قرض کی پیتے تھے مے…


30 جون 2023 کا دن پاکستانی تاریخ میں تا دیر یاد رکھا جائے گا۔ اس دن الصبح پاکستانی الیکٹرانک میڈیا پر قوم کو بڑی عید پر بڑی عیدی کی نوید مسرت سنائی گئی اور یہ نوید مسرت ائی-ایم-ایف سے نویں جائزے میں ناکامی کے بعد ایک نئے نو ماہ پر محیط معاہدے کی تھی جس کے تحت ائی-ایم-ایف نے پاکستان کو تین بلین ڈالرز دینے کی حامی بھری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کے نام اپنے تہنیتی ٹویٹر پیغام کا اغاز الحمدللہ سے شروع کیا اور اس کے بعد قوم کو اس معاہدے کی پرجوش مبارکباد دیتے ہوئے اس کو اپنی حکومت کے عظیم ترین کارنامے سے گردانا۔ اس ٹویٹ کے فورا بعد پچاس سے زائد ٹی وی چینلز نے انتہائی منظم انداز میں وزیراعظم کے لیے داد اور تحسین کے ڈونگڑے برسانا شروع کر دیے اور انہیں ایک تاریخ ساز مدبر اور عظیم اقتصادی سوجھ بوجھ کے حامل لیڈر ثابت کرنے کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو کہ تا دم تحریر جاری و ساری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسی دن ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جس میں ان کے حامی صحافیوں اور اینکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سوالات سے زیادہ اپنا سارا زور بیان وزیراعظم کو ائی- ایم-ایف کے جانب سے دیے گئے قرضے پر مبارکباد دیتے ہوئے انہیں پرجوش خراج تحسین پیش کیا۔ جب کہ کچھ صحافیوں نے اس موقع کو سابق وزیراعظم عمران خان کی کردار کشی کے علاوہ ان کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ بھی کر ڈالا۔

قارین کرام پاکستان اب 24 کروڑ سے زائد آبادی کا ملک ہے جس کا قریبا 65 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن بدقسمتی سے ملک کی معاشی بدحالی اور بین الاقوامی رسوائی کا جو سلسلہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے شروع ہوا تھا آج اپنی تمام تر بھیانک حقیقت کے ساتھ پاکستانی عوام کو غربت، مہنگائی، بے روزگاری، اور خط غربت سے کئی درجے مزید نیچے دھکیلنے کی صورت میں نمایاں ہے۔

قارین کرام بین الاقوامی اداروں سے قرضہ حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن ہر سمجھ دار ملک ان قرضوں کا استعمال معیشت میں بہتری اور ایسے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرتا ہے جو کہ ملک میں روزگار اور معیشت میں اضافے کا باعث بننے کے علاوہ اپنے طور پر قرض ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ لیکن وطن عزیز میں ائی-ایم-ایف اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے حاصل کردہ قرض کو میٹرو ٹرین، میٹرو بس سروس، بڑی بڑی شاہراؤں، پلوں اور انڈر پاسز کی نظر کر دیا گیا ہے جس کا تمام تر سہرہ مسلم لیگ نون کی ناقص اقتصادی منصوبہ بندی کے سر ہے۔

قارئین کرام پی-ڈی-ایم کے زیر حکومت سال 23-2022 میں ملک کی اقتصادی شرح نمو %0.29 تک گر گئی ہے جبکہ موجودہ سال 24-2023 میں تمام بین الاقوامی اداروں کے مطابق معیشت میں شرع نمو %0.96 رہنے کی توقع ہے۔  نئے وفاقی بجٹ کا مالیاتی خسارہ قریباً سات ہزار ارب روپے ہے۔ ملک میں بڑی صنعتوں کی شرح نمو گزشتہ سال منفی %8 رہی۔ تجارتی خسارہ سخت ترین درامدی پالیسی کے باوجود 23.7 ارب ڈالرز سے بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ملک کی برامدات اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانی والی رقوم میں بالترتیب 5 ارب اور قریباً 7 ارب ڈالرز  کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو کہ ملک کی غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک کے دیوالیہ ہونے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے سدباب کے لیے موجودہ حکومت نے انتہائی کڑی شرائط کے تحت ائی-ایم-ایف سے ایک ایسا شرمناک معاہدہ کیا ہے جو کہ عوام الناس کو مزید مہنگائی اور غربت کے پہاڑ تلے کچل ڈالے گا۔

قارئین کرام یہ سب کچھ ایک ایسی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان جن کی حکومت کے اخری دو سال میں اقتصادی شرح نمو %6 سے بھی زائد تھی کو ائی-ایم-ایف سے قرض لینے پر ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتی رہی  اور بعد ازاں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ملک کے غریب عوام کو مہنگائی مکاؤ کے پر فریب خواب دکھانے کے بعد خوفناک محلاتی سازشوں کے نتیجے میں برسر اقتدار انے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن برے کام کا برا نتیجہ کے عین مطابق ملک کو شدید اقتصادی بحران میں مبتلا کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی۔

بدقسمتی سے پی-ڈی-ایم کی مخلوط حکومت اس تمام تر عمل میں ائین اور عدالتی احکامات کی رو گردانی جیسے سنگین جرائم میں بھی ملوث ہو چکی ہے۔  اپنی حکومت کے اخری دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف ای-ایم-ایف سے معاہدے کو ملک کی پائیدار ترقی کی ابتدا قرار دیتے ہوئے ائندہ انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرتے نظر ارہے ہیں لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی – لاقانونیت اور ملکی وسائل کا اپنے مضموم قلیل مدتی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا پی ڈی ایم کا جنون ان کے اور عوام الناس کے درمیان ایک بڑی خلیج اور عدم اعتماد کا باعث بن چکا ہے جس کی قیمت انہیں “در پردہ مہربانوں” کی بھرپور حمایت کے باوجود ائندہ انتخابات میں  بہرحال ادا کرنا پڑے گی۔

ملک میں طاقت کے اصل مراکز کو اس تمام تر بدترین صورتحال میں ازاد اور منصفانہ انتخابات کا جلد از جلد انعقاد کرانا ہوگا جس میں تمام سیاسی جماعتوں باشمول پی-ٹی-ائی کی کسی ممکنہ مائنس ون فارمولے کے بغیر شمولیت اولین شرط ہے۔ بصورت دیگر شخصی انا کی بالادستی اور طاقت کا استعمال ملک عزیز کو تباہی اور بربادی کے عمیق اندھیروں اور بین الاقوامی رسوائی کے علاوہ کچھ نہ دے پائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments