سانحہ 9 مئی۔ فوج کیا کر رہی ہے؟


سانحہ 9 مئی 2023 کو ڈیڑھ ماہ ہو گیا تھا لیکن اس بارے میں فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائی بارے میں عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی فوج نے فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں معاف کر دیا ہے اور در گزر سے کام لیا ہے لیکن ہفتہ کے آغاز میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس نے اس بارے پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے فوجی تنصیبات (گیریژن، جی ایچ کیو اور جناح ہاؤس ) کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں ناکامی پر جہاں ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین فوجی افسران کو برطرف کر دیا گیا ہے وہاں 3 میجر جنرلز 7 برگیڈیئرز سمیت فوجی افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے سر دست ان افسران کے ناموں کا اعلان نہیں کیا کہ ہر کوئی ان ناموں سے آگاہ ہے عام تاثر تھا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والی ان فیملیز کو معافی مل جائے گی جن کا عسکری پس منظر ہے لیکن فوج کے ترجمان نے اس تاثر کو بھی زائل کر دیا ہے کہ ریٹائرڈ جرنیلوں کی بیگمات اور اولاد کے احتساب کا پیمانہ کچھ اور ہے انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک سابق فور جنرل کی نواسی، داماد و بیگم، سابق تھری سٹار جنرل کی بیگم، سابق ٹو سٹار جنرل کی بیگم اور داماد پاک فوج کے احتسابی عمل سے گزر رہے ہیں فوج نے اپنی روایات کے مطابق خود احتسابی مرحلے کو مکمل کر لیا ہے اگرچہ پورے ملک میں سانحہ 9 مئی 2023 ء میں ملوث 10، 12 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا بیشتر افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا تاہم فوجی ترجمان نے انکشاف سر دست 102 شرپسندوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو رہا ہے جس کے بارے میں کہا کہ یہ کارروائی جاری رہے گی فوج کے ترجمان نے یہ پریس کانفرنس اس وقت کی جب پاکستان میں سویلین کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر کچھ یورپی ممالک میں انسانی حقوق کے حوالے ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ دوسری طرف ملک کے نامور وکلا ء نے سپریم کورٹ میں سویلین آبادی کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے پر درخواستیں دائر کر رکھی ہیں سر دست سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے بظاہر اس صورت حال میں فوج تذبذب کا شکار نظر آتی تھی لیکن قرائن یہ بتاتے ہیں فوجی تنصیبات پر حملہ آور عناصر خواہ وہ ملکی ہوں یا اس کے تانے بانے بیرون ملک جا کر ملتے ہوں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کتاب میں ”رحم“ نام کی کوئی چیز نہیں

فوجی و عسکری قیادت کی متفقہ رائے ہے کہ 9 مئی 2023 ء کا واقعہ اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ایک مقصد، سوچ اور منصوبہ بندی کارفرما تھی جو پچھلے کئی ماہ سے جاری تھی اگرچہ فوج کے ترجمان نے واضح الفاظ میں اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ کا نام لینے سے گریز کیا ہے تاہم اشارتاً ان عناصر کی نشاندہی کر دی ہے جو اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ ہیں انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ وہی ہیں جنہوں نے فوج کے خلاف بیانیہ بنایا عسکری قیادت اور افواج پاکستان سانحہ 9 مئی 2023 کے ذمہ داروں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا جب 16 دسمبر 1971 ء کو ”سقوط ڈھاکہ“ کی خبر ملی تو میں اس روز بہت رویا 9 مئی 2023 ء کا سانحۂ ”سقوط ڈھاکہ“ سے کم تھا لیکن ایک سیاسی لیڈر کی گرفتاری پر 10، 15 ہزار ”بلوائیوں“ نے فوجی تنصیبات کی اینٹ سے اینٹ بجا دی آج بھی جب میں پاکستان کے اس ”نائن فائیو“ کا تصور کرتا ہوں تو کانپ کانپ جاتا ہوں خدایا ہماری زندگی میں ایسا دن بھی آئے گا کہ لوگ پاکستان کی محافظ افواج پر چڑھ دوڑیں گے میں اس واقعہ کو بھلانا بھی چاہوں تو بھلا نہیں پا رہا فوج اس واقعہ کو کیسے بھلا پائے گی فوج کے ترجمان کے اس عزم کے اعادہ سے عام آدمی کے جذبات کو بھی تقویت ملی ہے کہ ”اس سانحہ میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا خواہ ان کا تعلق کسی ادارے، سیاسی جماعت یا معاشرتی حیثیت سے کیوں نہ ہو“ عسکری قیادت کی جچی تلی رائے ہے ایک سیاسی گروہ (پی ٹی آئی ) جس کا نام فوج کے ترجمان نے مصلحتاً لینے سے گریز کیا کی قیادت کے پاس پروپیگنڈے کا ہتھیار ہے جس نے نوجوانوں سے انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگوا کر بغاوت پر اکسایا ”نائین فائیو“ میری زندگی میں ایسا واقعہ ہے جسے میں نہ بھلا سکوں گا 17 فوجی عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیوز چیخ چیخ کر مجرموں کی نشاندہی کر رہی ہیں فوج نے پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران ان قومی مجرموں کے بارے میں تمام شواہد اکٹھے کر لئے ہیں شہداء کے خاندان عسکری قیادت سوال کر رہے ہیں کہ ”قومی مجرموں“ کو کب کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا؟

اگرچہ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو اس بات کی یقین دہانی کرا دی ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو عمر قید یا سزائے موت نہیں دی جائے گی شاید یہ یقین دہانی اس لئے کرائی گئی ہے کہ پی ٹی آئی پوری دنیا میں اس بات کا پراپیگنڈا کر رہی ہے فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں عبرت ناک ( موت) سزائیں دی جا رہی ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سول عدالتوں کے پاس جانے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جس فراخ دلی سے انصاف فراہم کیا جا رہا ہے اس سے عام آدمی کا انصاف سے ہی اعتبار اٹھ گیا ہے یہی وجہ ہے عام آدمی بھی فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو فوجی عدالت کے سامنے کھڑا کرنے کا خواہاں نظر آتا ہے جہاں سول عدالتوں کے مقابلے میں 3 بار اپیل کا حق دیا گیا ہے مجرم فوجی عدالت کی دی گئی سزا کے خلاف آرمی چیف سے اپیل کر سکتا ہے جب کہ اس کے پاس ریلیف کے لئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دو فورم بھی موجود ہیں فوج کے ترجمان نے بھی فوجی عدالتوں کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اس کو پوری جانچ پڑتال کے بعد توثیق کی ہے فوجی قوانین و ضوابط کے تحت تمام مقدمات کی سماعت ان کیمرہ ہوتی ہے چونکہ ان مقدمات میں ملزمان کو وکیل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے لہذا اگر فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی ریاستی ٹی وی کے ذریعے کوریج کی جائے تو عوام ان لوگوں کے بارے میں حقائق سے آگاہی حاصل کر سکیں گے ان کی فوٹیج اور اعتراف جرم اس بات کی گواہی دیں گے کہ وہ اس جرم میں ملوث ہیں فوج کے ترجمان نے یہ بات درست کہی ہے کہ سانحۂ 9 مئی 2023 ء کی ذمہ داری فوج اور ایجنسیوں پر ڈالنے سے زیادہ شرمناک بات نہیں کہی جا سکتی اس وقت سانحہ کے کچھ مجرمان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں ہیں کچھ زیر زمین چلے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود اس سیاسی جماعت کے تنخواہ دار سوشل میڈیا ورکر پاک فوج کے خلاف مسلسل پراپیگنڈا میں مصروف ہیں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک سے اکاؤنٹس چلا رہی ہے جو ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے باہر ہیں انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کو معلوم ہونا چاہیے جب انقلاب کی کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو پھر یہ بغاوت تصور کی جاتی ہے بغاوت کچل دینے کے بعد ان سے باغیوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے

Facebook Comments HS