حجاج کے لئے وی آئی پی ٹینٹ
ایک ویڈیو میں منی میں وی آئی پی ٹینٹ دکھا کر سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا یہ جائز ہے۔ جائز ناجائز کا تو علماء و مفتیان کو علم ہو گا۔ مجھ ناچیز کی رائے یہ ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے نہایت امیر اور نہایت غریب لوگ پیدا کیے ہیں تو ان کا فرق بھی سب کے سامنے ہی ہے۔ رہ گئی بات حج میں سب امیر غریب ایک ہونے کی تو ایسا تو صدیوں سے نہیں ہوا۔
کچھ حجاج گھوڑوں پر کچھ اونٹوں پر، کچھ پیدل جاتے تھے۔ پھر بحری جہاز اور ہوائی جہاز پر جانے لگے۔ جب ہوٹلز بنے تو جن کے پاس پیسے تھے وہ حرم اور مسجد نبوی کے دروازوں کے سامنے والے ہوٹلز میں ٹھہرنے لگے جو استطاعت نہیں رکھتے تھے وہ ذرا دور اور سستے ہوٹل میں قیام پذیر ہو گئے۔ کچھ سعودی شاہ کے مہمان ہوتے ہیں کچھ بادشاہ اور سربراہان مملکت یہ سب بھی وی آئی پی ٹریٹمنٹ کے ساتھ حج عمرہ کرتے ہیں۔
ایسے میں اگر ایک شخص جو مالدار ہے اور جسے آسائشوں میں رہنے کی عادت ہے وہ اس ٹینٹ کا کرایہ ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اس میں رہنا چاہتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ پچھلے سال بھی کچھ ایسے کیمپس تھے جو وی آئی پیز کے لیے تھے ان میں سیون کورس میلز بھی مل رہے تھے اور دیگر سہولیات بھی مگر وہ سوئیٹ نہیں تھے نہ ہی اتنے مہنگے۔
ایک حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالٰی کسی پر اپنا فضل فرماتا ہے تو وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس شخص پر اس کے آثار نظر آئیں۔ مہنگے بڑے گھر، گاڑیاں، لباس، گھڑیاں، جوتے اور دیگر اشیا کا استعمال ہرگز ہرگز ناجائز نہیں۔ ممنوع ہے تو وہ ہے ان کے حصول کے لیے حرام اور ناجائز طریقے اور کسی کا حق مارنا۔
میرا گمان ہے کہ جس شخص کے پاس ایک دن کا کرایہ ایک لاکھ درہم/ دینار ہیں وہ یقیناً بے حد دولتمند ہو گا اور اگر حج پر آیا ہے تو دین دار بھی ہو گا۔ تو اپنے اوپر خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ محتاجوں مساکین کا بھی خیال رکھتا ہو گا۔ نہ بھی رکھتا ہو تو ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ اس کا محاسبہ کریں۔ اگر وہ غاصب اور کرپٹ ہو تو بھی صرف قانون ہی اس کا محاسبہ کر سکتا ہے عوام نہیں وہ بھی کسی بھی ملک کی عوام یا عدالت نہیں بلکہ صرف اس کے اپنے ملک کی عوام یا عدالت۔
جہاں تک بات ہے برابری مساوات کی تو یہ مساوات اراکین حج اور دیگر عبادات میں نظر آتی ہے۔ طواف، رمی، سعی، نماز یا کسی بھی عبادت کے وقت نہ تو یہ امراء پہلی صف میں زبردستی کھڑے ہوتے ہیں کہ ہم وی آئی پی ٹینٹ یا ہوٹل میں رہ رہے ہیں شاہ کے مہمان ہیں اس لیے ہمارا حق زیادہ ہے نہ ہی وہاں ان کے نوکر یا گارڈز باقی حجاج کو ہٹو بچو کہہ کر ان کا رستہ صاف کرواتے نظر آتے ہیں۔ اور کیا مساوات چاہیے آپ کو؟ وہ لاکھوں لوگوں کے ساتھ انہی جیسی عبادت کرتے ہیں کچھ الگ نہیں کرتے۔
مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو ننھیالی گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔ ہمارے لیے وہاں چند دن گزارنا عذاب ہو جاتا تھا جب کہ سارے رشتے دار اور گاؤں والے جو وہاں رہتے تھے مزے میں تھے۔ آج وہاں دنیا کی ہر سہولت ہے جنریٹر پر اے سیز بھی چلتے ہیں اور ڈیڈ باڈیز کے لیے بھی ریفریجریٹر ہیں۔ آج اگر انہی رشتے داروں کو چند منٹ کے لیے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے لگتا ہے جیسے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے گی۔
یہ عام انسانوں کی بات ہے جو پہلے بہت سی سہولیات سے محروم تھے۔ اگر ان کے لیے موجودہ سہولیات کے بغیر رہنا ممکن نہیں تو تصور کیجئے جو شخص منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا ہو وہ کیسے 40 دن تک بغیر سہولیات کے رہے گا؟
میرے خیال میں ہر چیز پر تنقید کی بجائے اس کا مثبت پہلو دیکھ کر لوگوں کے سامنے لایا جائے تو شاید پہلے سے فرسٹریٹڈ، پریشان اور دکھی لوگوں کو مزید پریشانی نہ ہو۔ ان کی منفی سوچ مثبت سوچ میں بدل جائے۔ اس لیے کوشش کیجئے کہ کسی بات میں مثبت پہلو ڈھونڈ سکیں۔ اشفاق احمد اپنی ایک بزرگ خاتون کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ ہر چیز اور ہر شخص کے بارے میں نہایت مثبت سوچ رکھتی تھیں ایک دن ہم کزنز نے انہیں تنگ کرنے کے لیے کہا ”تائی شیطان بڑا خبیث ہے۔“ تو جھٹ سے کہنے لگیں : ”نہ پتر وہ تو اپنے کام کا بڑا ہی ماہر ہے دیکھو تو کتنی تیزی سے انسانوں کو گمراہ کرتا ہے۔“
آج ہمیں بھی ایسے ہی مثبت رویے کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ آرٹیکل اپنے ملک کے کسی سیاستدان، بیوروکریٹ یا کسی بھی کرپٹ انسان کی حمایت میں نہیں لکھا گیا اس لیے جو ٹاپک ہے اسی پر بات کیجئے ٹاپک سے ہٹ کر کمنٹ نہ کیجئے۔




