بے وارث موت


چودہ جون دو ہزار تئیس: یونان کے لونیئین سمندر میں ڈنکی کے ذریعے غیر قانونی طور پر جانے والی کشتی الٹ گئی۔ جس میں اندازہ چار سو سے ساڑھے سات سو مہاجر سوار تھے۔ بیاسی اموات کی تصدیق ہوئی اور ایک سو دس کے قریب کو بچا لیا گیا۔ باقی سب لاپتہ ہیں۔ ان میں دو سو نو پاکستانی بھی شامل ہیں۔

اٹھارہ جون دو ہزار تئیس: ٹائٹینک کی سال خوردہ باقیات کو دیکھنے جانے کا ایڈونچر کرنے والے اینگرو پاکستان کے وائس چیئرمین شہزادہ داود اپنے انیس سالہ بیٹے سلمان کے ہمراہ پانی کی تہوں میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ ہمراہی بھی مارے گئے۔ بحر اوقیانوس کی چار ہزار میٹر کی گہرائی میں ان کی ’ٹائٹن‘ آبدوز اپنی آخری سانسیں لے گئی۔ دو چار گھنٹوں کا ’ٹرپ‘ ہمیشہ کے لئے آخری آرام گاہ میں بدل گیا۔

ایسے حادثات مجھے دس پندرہ سال پہلے جامعہ کی یاد دلاتے ہیں۔ اور ہر گزرتے حادثے کے ساتھ ان باتوں کی بازگشت زیادہ شدت سے کانوں میں سنائی دیتی ہے۔ جو ان دنوں میں اس کی ایک سینیئر دوست نے باتوں باتوں میں کہی تھیں۔ جب وہ اسٹیڈیم میں شام کی چہل قدمی کر رہی تھیں اور گفتگو کا موضوع گھومتا، گھماتا اس طرف کو آ گیا کہ آپ کو زندگی میں کس چیز کے ہونے سے ڈر لگتا ہے؟ اور آپ کی آخری خواہش کیا ہے؟

میں چاہتی ہوں کہ جب میں مروں تو اپنے گھر میں آخری سانس لوں۔ کسی حادثے میں سڑک کنارے، کسی اسپتال، کسی گمنام جگہ پر جان نہ نکلے۔ میں لاوارث نہ مروں۔ آخری دم میرے منہ میں کوئی اپنا پانی ڈالنے والا ہو۔ آنکھیں، ہونٹ بند کرنے کو کوئی موجود ہو۔ پاؤں سیدھے کر کے کوئی جوڑنے اردگرد ہو۔ میرا جنازہ ہو۔ کفن پہنایا جائے۔ میرے محرم میری میت کو کندھا دیں۔ لحد کے حوالے کریں۔ اس پر مٹی ڈالیں۔ کچھ دیر میری قبر سرہانے رکیں۔ تلاوت قرآن کریں۔ میری آخری آرام گاہ کا کوئی پتہ ہو۔ کہیں نشان لگے۔ تاکہ میری قبر پر کوئی فاتحہ پڑھنے آتا رہے۔ پانی چھڑکایا کرے۔ میری قبر آباد رہے۔

اس بات کی اہمیت اور شدت تب تب آخری حد تک محسوس ہوتی ہے جب کوئی جہاز کراچی، ایبٹ آباد اور دنیا کے کسی گوشے میں عین آبادی پر گر کر کئی جانوں کو لے لیتا ہے۔ اور مرنے والوں کی مسخ شدہ نعشیں پہچان سے باہر ہوتی ہیں۔ جب کسی فیکٹری میں آگ لگتی ہے اور مرنے والوں کی ایک مٹھی بھر راکھ بھی لواحقین کے ہاتھ نہیں آتی۔ جب کوئی بحری جہاز ڈوبتا ہے اور کئی ہنستے مسکراتے چہرے سمندری جانوروں کی غذا بن جاتے ہیں۔ جب فضا میں اڑتا ہوا کوئی طیارہ ’بلیک ہول‘ میں غائب ہو جاتا ہے۔

کیونکہ واپسی کی امید لئے، منزل پر پہنچنے کی خبر کے منتظر کان اور آنکھیں جب ایسی کسی ناگہانی حادثے سے گزرتے ہیں۔ تو سن ہو جاتے ہیں۔ ذہن ماوف اور دل بے یقین ہو جاتا ہے۔ ہاتھ، پاؤں سنا اٹھتے ہیں۔ اور جب قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا تو دل غم سے پھٹنے لگتا ہے۔ کتنے ہی گھرانوں کے چراغ بجھتے ہیں اور ساتھ یہ اذیت حد سے سوا ہو جاتی ہے کہ آخری بار اپنے پیارے کی شکل دیکھنے سے محروم رہیں گے۔ اپنے ہاتھوں سے اس کی آخری رسومات ادا نہیں کر پائیں گے۔

اس کی قبر پوری دنیا میں کہیں بھی، کبھی بھی نہیں ہو گی۔ اور یہی چیز اس وسوسے اور وہم کو مرنے نہیں دے گی کہ شاید ان کا باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا زندہ ہو۔ کوئی معجزہ ہو جائے اور وہ پلٹ آئے۔ پیٹ میں ہمہ وقت ایسی آس کی گرہیں بنتی اور کھلتی رہتی ہیں۔ لیکن تسلی، تشفی کا باعث نہیں بنتیں۔ جانے والے چلے جاتے ہیں۔ یا کم از کم آپ تک ایسی ہی خبریں آتی ہیں۔ لیکن دل کی خوش فہمیاں آپ کو نہ زندوں میں رہنے دیتی ہیں نہ مردوں میں۔

اس لئے دعا کیا کریں کہ مولا اچھی موت سے نوازے۔ اپنے پیاروں کے سامنے آپ کو آپ کا آخری وقت نصیب ہو۔ تاکہ آپ کو ایدھی، چھیپا جیسا رفاہی ادارے دفن نہ کریں اور پیچھے آپ کے ورثا اس بے اعتباری میں جلتے، کڑھتے نہ رہیں کہ شاید فلموں، ڈراموں جیسی انہونیاں وقوع پذیر ہوں اور مردے زندہ ہو کر ان کے سامنے آجائیں۔

Facebook Comments HS