پاکستان کا آئی ایم ایف معاہدہ


 پاکستان کے حال ہی میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ تین ارب ڈالر کے عملے کی سطح کے معاہدے کو حکمران جماعت نے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فنڈز کی دستیابی سے ملکی معیشت کو انتہائی ضروری مدد ملے گی۔ تاہم، یہ جشن قلیل مدتی ہو سکتا ہے کیونکہ معاشی اعداد و شمار ایک پیچیدہ تصویر کو ظاہر کرتے ہیں جو محتاط تجزیہ اور حکمت عملی سے متعلق فیصلہ سازی کا مطالبہ کرتی ہے۔بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے ساتھ، پاکستان کو ایک اہم چیلنج کا سامنا ہے۔ زیادہ بجٹ خسارہ غیر پائیدار قرضوں کا باعث بن سکتا ہے، جو ملک کے قرضوں کے بوجھ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے حکومت نے 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز متعارف کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ سات ہزار ارب روپے حکومت نے پہلے قرضوں کے سود کی مد میں آئی ایم ایف کو ادا کرنے ہیں۔ اگرچہ محصولات کی وصولی میں اضافہ ضروری ہے، لیکن ٹیکس دہندگان پر پہلے ہی سے ٹیکسوں کا زیادہ بوجھ ہے جو معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ قابل ذکر اقدامات میں جائیداد کی لین دین اور پچاس کروڑ سے زائد اور تیس کروڑ سے چالیس کروڑ کے درمیان آمدن والے تاجروں پر سپر ٹیکس کی شرح میں بھی دو فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ تاجر ظاہری طور پر کسی نہ کسی بین الاقوامی کمپنیوں کے مالک یا بیرون ملک تجارت کرنے والے ہوتے ہیں، جن کی آمدن اس قدر بڑے حجم پر مشتمل ہو۔ دو آٹو موبائل کمپنیاں اور دو سے زائد ادویہ ساز کمپنیاں پاکستان سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو سمیٹ کر جا چکی ہیں۔ یوں اگر ان کے ٹیکسوں میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا تو پاکستان میں صنعتی سطح پر چیلنجز سر اٹھائیں گے۔ سرمایہ کاری اور صارفین کے رویے پر ان کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اس طرح کے اقدامات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکس کے بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے اور اہم شعبوں میں ترقی کو روکا نہ جائے۔

80 بلین روپے کی اسکیم جس کا مقصد ترسیلات زر کو بڑھانا ہے، پاکستان کے معاشی استحکام پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ترسیلات زر معیشت کو سہارا دینے، زرمبادلہ کے ذخائر فراہم کرنے اور کھپت اور سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس اسکیم کی کامیابی کا انحصار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سرکاری چینلز کے ذریعے زیادہ رقم بھیجنے کی ترغیب دینے میں اس کی تاثیر پر ہو گا۔ لیکن تاحال حکومت پر کوئی بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی اعتماد نہیں کر رہا اور نہ ہی رقوم کی وہ غیر معمولی ترسیل حکومتی ذرائع سے ہو رہی ہے جو پہلے پاکستان کے معاشی استحکام میں ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی تھی۔ یہ عدم اعتماد کی فضا ٹیکسوں اور شرح سود میں اضافہ کی وجہ سے قائم ہوئی ہے۔

خسارے پر قابو پانے کی کوشش میں حکومت نے اخراجات میں 85 ارب روپے کی کٹوتی متعارف کرائی ہے۔ لیکن حال ہی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے جو سینیٹرز کی مراعات اور تنخواہوں کے حوالے سے بل، اور موجودہ حکومت کی لمبی چوڑی کابینہ سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ متعارف کروائی گئی کٹوتی کی رقم عوامی جذبات کے ساتھ بھونڈا مذاق ثابت ہو گا۔ تین بلین ڈالر ملتے ہی الیکشن کمیشن بھی انتخابات کروانے کے لئے متحرک ہو گیا ہے، جیسے پیسے ملک کے لئے نہیں بلکہ سیاستدانوں کے الیکشن فنڈ کے لئے آئے ہوں۔ دوسری جانب گزشتہ چھ ماہ کی ڈار پالیسیاں بھی بتاتی ہیں ہے کہ یہ تین بلین ڈالر زیادہ سے زیادہ تین ماہ چل سکتے ہیں۔ اگرچہ مالی ذمہ داری قابل ستائش ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ اخراجات کو کم کرنے اور فلاح و بہبود کے اہم پروگراموں کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے مختص 450 ارب روپے کو بڑھا کر 466 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ کمزور اور غریب آبادیوں کے لئے یہ امر قابل ستائش ہے مگر تاحال یہ پروگرام بدعنوانیوں سے پاک نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ رقوم سو فیصد مستحقین تک پہنچ رہی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ماضی میں سابق صدر آصف علی زرداری پر اومنی گروپ اور بی آئی ایس پی میں بدعنوانی اور حوالہ ہندی کے ریفرنسز بنائے گئے تھے۔ اس مانگنے کی پریکٹس کروانے کی بجائے اگر حکومت صرف تین سو ارب بے روزگار ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کو کاروبار کے آغاز اور سمال انڈسٹری کے فروغ کے لئے مختص کرتی اور چھیاسٹھ ارب مزید شعبہ فنی تعلیم جبکہ سو ارب روایتی تعلیم کے لئے مختص کر دیتی تو مستقبل قریب میں پاکستان کو معاشی و اقتصادی ترقی کے لئے مضبوط افرادی قوت میسر آ سکتی تھی۔

پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 50 روپے سے 60 روپے فی لیٹر تک اضافے کے اثرات، مہنگائی اور صارفین کے مجموعی اخراجات پر پڑیں گے۔ ایندھن کی زیادہ قیمتیں نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جس سے تمام اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ تین بلین ڈالر کے عملے کی سطح کا معاہدہ بلاشبہ اس کے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درست سمت میں ایک قدم ہے۔ تاہم، قوم کو مالیاتی نظم و ضبط، اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے فنڈز کا احتیاط سے انتظام کرنا چاہیے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو معیشت کا جد امجد بنا کر پیش کیا جا رہا تھا مگر اس کے اقدامات کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک نا اہل شخص ہے جس کے پاس کوئی ویژن موجود نہیں۔ اسحاق ڈار نے حال ہی میں یکے بعد دیگرے دو بیان دیے ہیں، ایک معاہدے سے پہلے اور دوسرا فوری بعد ۔ پہلے کہا کہ دنیا میں کئی ایسے مسلم ممالک ہیں جو ایٹمی پاور نہیں ہیں مگر معاشی و اقتصادی ترقی میں ہم سے زیادہ مضبوط ہیں۔ دوسرا یہ کہ پاکستان کے نوجوان خود ایک ایٹمی پاور ہیں۔ وہ اپنے ہنر و محنت سے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالیں گے۔ ان دونوں بیانات پر ابھی تک کسی صحافی یا اینکر نے سوال نہیں کیا مگر یہ سوال اہل دانش کی نظر میں پورے خد و خال کے ساتھ کھڑا ہے۔

Facebook Comments HS