ڈیرے نہیں ادارے آباد کریں


کچھ عرصہ قبل ایک بڑے سیاست دان اور پارلیمنٹرین کے ڈیرے پر جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلی نظر میں محسوس ہوا کہ شاید یہاں کوئی دھرنا پروگرام چل رہا ہے اور لوگ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، بہت خوشی ہوئی کہ عوام میں اپنے حقوق کے لئے شعور آ رہا ہے اور وہ اپنے عوامی نمائندے کی کارکردگی کا احتساب کر رہے ہیں۔ لیکن ساری خوشی اس وقت کافور ہو گئی جب کریدنے پر پتہ چلا کہ یہ سینکڑوں لوگ اپنے جائز و ناجائز کام کرانے کے لئے یہاں تشریف فرما ہیں اور اپنے مقامی عوامی مسیحا کی اپنے مخصوص مسئلے کے حل کے لئے توجہ کے طلب گار ہیں۔

ان میں کچھ نوکریوں کی سفارش کے لئے تو کچھ تھانہ کچہری کے سلسلے میں، کوئی ریونیو کے محکمے سے متعلقہ عرض داشتیں لیے ہوئے تھے تو کوئی سماجی بہبود کے اداروں سے فنڈز لینے کے لئے اور کوئی عائلی جھگڑوں کو نمٹانے کے لئے وہاں تشریف فرما تھے۔ غرض نوے فیصد سے زائد سائلین کسی نہ کسی سرکاری ادارے سے متعلقہ کاموں کے سلسلے میں بیٹھے تھے کہ بڑے صاحب کسی بڑے بابو کو ان کی سفارش کریں تو بات بنے۔ بڑے صاحب بھی بہت فخر سے کہہ رہے تھے کہ ہم عوام کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔

حضور بہت اچھی بات! تو پھر ان اداروں کے وجود کا کیا جواز ہے جو عوامی مسائل کے حل کے لئے بنے ہیں؟ کیا ہی اچھا ہو کہ ان اداروں کو اتنا مضبوط کر دیا جائے کہ عوام کو آپ کا قیمتی وقت ضائع کئیے بغیر براہ راست ان اداروں سے انصاف مل جائے اور میرٹ پہ ان کا کام ہو جائے۔ لیکن پھر تو ڈیرے ویران ہو جائیں گے اور اگر ڈیرے ویران ہو گئے تو پھر آپ کو کون پوچھے گا؟ آیا ڈیروں کی مضبوطی کی قیمت پر اداروں کو کمزور کرنا کیا ایک مثبت رویہ ہو سکتا ہے؟

ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی، قومی اداروں کے لئے گائیڈ لائن تیار کرنا اور قانون کی بالا دستی کے لئے خود کو بطور رول ماڈل پیش کرنا ہوتا ہے تو پھر اداروں میں ان کی مداخلت چہ معنی دارد؟ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے اس کے ادارے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اداروں کی پرفارمنس سے آپ کسی بھی قوم کی ترقی کی رفتار یا معیار جانچ سکتے ہیں۔ ادارے قانون کے دائرے میں رہ کر دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق عوام کی خدمت کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

گڈ یا بیڈ گورننس کا دارو مدار ان اداروں پر ہوتا ہے کہ عوام کا روز مرہ کاموں کے سلسلے میں بالواسطہ رابطہ ان اداروں سے ہی پڑتا ہے۔ اداروں کا فرض ہے کہ وہ دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق عوام کی خد مت بجا لائیں اور ان اداروں میں بیٹھے بابو عوام کے خادم ہوتے ہیں کیونکہ ریاست کو ان اداروں کے قیام کا مینڈیٹ عوام دیتے ہیں جن کے ٹیکسوں سے یہ ادارے قائم ہوتے ہیں۔ اداروں کے ملازمین کی مراعات عوام کی جیبوں سے ادا ہوتی ہیں اس لیے یہ ان کا اخلاقی فرض بھی ہے کہ وہ ڈلیور کریں یا کم از کم روز مرہ کاموں کے سلسلے میں عوام کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔

لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ادارے بھی بڑی حد تک سیاست زدہ ہو چکے ہیں یا طاقتور سیاسی لوگوں کے دم چھلا کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سفارش، رشوت، نا اہلی، بد لحاظی اور بے قاعدگیاں ہمارے کم و بیش تمام اداروں کا خاصہ بن چکی ہیں۔ عام آدمی کی سرکاری اداروں میں کوئی شنوائی نہیں۔ جسے دیکھو اپنے جائز کاموں تک کے لئے سفارش ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ پاکستان ایک انوکھی ریاست ہے جہاں نظام سرکاری اداروں کی بجائے ڈیرے دار وڈیرے یا اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے طاقتور لوگ چلا رہے ہیں۔

آپ پاکستان کے کسی بھی سیاسی ڈیرے پر چلے جائیں آپ کو سینکڑوں لوگ وہاں اپنی عرضیاں تھامے اور سیاسی اشرافیہ سے سفارشیں کرواتے نظر آئیں گے جو یقیناً اس بات کا مظہر ہیں کہ انھیں اداروں سے انصاف کی توقع نہیں اور یہ سیاسی مسیحا ہی ان کی شنوائی کرا سکتے ہیں۔ سیاسی مداخلت اور خود کار نظام نہ ہونے کے سبب آج ہمارے تمام ادارے اپنا وقار کھو رہے ہیں۔ شکر ہے کہ فوج کے ادارے میں ایک خود کار نظام موجود ہے اور اس میں سیاسی مداخلت اور پسند نا پسند کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے ورنہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس ادارے کا بھی ویسا ہی حشر ہوتا جیسا دیگر سول اداروں کا ہے۔

کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ کم و بیش تمام سول ادارے اپنے دیے گئے مینڈیٹ سے بالکل ہٹ کر ڈلیور کر رہے ہیں؟ اگر کوئی اینٹی کرپشن کا ادارہ ہے تووہ کرپشن کی روک تھام کی بجائے مک مکا کر نے کے فارمولے پر کرپشن کے فروغ کا زیادہ سبب بن رہا ہے۔ پولیس کا کام اگر انصاف پہنچانا ہے تو وہ رشوت ستانی اور دیگر ہتھکنڈوں سے انصاف کی راہ میں اکثر حائل ہونے کا سبب بنتی ہے۔ ہائی کورٹس اور اور سپریم کورٹس کی کئی رولنگ آن ریکارڈ ہیں کہ پولیس اکثر کیسوں کو کمزور کر دیتی ہے جس سے مجرم فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اسی طرح ہمارے سماجی بہبود کے ادارے لوگوں کو بھکاری بنانے کے پلیٹ فارم بن چکے ہیں جس کی وجہ سے غربت پہلے سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ ریونیو اداروں کے اہلکار حکومتی ریونیو میں اضافہ کم اور اپنے ریونیو میں اضافہ زیادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ جنگلات کا محکمہ لکڑی چور ملازمین، محکمہ نہر پانی چور ملازمین، وائلڈ لائف کا محکمہ قیمتی پرندوں اور جانوروں کے چوروں اور غیر قانونی شکار کے سہولت کاروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ماحولیات کا محکمہ ماحول خراب کرنے والے عناصر سے مک مکا کرنے والوں سے بھرا ہوا ہے۔

اسی طرح احتساب کے اداروں سے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کا کام لیا جاتا ہے۔ حقیقت میں ہمارے ادارے، ادارے کم اور منظم قسم کے بھتہ خور گروہ زیادہ لگتے ہیں۔ محکمہ خوراک کے افسران اگر خوراک خور اور ملاوٹ خور عناصر سے ساز باز میں مصروف رہتے ہیں تو پٹرولیم ذخیرہ کرنے والے ادارے پٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا کرنے میں لگے ہیں۔ واپڈا کا کام اگر بجلی پیدا کرنا ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بجلی میں کمی اور بجلی چوری کا باعث بن رہا ہے یا بجلی میں اضافے کا۔

سماجی ترقی اور انفراسٹرکچر ڈویلپ کرنے کے ادارے جیسے این ایچ اے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، میونسپل، پی ڈبلیو پی اور بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ کی شاندار کارکردگی اگر ملاحظہ کرنی ہو تو اپنے آس پاس کسی بھی تعمیراتی کام پر نظر ڈالیں صورتحال واضح ہو جائے گی۔ ایک ایک پراجیکٹ پر درجنوں بار پیسہ لگ چکا ہو گا۔ دنیا اب ترقیاتی کاموں سے نکل کر ہیومن ڈویلپمنٹ پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور ہم چند ہزار کے کمیشن اور کک بیکس کے لئے ایک جیسے پراجیکٹس پر ناقص کام کر کے درجنوں بار وسائل ضائع کرنے سے باز نہیں آ رہے۔

کس کس ادارے کا نام لوں کم و بیش سبھی اداروں میں کرپشن کی گنگا بہہ رہی ہے۔ جس ادارے میں بھتہ خوری اور رشوت خوری کے جتنے امکانات ہوں اتنا زیادہ ہی وہاں پوسٹنگ کا ریٹ ہے۔ خرابی نچلی سطح پر ہی نہیں اوپر کی سطح پر بھی ہے۔ جان بوجھ کر اور مخصوص اور گندے سیاسی مفادات کے لئے سیاسی اشرافیہ کو فنڈز دیے جاتے ہیں اور یہ سیاسی لوگ محکموں کو فنڈز منتقل کرانے کے عوض بھاری رشوت لیتے ہیں، جو افسران ٹھیکے داروں سے لے کر ان سیاستدانوں کو دیتے ہیں۔

جن محکموں سے ان منتخب سیاسی مسیحاؤں کو کمیشن کی زیادہ بولی ملتی ہے انھیں یہ فنڈز ٹرانسفر کرنے کی سفارش کر دیتے ہیں۔ اگر سیاسی لیڈر باغ کا ایک سیب توڑتا ہے تو پھر باقی لوگ پورے باغ کو اجاڑنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جب ڈیرے دار سیاسی اشرافیہ قانون سازی، سیاسی وژن دینے اور اداروں کو گائیڈ لائن دینے کی بجائے محض اپنی ڈیرے داری چمکانے کے لئے اداروں سے کھلواڑ کرنا شروع کر دے گی تو اس کے رزلٹ موجودہ صورتحال کی صورت میں ہی نکلیں گے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم نے ”قومی“ ڈیرے آباد کرنے ہیں کہ قومی ادارے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments