قرآن مجید کی تعریف کرنے پر زندہ جلا دیا


سویڈن میں عید الاضحیٰ کے موقع پر قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کا واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ واقعہ اپنی ذات میں تو قابل مذمت ہے لیکن جس انداز میں یہ فعل سرانجام دیا گیا وہ اتنا گرا ہوا ہے کہ صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ہر شریف انسان کو اس سے گھن آتی ہے۔ ہم یہ تو تسلیم کر سکتے ہیں کہ سویڈن کی اکثریت اس فعل کو ناپسند کرتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپ کے لوگوں کی ایک خاطر خواہ تعداد کے ذہنوں میں اس سے ملتے جلتے خیالات پرورش پا رہے ہیں۔ اور اس طرح کے رجحانات پنپ رہے ہیں جو کہ مذہبی تعصب سے زیادہ اجتماعی نفسیاتی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اس بات سے انکار نہیں کہ اہل یورپ نے ایک زمانہ میں دنیا کے چوٹی کے سائنسدان، ادیب اور فلاسفر پیدا کیے ہیں۔ لیکن یہ تاریخی حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دنیا کی بد ترین خون ریز جنگوں کا آغاز بھی اہل یورپ میں سے بعض کی تنک مزاجی کی وجہ سے ہوا تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی وجہ صرف اہل یورپ کا احساس برتری ہی بنا تھا۔ اس سے پہلے صلیبی جنگوں کا ایک لاحاصل سلسلہ بھی اسی طرح کی اسلام دشمن نفسیات کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔ اہل یورپ کی ایک تاریخ ہے اور وہ یہ کہ یہ عالمی جنگ شروع تو کر دیتے ہیں لیکن پھر یہ تصادم ان سے ختم نہیں ہوتا۔ اور اس کو ختم کرنے کے لئے انہیں دوسروں کی مدد کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔

بعض مرتبہ قدیم تاریخی واقعات کا مطالعہ موجودہ تصادم کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مسلمانوں کی مخالفت کی نفسیات سمجھنے کے لئے اس طویل تاریخ کی صرف ایک جھلک پیش کی جاتی ہے۔ جہاں تک یورپ کا تعلق ہے تو سب سے پہلے یورپ میں قرآن مجید کا ترجمہ بارہویں صدی میں کیا گیا۔ یہ ترجمہ لاطینی زبان میں تھا اور ترجمہ کرنے والے کا نام رابرٹ آف کیٹن (Robert of Ketton) تھا۔ اور اس ترجمہ کرانے کے محرک ایک نامور فرانسیسی کیتھولک مسیحی عالم اور مبلغ پیٹر Venerable) ( Abbot Peter تھے۔ اور اس کا مقصد قرآن مجید کے خلاف لٹریچر پیدا کرنا تھا۔

کچھ صدیوں تک یہ قرآن کریم کا واحد ترجمہ تھا جو کہ یورپ میں رائج رہا۔ یہ ترجمہ مکمل ترجمہ نہیں تھا بلکہ مضامین کا خلاصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ قلمی نسخہ تھا کیونکہ ابھی پریس ایجاد نہیں ہوا تھا۔ بہرحال یہ ترجمہ عام طور پر دستیاب نہیں تھا اور اس کے نسخے زیادہ تر ان لوگوں کی تحویل میں تھے جو کہ اسلام کی مخالفت میں سرگرم تھے۔ پندرہویں صدی میں پریس ایجاد ہوا۔ اور اس کے ساتھ ہی کیتھولک چرچ میں دراڑیں پڑنے لگیں۔

اور جرمن راہب مارٹن لوتھر کی قیادت میں ایک گروہ کیتھولک چرچ سے علیحدہ ہو گیا۔ اس کے بعد 1543 میں بیسل (Basel) کے ایک عالم اور ناشر Johannes Oporinus نے یہ ارادہ کیا کہ قرآن مجید کے اس لاطینی ترجمہ کو پریس میں شائع کر کے عام کر دیا جائے۔ شہر کی انتظامیہ کو اس کی خبر ہو گئی اور اور اس خبر نے انہیں اتنا حواس باختہ کیا کہ انہوں نے اس ناشر کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا اور اور جو شائع کردہ مواد ملا وہ ضبط کر لیا۔ مارٹن لوتھر نے شہری انتظامیہ کو خط لکھا کہ یہ ترجمہ شائع ہونا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح جب لوگوں کو انجیل اور قرآن مجید کا موازنہ کرنے کا موقع ملے گا وہ خود بخود اسلام کے خلاف ہوجائیں گے۔ اس اشاعت کا پیش لفظ پروٹسنٹ فرقہ کے بانی مارٹن لوتھر نے ہی لکھا تھا۔

یورپ کے لوگوں کو جو اسلام کے متعلق معلومات مہیا تھیں وہ محض اس زہر فشانی سے اخذ کی گئی تھیں جو کہ صلیبی جنگوں پر اکسانے کے لئے چرچ نے اسلام کے خلاف پھیلائی تھی۔ جب کم از کم یورپ کے دانشوروں کو یہ ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا تو ان میں سے بعض کا رد عمل مارٹن لوتھر کے اندازے سے بالکل بر عکس تھا۔ اس کالم میں صرف ایک مثال کی جاتی ہے۔

ایک مشہور ہسپانوی مصنف، مذہبی مفکر اور ماہر طبیب مائیکل سرویٹس (Michael Servetus) نے مسیحی ہونے کے باوجود قرآن کریم سے متاثر ہو کر چرچ کے عقائد کی مخالفت شروع کر دی اور اسے خلاف عقل قرار دینا شروع کر دیا۔ یہ شخص زمانہ طالب علمی سے انقلابی ذہن کا تھا اور اس نے اسی دور میں مارٹن لوتھر کے خیالات کی حمایت شروع کردی تھی۔ اس وجہ سے اسے بعض شہروں سے نقل مکانی بھی کرنی پڑی تھی۔ یہ اس حیثیت کا شخص تھا کہ یہ فرمانروا چارلس پنجم کے عملہ سے بھی وابستہ رہا تھا۔

اسے شروع ہی سے اپنے آبائی مذہبی خیالات سے اختلاف تھا۔ اور 1531 میں اس کی پہلی کتاب منظر عام پر آ چکی تھی۔ اس کتاب میں تثلیث کے عقیدہ پر تنقید کی گئی تھی۔ جب اس پر شدید رد عمل پیدا ہوا تو اس نے اپنی دوسری کتاب میں اپنے خیالات کی کچھ وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن اس پر بھی اتنا شدید رد عمل پیدا ہوا کہ اسے نام اور سکونت دونوں بدلنے پڑے۔

ممکن ہے اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے قرآن مجید کے لاطینی ترجمہ کی طباعت سے قبل بھی سرویٹس کو قلمی نسخوں تک رسائی ہو لیکن جب یورپ میں یہ ترجمہ شائع ہو گیا اور فوری طور پر اس کی شہرت بھی ہو گئی تو سرویٹس نے اپنی تیسری کتاب میں بار بار قرآن مجید کی آیات کے حوالے دیے اور بعض مقامات پر دبے ہوئے الفاظ میں اور بعض اور مقامات پر کھلم کھلا قرآن مجید کی تعریف کی کہ اصل توحید تو وہی ہے جو قرٓن مجید نے پیش کی ہے۔ اس نے یہ کتاب بغیر کسی مصنف کے نام کے شائع کی تھی لیکن یہ راز افشا ہو گیا کہ اس کتاب کا مصنف سرویٹس تھا۔

ان نظریات کی وجہ سے اس کی مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک چرچ دونوں نے اس کی کتابوں کو دبانے کی کوششیں شروع کر دیں اور ارادہ کیا کہ اسے گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلائیں۔ سرویٹس فرار ہو کر جینیوا چلا گیا کیونکہ وہاں پر کالون پروٹسٹنٹ طبقہ کا زور تھا مگر اس کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا اور اسے گرفتار کر کے اس پر ارتداد کا مقدمہ چلا کر اسے 27 اکتوبر 1553 کو زندہ جلا کر سزائے موت دی گئی۔ اس پر چلنے والے مقدمہ کے دوران اسے گلیلیو کی طرح سوالات کر کے مجبور کیا گیا کہ وہ اسلام کے خلاف خیالات کا اظہار کرے لیکن اس سے بھی سرویٹس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اور اسے تعصب کے شعلوں میں زندہ جلا دیا گیا۔

ان پانچ سو سال میں یورپ کے تنگ نظر طبقہ نے بس اتنی ہی ترقی کی ہے کہ پانچ سو سال قبل جو شخص قرآن مجید کی صرف تعریف کرے یا اپنی تائید میں اس کے حوالے پیش کرے اسے زندہ جلا دیتے تھے۔ اب ایسے انسان کو تو زندہ نہیں جلاتے لیکن قرآن مجید کے نسخوں کی بے حرمتی کر کے اپنی تنگ نظری کا اعلان کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ طبقہ اپنے ذہنوں میں تھوڑی سی وسعت اور برداشت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

Facebook Comments HS