ہم کہاں پہنچ گئے؟
ریاست کے قوم سے مخاطب ہونے کے مواقع بہت کم آتے رہے ہیں، جب دشمن ملک حملہ آور ہوا کوئی قدرتی آفت آئی۔ عوام سے نہ صرف مدد مانگی بلکہ انہیں اتحاد اور پرعزم رہنے کا درس بھی دیا گیا۔ پاکستانی قوم ایسے لمحات میں بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتی آئی ہے۔
ملی نغمے اور خاص طور پر قومی ترانے کے الفاظ اور دھنیں جذبہ حب الوطنی سے سرشار کرنے کا کام کرتے ہیں۔ قومی ترانہ فارسی میں ہے۔ اس میں شاعر حفیظ جالندھری نے دعا کی ہے۔ پاک سر زمین شاد باد۔ یعنی یہ دھرتی ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ کشور حسین بھی خوبصورت زمین کو خوش رہنے کی دعا دی ہے۔ یہ سب اس وقت لکھا گیا جب قوم ایک مشکل وقت اور تکالیف سے نکلنے کی جد و جہد میں مصروف تھی۔ ترانے کا مقصد بھی عوام کو حوصلہ دینا اور یقین پیدا کرنا تھا۔
ریاست کی توقعات لوگوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے بالکل ایسے ہی ملک بسنے والے بھی اپنی سلطنت سے بے شمار امیدیں وابستہ کیے ہوتے ہیں۔
قومی ترانے میں ارض پاکستان کو شاعر نے عظیم اور بڑے عزم کا نشان قرار دیا اور پھر کہتے ہیں کہ یہ ملک لوگوں کے یقین اور امید کا مرکز بن کر ہمیشہ خوشحال رہے۔ آگے چل کر پاک سر زمین کے نظام سے متعلق کہتے ہیں کہ اس کی بنیاد اور ریڑھ کی ہڈی عوام کی قوت اور بھائی چارہ ہے۔ لوگ اکٹھے، متحد ہو کر رہیں یہی ان کی طاقت ہوگی۔ قوم، ملک اور سلطنت یعنی لوگ، یہاں کی دھرتی اور ریاست ہمیشہ چمکتی دمکتی رہے۔ خوش رہنا، آباد رہنا قوم کی منزل ہے۔ چاند اور تارے۔ والے پرچم سے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ہماری ترقی، مہارت اور صلاحیت کی رہبر اور قائد کا کردار ادا کرتے ہیں۔
ملک کو ماضی کی داستانوں اور کہانیوں کا ترجمان حال کی شان اور آنے والے مستقبل کی جان ہے۔ اچھا وقت ضرور آنے والا ہے۔ ترانے کا اختتام بھی اس دعا اور آس پر کیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی شان کا سایہ ہم پر قائم دائم رہے مطلب ذات باری تعالٰی ملک پاکستان کی حفاظت کرے۔
کسی بھی دور میں نوجوان نسل ہو یا پھر وطن سے لاتعلق بیزار رہنے کی سوچ سب کے لئے قومی ترانے کے الفاظ محض فارسی یا کہہ لیں غیر اور انجان زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھنا مشکل رہے۔ شاید انگریزی میں زیادہ قابل قبول ہو جاتے اور کم ازکم پڑھے لکھے لوگ اس کا مفہوم جان لیتے۔
اس تحریر کا مقصد بھی ترانے کی حقیقت اور مطلب تلاش کرنا تھا ریاست نے کبھی اس کی تشریح یعنی حقیقی معنوں میں تعبیر ڈھونڈنے کی زحمت تک نہیں کی۔ سول ملٹری بیوروکریسی نے دو تین دہائیوں سے میڈیا پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کی وجہ لوگوں تک ہر طرح سے ایک ملک، اس کا اتحاد، لوگوں میں اس کے لئے محبت کا جذبہ پیدا یا بیدار کرنے کی کوشش تھی۔
جنگیں لڑے کئی برس بیت گئے، قدرتی آفات بھی حالیہ برسوں میں نہیں آئیں۔ ایک بات ضرور ہے سیاست میں ایسے بحران پیدا ہوئے کہ نوبت قوم کے اتحاد کا شیرازہ بکھرنے تک آن پہنچی۔ اداروں کی سیاست میں مداخلت کا نتیجہ یہاں تک آ گیا کہ اب نئی نسل براہ راست اداروں پر سوال کرنے لگی ہے۔ ان کی سوچ جمہوری ہے لیکن زیادہ تر عمل من مانی کے ہوتے ہیں۔ یہی حال اداروں کا ہے وہ پسند ناپسند کے فیصلے تھوپتے ہیں اور بے شمار سوال کھلے چھوڑ دیتے ہیں جن کے جواب بعض اوقات نہیں بن پڑتے جس کے نتیجے میں انہیں کئی غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدام اٹھانا پڑتے ہیں اور وہ دوبارہ بحث کا موضوع بن جاتے ہیں ایسے میں ملک میں جاری سیاسی عمل بھی اپنے اصولوں کے ڈگر سے ہٹ جاتا ہے غلط کام معاملات بگاڑ دیتے ہیں اس سب کو سمیٹنے میں کئی اور غلطیاں ہوجاتی ہیں اور پھر بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔
9 مئی 2023 کا دن ایک مکمل بحث کا متقاضی ہے۔ اگر اس سب کے پس پشت کوئی سازش یا تیاری تھی تو اس کی غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ محض ایک سیاسی جماعت یا فرد کا معاملہ نہیں رہا اس میں ریاست نے پوری قوم اور نظام کو شریک کر لیا ہے۔ جس کے بعد حالات ایک بار پھر قومی ترانے کا مطلب تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سوال ایک عام شہری بھی پوچھتا ہے کہ ہم کس سمت کی جانب رواں دواں ہیں جب ملک کی معاشی سماجی اور سیاسی بنیادیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں ایسے میں سیاست کو سامنے رکھ کر ہونے والا عمل بہت سی الجھنوں کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں حالات ریاست اور عوام سے بے شمار تقاضے کر رہے ہیں۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ سے اس ملک اور قوم کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ خوشحال رہے اس میں ہمارے عزم و یقین کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ قوم کو متحد رکھنے کے لیے اور اس کی پائیدار خوشی اور خوشحالی کی خاطر کیا اقدام اٹھائے گئے۔
شاید ہم نے جانا کہیں تھا پہنچ کہیں اور گئے ہیں۔


