شکر الحمد اللہ قرض مل گیا
ایک دن اپنے ایک دوست ہاں گیا جو ہمارے ساتھ والے محلے میں رہتے ہیں سہ پہر کا وقت تھا کچھ لوگ چار پائی پر بیٹھے قریب پکنے والی دیگ کا خیال رکھنے اور پکوان کی مدد کر رہے تھے اور اندر کسی کے واعظ کرنا سنائی بھی دے رہا تھا۔ میں دوست سے اس تقریب کے مطلق ویسے ہی پوچھا یار یہ آپ کے پڑوس میں دیگ پک رہی ہے آج تو پانچوں پلاؤ میں ہوں گی ۔ دوست نے ایک آہ بھری اور زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔ یہ شکر گزاری کی دیگ ہے جناب اور یہ جو تم واعظ سن رہے ہو پادری صاحب ہیں۔ دراصل آج انہوں نے ائرکنڈیشن لیا ہے اور اس سلسلے میں شکرگزار کی عبادت رکھی ہے۔ مزید بات بڑی تو پتا چلا کہ جو اے اسی خریدا وہ وہ قسطوں پر خریدا گیا ہے جس کی ماہانہ قسط آٹھ ہزار ہے۔ لہذا یہ دیگ اور شکر گزاری اس اے سی کی وجہ سے رکھی گئی ہے۔
جناب وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب کا ٹویٹ ”شکر الحمدللہ آئی ایم ایف سے تین بلین ڈالر کا قرض ملنے کی امید جاگ چکی ہے“ کوئی ایویں سی بات نہیں اب ہر طرف پیسے ہی پیسے ہوں گے ۔ پاکستان اب ڈیفالٹ پوزیشن سے باہر آ جائے گا ہر طرف لہر بہر ہوگی۔ کیا بات ہے۔
یعنی بحیثیت قوم ہمیں آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی یا پھر ہمیں سمجھ لگنے نہیں دی گئی کہ ہمارے بنیادی مسائل ہیں کیا؟ اور ان کو حل کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ہم آج تک امداد اور قرض کی رقوم ملنے پر ہی بغلیں بجاتے رہے ہیں۔ اس لا علمی یا جہالت پر بھی لڈو تقسیم کرتے رہے ہیں کہ ملک خوش حالی کی راہ پر چل نکلا ہے۔ اس قدر مفلوج العقل قوم جو قسطوں پر اے سی اور آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض پر شکر گزاریاں کرتے نظر آتے ہیں یعنی جس بات پر سینا پیٹنے کی ضرورت ہو وہاں الحمد اللہ کہتے ہوئے بھی ذرا خیال نہیں آیا کہ ہمارے ساتھ ہو کیا گیا ہے ۔ حکمرانوں کو پچھلے چند ماہ سے جو جہد و جہد کرنی پڑی اس کا سیدھا سیدھا مطلب بنتا ہے کہ وہ ہمیں پیسے قرض کیا دیں۔
غریب بستیوں میں سود پر قرض دینے والے پٹھان بھی پہلے ہمارے اثاثے چیک کرتے ہیں پھر جاکر قرض دینے پر راضی ہوتے ہیں اور اگر ہمارے جیسے کم عقل سود پر پیسے لینے کے بعد میں شکر گزاریوں کی عبادتیں رکھیں اور ”الحمد اللہ ہمیں قرض مل گیا ہے“ تو اس سے زیادہ ناقابل ترس قوم کوئی ہو سکتی ہے؟ جو قرض پر قرض لے اور دنیا میں خود کو ذہین ترین اور عقلمند بھی سمجھے اور اگر رزلٹ پوچھیں تو سازش کا بیانیہ بنا کر خود کو بری الزمہ قرار دے دیں۔ جھوٹی انا کا اندازہ یہ لگا لیں کہ جس سے بھیک مانگتے ہیں اسے دن رات گالیاں بھی دیتے ہیں اور پھر ڈنکیاں لگا کر انہیں ملکوں کے راستوں پر مرنا بھی پسند کرتے ہیں۔ کیا کمال جملہ ہے اداکار نعمان اعجاز کا کہ ”ہم ایم ٹی اور کیو ٹی وی میں پھنسی قوم ہیں جنہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ خوش ہوں یا ماتم کریں۔ “
ہمارا تعلیمی نصاب اٹھا کر دیکھ لیں جھوٹ اور خود فریبی سے بھرا پڑا ہے۔ مطالعہ پاکستان کے مطابق ہماری زمین سونا اگلتی ہے اور ہمارا وطن قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے اور روٹی بنانے کے لیے گندم بھی ہم باہر سے منگواتے ہیں۔ سبزیاں باہر سے امپورٹ کرتے ہیں، کپڑے چائنا سے منگواتے ہیں، گیس غیروں سے لیتے ہیں۔ تیل کا کشکول لیے کہاں کہاں نہیں جاتے ہیں۔ اپنی ہی اناج اگانے والی زمینوں کو کاٹ کاٹ کر ہاؤسنگ سوسائیٹرز میں بدل دیا ہے۔ خود کو جنت کے وارث گرداننے والا کرپشن اور رشوت کی اپنی مثال آپ ہیں۔
پھر بھی خوش، الحمد اللہ آئی ایم ایف سے تین بلین ملنے کی توقع پر آس رکھے ہوئے ہیں۔ قرض مدد نہیں لعنت ہوتی ہے جہاں اپنی عزت گروی رکھنی پڑتی ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ جہاں سوائے بچوں کے کسی اور چیز کی پیداوار نہ ہو وہاں اناج نہیں بھوک اگتی ہے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں دو غریب مل کر آٹھ غریب پیدا کر دیتے ہیں جہالت کا عالم یہ ہے کہ ان کا اللہ رزق دیتا ہے بے شک وہی رازق ہے لیکن اس نے عقل بھی ساتھ ہی دی ہے۔ یہ یرغمال ملک ذہنی پسماندگی کا غلام بن چکا ہے اچھے دن آنے کی امید رکھنی چاہے لیکن کب یہ کوئی پتہ نہیں۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے اس تین بلین کا ہم کریں گے کیا۔ ابھی تک حکومت نے اس پر کوئی واضح پالیسی نہیں بتائی سوائے اس بات کے کہ یہ ہماری آخری قسط سمجھیں اور اس کے بعد مزید آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سرکار! آپ تو باہر چلیں جائیں ہم کہاں جائیں۔ خدا ہمارے ملک پر رحم فرمائے۔


