عجب نظام کے غضب اثرات

ایک تو ہمارا نظام تعلیم ہی عجب اس پر مخلوط نظام تعلیم غضب۔ جن معاشروں میں شعور اور اقدار کی کمی ہو وہاں ایسی عجب غضب باتیں ہوتی ہیں۔ بنیادی طور پر ہم ایک مسلم معاشرہ ہیں۔ مخلوط تعلیم کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اسلامی اقدار کی پامالی کی صورت میں نظر آتا ہے مخلوط تعلیم کو درست قرار دینے والے اس ضمن میں دو دلائل بہت زیادہ دیتے ہیں۔
1۔ خواتین کا جمعے اور عید کی نمازوں میں خطبہ سننے کے لیے جانا۔
2۔ دور نبوی میں خواتین کا حضور پاک سے تعلیم لینا اور صحابہ کرام کا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے تعلیم لینا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا غض بصر کے حکم کی روشنی میں یہ دلائل درست مانے جا سکتے ہیں۔ مستقل محرم اور نامحرم کو ایک ہی جگہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی عمر کے اس دور میں جب بچے بچیوں کا شعور ناپختہ ہوتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے ہم گرم مرطوب آب و ہوا والے خطے میں رہتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے بچوں میں بلوغت کے اثرات بھی بہت جلد نمایاں ہو جاتے ہیں ایسے وقت میں بچے جسمانی طور پر تو بڑے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے اندر کا شعور بڑا نہیں ہوتا قد اور چستی پھرتی کی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اپنے معاملات اچھی طرح سنبھال سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر اس رستے پر چل پڑتے ہیں جس پر تجسس انھیں لے جاتا ہے۔ اسی لیے مخلوط تعلیمی اداروں میں پانچویں کلاس کے بعد بچے بچیوں میں لو افیئرز اور دوستانہ مراسم بہت زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آج کل کا ڈیجیٹل دور ان مراسم کو صرف سکول کالجز کی حد تک ہی نہیں رکھتا پھر وہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی حد تک بھی چلا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ مخلوط تعلیمی نظام میں سائبر کرائمز سے جڑے معاملات بھی زیادہ دیکھنے میں آرہے ہیں۔ کم عمر بچیاں اس چیز کا زیادہ شکار ہو رہی ہیں۔
ہمارے ہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیمی نظام زیادہ دیکھنے میں آتا ہے لیکن ایک مجموعی نگاہ ڈالی جائے تو دیگر غیر مخلوط ادارے کسی بھی طرح صلاحیت میں کم نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا معیار کم ہے۔ مخلوط تعلیم کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ لڑکے لڑکیوں کو ایک جیسے مضامین پڑھنے پڑتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ مضامین لڑکیوں کے لئے ضروری نہیں اور کچھ لڑکوں کے لیے۔ پھر جب وہ عملی زندگی میں روزگار کے مواقع ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو ایک دوسرے کی حق تلفی کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
کچھ آزاد خیال ماں باپ بھی جدیدیت کے نام پر اپنے بچوں کے لیے مخلوط تعلیم کو پسند کرتے ہیں مگر جہاں آزاد خیالی کی یہ روش حدود پامال کر جاتی ہیں وہاں ماں باپ کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں میں سے صنفی کشش کو نکال نہیں سکتے اور ایسے میں لڑکے لڑکیوں کو ایک ہی جگہ اکٹھے کر دینا جذباتی طور پر جنسی شعلوں کو ہوا دینے جیسا ہے۔
مخلوط تعلیم کے نقصانات سے بچنے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ماں باپ بچوں بچیوں کو حدود و قیود میں رہنا سکھائیں مگر بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل کے ماں باپ اپنی اولاد کی ضروریات کو تو ترجیح دیتے ہیں دن رات محنت کر کے ان کے لیے ہر سہولت بہم پہنچاتے ہیں مگر اس میں وہ اتنے تھک جاتے ہیں ذہنی اور جسمانی طور پر کہ پھر اخلاقیات کی طرف توجہ نہیں دے پاتے ہلکے پھلکے زبانی کلامی کہہ بھی لیں تو آج کل کے بچے اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ سمجھتے ہیں جو ہم جانتے ہیں وہ ہمارے ماں باپ نہیں جانتے اور یہ ایک بڑی حقیقت بھی ہے کہ اس دور میں نوجوان نسل جتنی ڈیجیٹل ڈیوائسز کی معلومات رکھتی ہے پچاس پچپن سے اوپر کے لوگ نہیں رکھتے لیکن یہ سوچ ان کے اور ان کے والدین کے درمیان ایک اجنبیت کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔
ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں ہم اپنی بچیوں کو حیا کی سیپ میں بند موتی کی مانند رکھتے ہیں اور عموماً ہمارے لڑکے آزاد طبیعت کے ہوتے ہیں وہ باہر کی دنیا میں زیادہ رہتے ہیں ان کے ساتھ آزادانہ میل جول سے بچیوں کے اندر بھی ایسی خواہشات پروان چڑھتی ہیں اور وہ لڑکوں ہی کی طرح باہر گھومنے پھرنے کی آرزو کرتی ہیں۔ باہر گھومنے پھرنے کی آرزو بری بات نہیں لیکن جب ہم درندوں سے بھرے معاشرے میں جی رہے ہوں تو ایسے میں بچیوں کی ایسی خواہشات کی تکمیل انھیں ضرر پہنچاتی ہے۔
بدقسمتی سے ہم ایک مادیت پرست معاشرہ ہیں مخلوط تعلیم ہمیں مادیت پرستی کے حوالے سے بھی بہت نقصان پہنچاتی ہے معاشی طور سے کمزور گھرانوں کے بچے بچیاں امیر گھرانوں کے بچوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور انھیں پانے ان سے میل جول بڑھانے کے لیے غلط حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ حیثیت ہو نہ ہو مہنگے تحائف کا تبادلہ گھر والوں کو نقصان پہنچا کر ان سے چھپ چھپا کر کیا جاتا ہے ان کے اس فعل کے شریف اور غریب گھرانے متحمل نہیں ہو پاتے۔
دور جدید میں ہمارا میڈیا بھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہا۔ محبتوں کی جو چمک دمک ڈراموں اور اشتہارات میں دکھائی جاتی ہے وہ نوجوان ذہنوں کو متاثر کرتی ہے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے والے بچے بچیاں ایک دوسرے میں اپنے آئیڈیل اور من پسند کرداروں کو دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے وہی ڈراموں فلموں کے ہیرو ہیروئن ہی بن جاتے ہیں۔ صد افسوس کہ وہ ہر ناجائز تعلق کی بھی تاویلیں پیش کرتے ہیں اس طرح وہ زندگی کے حقیقی مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔
مخلوط تعلیم عہد حاضر کا ایک اہم قومی مسئلہ ہے جس پر حکومت اور والدین دونوں کو ہی غور و خوض کی ضرورت ہے اس ضمن میں مسلسل بچوں کی کردار سازی کرنی ہوگی اور حدود و قیود کی پاسداری بھی لازمی کروانی ہوگی۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ بچوں بچیوں کے لیے کون کون سے میدان ہیں جن میں ان کا بڑھنا مناسب ہو گا۔

