کیا یورپ اور امریکہ ہم سے سیکھ رہے ہیں

آج کل فرانس جلاؤ گھیراؤ کی خطرناک خبروں میں گہرا ہوا ہے۔ آج فرانس میں ایک شخص کے پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے کے بعد احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ پہلے یورپ کے احتجاج کی ہمارے ہاں مثالیں دی جاتی تھیں کہ وہاں احتجاج بہت تہذیب کے دائرے میں ہوا کرتے ہیں ، لوگ صرف ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے روڈ کے ایک کنارے چل رہے ہوتے ہیں اور اسی سڑک پر ساتھ ساتھ ٹریفک بھی رواں دواں ہوتی ہے۔ کوئی توڑ پھوڑ یا بد مزگی سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ بلکہ گالم گلوچ تو کجا تیز آواز سے بھی کوئی بولتا نہیں اور ہم نے خود میڈیا کے ذریعے یہ احتجاج دیکھ رکھیں ہیں اور اس سے متاثر بھی ہو چکے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ سے یہ صورت حال کچھ بدلی بدلی سی لگتی ہے۔
اور یہ فرانس یا یورپ ، امریکہ میں پہلی بار نہیں ہو رہا ہے بلکہ صدر ایمانوئل ماکروں کی جانب سے پنشن کی عمر میں اضافہ کرنے کے متنازعہ فیصلے کے بعد بھی کئی شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور ہڑتالوں سے نقل و حمل کا نظام درہم برہم ہوا تھا جبکہ مظاہرین نے شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں بلکہ روز مرہ مزدور یونینوں نے بھی ملکی سطح پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کی وجہ سے عام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی تھی۔ جس کے بعد صدر نے اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا تھا، تاہم لوگوں میں اس کے خلاف کافی غم و غصہ پھر بھی جاری رہا۔
کیونکہ پیرس میں پولیس نے مظاہرین پر اس وقت آنسو گیس کے شیل داغے تھے اور لاٹھی چارج کیا تھا ، جب بعض مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کے ساتھ ساتھ آتش زدنی کی کوشش بھی کی تھی۔
اور سی جی ٹی یونین کی قیادت کرنے والے فلپ مارٹنز کو کہنا پڑا تھا کہ، ”لاکھوں لوگ ہڑتال کے لیے سڑکوں پر ہیں اور اس طرح ہم صدر کو بہترین جواب دے سکتے ہیں۔ ” جس کی خاص وجہ ٹریڈ یونینوں کی جانب سے اپیل کی یہ بتائی جا رہی تھی کہ ان دنوں برطانوی بادشاہ چارلس سوم ملک کا دورہ کرنے والے تھے۔
اس مظاہروں میں شمالی شہر ڈنکرک میں مظاہرین نے ایک آئل ڈپو کو نشانہ بنایا تھا اور قدرتی گیس کے ایک بڑے ٹرمینل کو بلاک کر دیا تھا۔ ہڑتال کی وجہ سے اس روز ملک میں بجلی کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی تھی۔ پیرس میں کچرا جمع کرنے والوں کی تنظیم نے جمعرات سے لے کر پیر تک ہڑتال کو جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا جب کہ ہزاروں ٹن کچرا سڑکوں پر سڑ رہا تھا۔ اور بادل ناخواستہ وزارت تعلیم کو کہنا پڑا تھا کہ جمعرات کے روز اسکول کے اساتذہ کا تقریباً پانچواں حصہ بھی ڈیوٹی پر نہیں آیا تھا۔ مظاہرین نے للی، ٹولوز، لیون اور دیگر شہروں کے قریب اہم شاہراہوں اور انٹرچینجز کو بھی بلاک کر دیا تھا۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں تمام تیز رفتار ٹرینوں میں سے نصف کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔
اور بحالت مجبوری پھر بدھ والے دن ہی صدر کو نہ صرف اپنا پہلا عوامی بیان جاری کرنا پڑا بلکہ اپنی مقبولیت میں کمی کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہونا پڑا تھا۔ اور بالآخر وزیر اعظم الزبتھ بورن نے تشدد کو ”ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو ”مظاہرے کرنے کا حق” حاصل ہے، تاہم جمعرات کو دیکھی گئی بدامنی نے حدود سے تجاوز کر دیا تھا۔
اس سے پہلے بیلجیم میں جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کے مناظر دیکھنے کو ملے اور کئی دنوں کے بعد اس پر قابو پاکر حالات کو معمول پر لایا گیا تھا۔ اس سے پہلے برطانیہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آگئے تھے اور پر بحالت مجبوری اس وقت کے وزیراعظم کو شوٹ ایٹ سی کا آرڈر دینا پڑا تب جاکر حالات معمول پر آگئے تھے۔
اسی طرح امریکہ میں بھی ٹرمپ کے دور حکومت میں اس کے اپنے اطوار اور پھر صدر کے عہدے کے ہٹانے اور اس پر کیس چلانے تک کے واقعات ہم سے بہت مشابہت رکھتے تھے بلکہ توشہ خانہ اور پھر سرکاری راز افشاں کرنے کے الزامات تو جیسے تیسری دنیا کے واقعات ہوں۔
اس طرح یورپین یونین کے ایک اہم رکن ملک بیلا روس میں صدر الیگزنڈر لوکاشینکو کے خلاف پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے اور کئ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
حالیہ یونان میں غیر ملکی افراد کی کشتی الٹنے اور سمندر میں ڈوبنے سے ہلاکتوں کے بعد پورے ملک میں وہاں کے مقامی لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر آئے اور ایشیائی طرز پر احتجاج کیا اور اپنے ہی ملک میں انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کےلئے اپنے ہی ملک کی حکومت کے خلاف برسر پیکار رہیں۔
برطانیہ میں گزشتہ دنوں ملکہ الزبتھ دوم کی وفات اور ان کے بیٹے شہزادہ چارلس کو بادشاہ بنائے جانے کی رسومات کے دوران مختلف مواقعوں پر کچھ احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے جن کے بعد کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس کے بعد اتوار کو سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ یہ خاتون چارلس کو نیا بادشاہ بنائے جانے کے باضابطہ اعلان سے متعلق ایک جلسے میں سائن بورڈ لیے کھڑی تھیں۔ جس پر ایک گالی کے ساتھ لکھا تھا ‘شاہی نظام کو ختم کرو’۔ بعد میں اس خاتون کے خلاف بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔ اسی روز آکسفورڈ میں سائمن ہل نامی ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا۔ اس نے بھی شاہ چارلس کے لیے منعقدہ ایک جلسے میں چیخ کر پوچھا تھا ‘ان کا انتخاب کس نے کیا؟’ اس شخص کے خلاف بھی پھر ریاست کے خلاف امن و امان میں خلل ڈالنے کا الزام عائد ہوا۔
اس کے بعد ایڈنبرا میں ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر شاہ چارلس کے بھائی شہزادے اینڈریو کے ساتھ ہاتھا پائی کی تھی۔ یہ واقعہ تب پیش آیا جب ایڈنبرا کے رائل مائل میں ایک شاہی جلوس نکل رہا تھا۔ اس شخص پر بھی ریاست کے خلاف نقص امن کا الزام لگایا گیا۔
اسی روز ایک وکیل بیرسٹر پال پولس لینڈ نے ٹویٹ کیا کہ لندن میں پارلیمان کے نزدیک ایک پولیس اہلکار نے ان سے کہا کہ اگر انھوں نے کسی کورے کاغذ پر ‘ناٹ مائی کنگ’ یعنی وہ میرے بادشاہ نہیں لکھا تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
اس کے بعد شاہ چارلس کے پارلیمان سے باہر جاتے وقت شاہی نظام کے خلاف مظاہرین نے نعرے لگائے جس میں ایشیائی سیاست ، احتجاج اور نعرہ بازی کی جھلک نظر آرہی تھی۔
اس لئے ہم اس بات کے کہنے میں قدرے حق بجانب ہیں کہ یورپ ، امریکہ ہم سے کچھ سیکھیں یا نہ سیکھیں یہ احتجاج اور مظاہروں کے اطوار ہم سے ضرور سیکھ چکے ہیں یا مزید سیکھ رہے ہیں۔
Facebook Comments HS

