شملہ معاہدہ : گردش ایام کے روزن سے


ماضی کی سیاست کا وہ چلن ہم سے کہیں کھو گیا ہے جس میں کم از کم اہم مواقع پر سیاست دان ایک دوسرے کے معاون بن کر ملک و قوم کے وقار میں اضافہ کیا کرتے تھے

وہ مناظر یاد آتے ہیں تو یہ مصرعہ سامنے آ جاتا ہے ۔
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑانے کا مقصد ماضی میں زندہ رہنا نہیں بلکہ اس کے اندر موجود ”زندگی“ کو ڈھونڈ کر واپس لانا ہے کہ حکمت اور دانائی کا یہ راستہ جن اصولوں پر چل کر ملا تھا ان کی طرف لوٹنا اصل میں آگے کی طرف جانے کا ہی ایک طریقہ اور وسیلہ ہے۔ شملہ معاہدہ ان مواقع میں سے ایک ہے۔ جب بھٹو نے بحرانی کیفیت میں قوم کی نیا پار لگائی۔ یہ جولائی کا ہی مہینہ تھا آئیے اس پر نظر ڈالیں۔

شملہ معاہدہ پر انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستانی صدر ذوالفقار علی بھٹو نے 3 جولائی 1972 کو دستخط کیے تھے جب پاکستان کے 73 ہزار فوجی اور نیم فوجی جنگی قیدی انڈیا کی حراست میں اور مغربی پاکستان کا پانچ ہزار مربع میل رقبہ بھی انڈیا کے قبضے میں تھا۔ 1971 کی جنگ کے بعد ، بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستانی فوج میں بے چینی تھی اور فوجیوں کی رہائی کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

اندرا گاندھی ایک فاتح ملک کی لیڈر اور انڈین اخبارات انھیں ’ہندوستان کی مہا رانی لکھ رہے تھے۔ انڈیا میں پاکستان کو مزید سبق سکھانے‘ کی باتیں کی جا رہی تھیں، کہ ایک ’شکست خوردہ پاکستان‘ کو مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیر سمیت تمام تنازعات انڈیا کی شرائط کے مطابق مستقل بنیادوں پر طے کرے۔ اندرا گاندھی پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار نہ تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روس کا دورہ کیا اور روس کے ذریعے انڈیا پر دباؤ ڈلوایا۔

کافی سفارتی کوششوں کے بعد اندرا گاندھی پاکستان سے مذاکرات کے لیے راضی ہوئیں۔ پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے انڈیا جا کر مذاکرات کا فیصلہ کیا تاکہ جو بھی ابتدائی سطح پر طے پائے اسے ایک باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جا سکے۔ اس کے باوجود کہ دنیا کی رائے عامہ انڈیا کے ساتھ تھی اور فتح کے باوجود انڈیا سے مذاکرات کی میز پر بھٹو نے وہ سب کچھ حاصل کیا جو پاکستان چاہتا تھا۔ وہ تمام علاقہ جس پر انڈین فوج کا قبضہ تھا اور پاکستانی قیدیوں کی بحفاظت پاکستان واپسی۔

انڈین دانشور کے این بخشی نے شملہ معاہدے میں سفارتی سطح پر انڈیا کی ’شکست‘ کی وجہ „واسائے سنڈروم ’کے ساتھ ساتھ ذوالفقار علی بھٹو کی مذاکرات کی اعلیٰ حکمت عملی کو قراردیا۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو جو ایک ہزار سال کی جنگ کی بات کرتے تھے، وہ ایک دم سے میٹھے بن چکے تھے، دودھ اور شہد کی نہروں، امن اور خوشحالی کی باتیں کر رہے تھے۔ یہ ہمارے کانوں کے لیے ایسی موسیقی تھی جس پر ہم یقین کر رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سفارتی ڈرامے کا دوسرا کردار عزیز احمد تھے جو سراسر منفی، پیچیدہ تھا۔

یہ تقریباً ہالی ووڈ کی فلموں کی طرح کا منظر تھا، جس میں ایک اچھا پولیس اہلکار ہوتا ہے اور دوسرا برا۔ اور دونوں پولیس اہلکار مربوط انداز میں ایک ہی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ عزیز احمد نے برے پولیس اہلکار کا کر دار ادا کیا ”۔ روزنامہ مساوات کے احمد حسن علوی نے، جو شملہ وفد میں شامل تھے، کئی برسوں کے بعد صحافی دوستوں کو بتایا تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے بے نظیر بھٹو کو مسکرانے سے لے کر کپڑوں کے انتخاب تک پر بھی ہدایات دے رکھی تھیں۔ بھٹو ایک ماحول بنانا چاہتے تھے جس کے لیے سب کو ایک مخصوص مکالمے بولنے تھے۔ اس ڈرامے کا سٹیج شملہ کا بنگلہ تھا جہاں مذاکرات ہو رہے تھے۔ این بخشی مزید کہتے ہیں :

”اس سفارتی ڈرامے کی پروڈکشن میں اداکاروں کا ایک تیسرا گروپ بھی تھا۔ بھٹو مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ وہ ایک 84 رکنی وفد جس میں سیاستدان، سرکاری ملازمین، انٹیلی جنس افسران، صحافی، دانشور، فوجی افسران سبھی شامل تھے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے وہ رہنما بھی شامل تھے جن کا انڈیا میں اثر و رسوخ تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے ولی خان بھی انڈیا آئے تھے جو انڈیا میں دوست سیاسی رہنما سمجھے جاتے تھے اور جن کے انڈیا میں کئی دوست اور مداح بھی تھے۔

بھٹو اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی ساتھ لے آئے تھے، جو کشمیری تھے اور انڈیا کے کئی افسران ان کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ ہندوستان میزبان ملک تھا اس کے پاس بھی بہت سارے لوگ تھے لیکن بھٹو کی منصوبہ بندی منظم اور مربوط تھی۔ جن لوگوں کو بھٹو اپنے ساتھ لائے تھے وہ اپنے تمام دوستوں اور کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ بات کر رہے تھے جو بھی ان سے گفتگو کرنے پر آمادہ نظر آئے۔ اگر ہم شملہ معاہدے پر نظر ڈالیں تو اس معاہدے میں پاکستانیوں کے ذریعے دو چالاک اضافے کیے گئے تھے۔ پیراگراف نمبر 1.1 میں ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصول اور مقاصد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی نوعیت اور مذاکرات کی سمت کا تعین کریں گے۔ پیرا نمبر 1.5 ( 6 ) میں ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق وہ طاقت کے استعمال کے خطرے سے باز رہیں گے۔

سب سے زیادہ چالاکی پیرا نمبر 4.1 میں ہے جس میں ہے کہ لائن آف کنٹرول کا 17 دسمبر 1971 کی جنگ بندی کے نتیجے میں فریقین کی طرف سے کسی بھی فریق کی تسلیم شدہ پوزیشن کو تعصب کے بغیر، احترام کیا جائے گا۔

یہ شق اندرا گاندھی اور بھٹو کے درمیان براہ راست بات جیت کے دوران آخری وقت میں شامل کی گئی تھی۔ پاکستانی موقف یہ ہے کہ پورا خطہ متنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے معاملے کو کسی استصواب کے ذریعے حل کرنا ہو گا۔ انھوں نے اس پوزیشن کو برقرار رکھا۔ ایک اور دلچسپ عنصر یہ ہے کہ تجارت، سفر، مواصلات اور یہاں تک کہ سفارتی مشنوں کے دوبارہ کھلنے کی دوسری شقوں میں سے کسی کے لیے بھی کوئی وقت مقرر نہیں تھا لیکن پاکستانی علاقوں سے انڈین فوج کے انخلا کے لیے معاہدے کے نفاذ کے تیس دن کی مدت درج کی گئی تھی۔ ”یوں پاکستان کی پانچ ہزار مربع میل زمین مقررہ مدت میں واپسی ہو گئی۔

’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ میں بے نظیر نے ایک منظر بیان کیا ہے بھٹو اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہیں تووہ ان سے پوچھتی ہیں کہ انھوں نے جنگی قیدیوں کی بجائے جنگ میں ہارے ہوئے علاقے کی واپسی کو کیوں ترجیح دی؟ وہ حیرت زدہ تھیں کیونکہ جنگی قیدیوں کے اہل خانہ ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کو جواب میں کہا کہ انڈین وزیراعظم نے جنگی قیدیوں یا علاقے میں سے کسی ایک کو واپس کرنے کی پیشکش کی تھی۔

میں نے مقبوضہ علاقہ مانگا کیوں کہ جنگی قیدی ایک انسانی مسئلہ ہے۔ انھیں ہمیشہ کے لیے نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ عالمی رائے عامہ انڈیا کو انھیں واپس پاکستان بھیجنے پر مجبور کرے گی۔ دوسری طرف علاقہ کوئی انسانی مسئلہ نہیں اس کو ضم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فلسطین کی سرزمین کی مثال دی جو ابھی تک واپس نہیں ہوئی۔ اسرائیل نے 1967 میں غرب اردن پر قبضہ کیا تھا، آج تک یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شملہ معاہدہ دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اصول و ضوابط کے مطابق دو طرفہ طریقے سے اپنا تنازعات پرامن طریقوں اور مذاکرات کے ذریعے طے کریں۔

اس پس منظر میں انڈیا کا 5 اگست سنہ 2019 کا متنازعہ ریاست جموں اور کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی یک طرفہ اقدام ہے جو کہ شملہ معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ کشمیری دانشور، محقق اور ماہر قانون صائب بیگ کہتے ہیں کہ شملہ معاہدہ پر اب بھی دونوں ممالک عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں۔ یہ پاکستان کی نا اہلی ہے کہ وہ شملہ معاہدے کی خلاف ورزی پر انڈیا کو پکڑ میں نہیں لا رہا اور نہ کوئی بین الاقوامی دعویٰ کر رہا ہے۔

شملہ معاہدے میں یک طرفہ فیصلوں کا کوئی تصور نہیں۔ پاکستان اپنے حقوق کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کا مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں پیش کر سکتا ہے۔ تاہم پاکستان نے کن وجوہات کی بنا پر عالمی عدالت میں مقدمہ دائر نہیں کیا۔ یہ پاکستان کی قیادت ہی بتا سکتی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے درست کہا ہے کہ ہم نے مسٹر بھٹو کی سفارتکاری اور مذاکرات کے اعلیٰ ہنر کی بدولت شملہ معاہدے کو ایک ’فاتح کا امن‘ معاہدہ نہیں بننے دیا تھا۔

یہاں انڈیا کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی تعریف نہ کرنا حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہو گا انھوں نے جرمنی کی مثال بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر یورپی ممالک جرمنی کے ساتھ پہلی جنگ عظیم کے بعد ویسا سلوک کرتے جیسا کہ انڈیا نے پاکستان کے ساتھ ”شملہ معاہدہ“ میں کیا تو ہٹلر نہ پیدا ہوتا اور نہ ہی دوسری عالمی جنگ ہوتی۔

Facebook Comments HS