبائل کے سگنلز مشکل سے ہی آتے تھے۔ جمعہ کی شام کو کچھ سگنلز ملے تو فیس بک کھولی اور پہلی نظر اس خبر پر پڑی کہ اداکار شکیل بھی رخصت ہوئے اور مجھے یاد آیا کہ برسوں پہلے کراچی سے ایک انگریزی فلمی رسالہ نکلتا تھا۔ ایسٹرن فلمز یا کچھ ایسا ہی نام تھا۔ آصف نورانی اس کے ایڈیٹر ہوتے تھے۔ انہوں نے دو خوبصورت نوجوانوں پر ایک پورا فیچر چھاپا تھا۔ جو فلمی دنیا میں آنے کے لئے پر تول رہے تھے۔
یقین مانئیے، اس سے پہلے اتنے خوب صورت نوجوان ہم نے نہیں دیکھے تھے۔ یہ نوجوان تھے حنیف اور بھوری آنکھوں والا شکیل۔ حنیف میں تو لوگوں کو دلیپ کمار کی مشابہت نظر آتی تھی۔ عام اندازوں کے برعکس شکیل فلمی دنیا میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے۔ حنیف نے بھی کچھ فلمیں کیں اور پھر وہ کار شو روم چلانے لگے تھے۔ لیکن شکیل کوئی دس فلموں میں کام کرنے کے بعد ’ادھر ڈوبے، ادھر نکلے‘ کے مصداق بڑے اسکرین سے ڈوبے تو چھوٹے اسکرین پر نمودار ہوئے اور اتنے کامیاب ہوئے، اتنے کامیاب ہوئے کہ بہت سے فلمی ہیروز کو پیچھے چھوڑ دیا۔
وہ ٹی وی ناظرین کے مقبول ترین اداکار تھے۔ جب تک ان کی شادی نہیں ہوئی تھی تب تک ناظرین کے لئے یہ بھی بہت اہم تھا کہ وہ کس سے شادی کریں گے۔ مجھے یاد ہے اس حوالے سے اخبار خواتین میں باقاعدہ فیچر چھپا تھا کہ ان کی اماں نے کتنی لڑکیاں دیکھیں اور پھر قرعہء فال کس کے نام نکلا۔
ان کا سب سے مقبول ڈرامہ ”انکل عرفی“ تھا۔ ناظرین کے لئے یہ ڈرامہ بے حد اہمیت رکھتا اور وہ بے چینی سے اگلی قسط کا انتظار کرتے تھے۔ آخر میں ڈرامے کی ہیروئن کی خود کشی پر انکل عرفی کے دکھ کو سب نے ہوں محسوس کیا تھا جیسے یہ دکھ ان کے اپنے سگے انکل یا بھائی کا ہو۔ ان کہی میں شہناز شیخ کے ساتھ اور آنگن ٹیڑھا میں بشری انصاری اور سلیم ناصر کے ساتھ اور شہ زوری میں نیلوفر عباسی کے ساتھ انہوں نے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے گھر کر لیا۔ انتظار فرمائیے اور زیر زبر پیش بھی بہت مقبول ہوئے۔
ایک زمانے میں خواتین اے آر خاتون کے ناول بہت شوق سے پڑھتی تھیں۔ ان کے ایک ناول ”افشاں“ کی ڈرامائی تشکیل شاید فاطمہ ثریا بجیا نے ٹی وی کے لئے کی تھی۔ اس میں بھی شکیل کا کردار بہت پسند کیا گیا تھا۔ بانیء پاکستان کی زندگی کے بارے میں بننے والی فلم میں کرسٹوفر لی کے ساتھ انہوں نے لیاقت علی خاں کا کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے بی بی سی کی سیریل ”ٹریفک“ میں بھی کام کیا۔ 2015 میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
اداکاروں کی بھی ایک عمر ہوتی ہے، اب ہر کوئی امیتابھ بچن نہیں ہوتا۔ شکیل بھی آہستہ آہستہ چھوٹے اسکرین سے دور ہوتے چلے گئے۔ لیکن لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کچھ سال پہلے ان کی بائی پاس سرجری بھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد جوڑوں کا درد بھی رہنے لگا تھا۔ جس کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا۔ اور پھر 29 مئی 1938 کو بھوپال میں پیدا ہونے والے یوسف کمال 85 سال کی عمر میں 29 جون 2023 کو رخصت ہو گئے۔ لیکن اپنے لازوال کرداروں کے روپ میں وہ ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔


