تالہ ۔ ۔ ۔ بندی


پیچیدہ امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں سنجیدہ موضوعات پر مکالمے کی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔ جو موضوعات یونیورسٹی کے کلاس روم میں لازمی علوم (Prerequisites) کے حصول کے بعد زیر بحث آنے چاہیں وہ سوشل میڈیا پر نہ صرف سطحی انداز میں زیر بحث آتے ہیں بلکہ زیر بحث آنے کے لئے بھی کسی حادثہ یا واقعہ کے منتظر ہوتے ہیں اور جونہی گرد بیٹھ جاتی ہے، مباحثے کے شرکاء کو کوئی نیا موضوع اپنی جانب راغب کر لیتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا کی سائنس بہرحال سوشل ویلیڈیشن اور کلک بیٹس پر استوار ہے۔ کہنے کو تو یہ بڑا سادہ موضوع ہے کہ ایک پسماندہ اور پدر سری سماج میں جہاں عورت کاری ہوتی ہے، ونی ہوتی ہے وہاں اس پسماندہ سماج کے مزید پسماندہ ”قبائلیوں“ میں عورت پر اجارے ایک بدترین صورت یہ بھی ہے کہ اس کے جنسی اعضاء پر تالے لگائے جاتے ہیں لہذا جبر و استحصال کی دیگر نظائر کی روشنی میں یہ بات بھی تسلیم کر لی جائے کیونکہ ”کچھ عینی شاہدین“ نے تصدیق کی ہے وگرنہ ”مرچیں وغیرہ کھا کر اچھلنا کودنا بے معنی ہے“ ۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتنا ہی سادہ موضوع ہے؟

مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں سماجی اصطلاحات ( اور بہت حد تک عمومی اصطلاحات) اپنے متعلقہ (contextual) مفہوم کی بجائے متصور (perceived) مفاہیم میں برتی جاتی ہیں جس کی واضح مثالیں سیکولر ازم بمعنی لادینیت یا حقوق نسواں بمعنی مادر پدر آزادی ہے۔ عین اسی طرح اربن سینٹرز کی مراعات یافتہ (privileged) طبقات کے نزدیک قبائلی سماج کا تصور ایک وحشی سماج کا ایسا تصور ہے جہاں بھدے چہرے والوں وحشی انسان یا ایک دوسرے کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل کرتے رہتے ہیں اور پھر صدیوں تک دشمنیاں پالتے ہیں یا پھر عورتوں کو نہ صرف قتل کرتے ہیں بلکہ چھری چاقو سے لیس ان کے جنسی اعضاء داغتے، کاٹتے، تالے لگاتے رہتے ہیں یا انہیں بیچتے خریدتے رہتے ہیں۔

دیکھیے جدید دنیا کے لئے قبائلی سماج ایک آؤٹ ڈیٹڈ تصور ہے۔ یہ درست یا غلط یہ اس وقت کا موضوع نہیں ہے تاہم سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ قبائلیت یا قبائلی معاشرے متعلقہ مفہوم میں دراصل ہے کیا۔ سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو قبائلیت ایک سماج میں موجود افراد کے درمیان کسی ثقافتی، لسانی، نسلی، یا جغرافیائی شناخت کے اشتراک کا نام ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ قبائلیت کا تصوراتی اور فکری نظام جدید دنیا کے تناظر میں دقیانوسی اصولوں پر مبنی ہے۔ قبائلیت میں بالذات کئی بنیادی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر قبائلیت کی بنیادی اساس ہی اخراج (exclusion) پر رکھی جاتی ہے۔ یہ ان افراد کے اخراج اور پسماندگی کا باعث بنتی ہے جو اس کی شناخت میں اشتراک نہیں رکھتے، جس سے امتیازی سلوک اور عدم مساوات جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی سماج میں چونکہ وسائل محدود ہوتے ہیں ( یا جو ہوتے ہیں ان اسے استفادے کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے ) لہذا وسائل، طاقت اور رسوخ کے لئے مقابلہ گروہی تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ یہ تضادات اپنی گروہی شناخت سے آگے دیکھنا اور مشترکہ بھلائی کے لیے کام کرنا مشکل بناتے ہیں اور نتیجے میں قبائلی سماج کی سماجی اور اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہو پاتی۔ مگر یہ صرف ایک پہلو ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچے کی کمزوری میں قبائلی سماج اپنے باشندوں کے لئے نہ صرف ایک شیڈو ریاست کا کام کرتا ہے بلکہ ان کی ثقافتی شناخت کا ضامن بھی ہوتا ہے۔ جدید دنیا (جو اب فرد اور اس کی ضرورت و خواہش تک محدود ہو چکی ہے ) میں ثقافتی شناخت ایک غیر ضروری اور مبہم تصور کے طور پر سامنے آ رہا ہے لیکن اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو نو آبادیاتی جبر میں قبائلی معاشرے اسی ثقافتی شناخت کی بنیاد پر ہی نوآبادیاتی جبر سے اربن سینٹرز کے مقابلے میں نہ صرف محفوظ رہے بلکہ نو آبادیاتی مخالف تحریکوں کو توانائی خاص طور قبائلی سماج سے ملی کیونکہ ان کا تصوراتی نظام اپنی شناخت بچانے پر قائم تھا۔ شناخت بچانے کی بنیادی وصف قبائلی سماج کو اپنے آپ میں ریاست کے متبادل کے طور پر ایک انتظامی ڈھانچہ اور ایک نظام انصاف مہیا کرتا ہے۔

یہ قبائلی سماج کا ایک اجمالی خاکہ ہے جس میں منفی اور مثبت پہلو دونوں پائے جاتے ہیں۔

جس طرح قبائلیت کو متصور پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے ویسے ہی ایک اور مشکل امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں سماجی جرائم اور سماجی مسائل پر بحث میں چند جدید اصطلاحات مستعار لے کر یک رخی جگل بندی اب فیشن میں ہے۔ پدری سری اور مردانہ جبر سے انکار کون کر سکتا ہے لیکن پسماندہ معاشروں بالخصوص پاکستان میں سماجی مسائل کی پیچیدگی سمجھنے کے لئے صرف پدر سری پر چار حرف بھیجنے سے کتھارسس یا سوشل ویلیڈیشن تو شاید ممکن ہو لیکن اس سے کسی سماجی تبدیلی کا امکان عبث ہے۔ حقیقت یہ کہ ہمارے سماجی مسائل کی جڑیں ہماری تاریخ، ثقافت اور پیچیدہ معاشرتی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔

نو آبادیاتی تسلط سے لے کر تقسیم کے خونی منظر سے گزرنے تک معاشرہ مذہب، روایت اور جدیدیت کے پیچیدہ تعامل کی زد میں رہا جس کا نتیجہ سماجی مسائل کے حوالے سے متضاد رویوں کی صورت میں نکلا۔ بر سر اقتدار طبقے نے سماج کی پیچیدہ بنت کو سمجھنے کی بجائے اور ایک نئے نظام زندگی کو تشکیل دینے کی بجائے چند افسانوی تصورات کو متحد کرنے والی قوت کے طور پر دیکھا، جس کے نتیجے میں مختلف طبقات کو پسماندگی کا سامنا کرنا پڑا اور پدرانہ سماجی ڈھانچے کو تقویت ملی۔ اس کے بعد آنے والی فوجی آمریتوں نے اختلاف رائے کو دبا کر اور شہری آزادیوں کو محدود کر کے سماجی مسائل کو مزید بڑھا دیا۔ صنفی عدم مساوات، گھریلو تشدد، اور جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے مسائل کو اکثر خاموشی اور شرم کی ثقافت میں ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ متاثرین سماجی بدنامی کے خوف سے بولنے سے ڈرتے ہیں۔

مزید برآں، ذہنی صحت، جنسیت، اور منشیات کی لت جیسے ممنوعات میں افراد کے لیے مدد اور مدد حاصل کرنا مشکل بلکہ بہت حد تک ناممکن بنا رہے ہیں۔ ان پیچیدہ سماجی مسائل اور ممنوعات کو حل کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جس میں قانونی اصلاحات، تعلیم اور ثقافتی تبدیلی کا مجموعہ شامل ہو۔ اس کے لیے افراد، کمیونٹیز اور حکومت کی اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ معاشرتی اصولوں کو چیلنج کیا جا سکے اور ایک زیادہ جامع اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

اس پورے منظر نامے کو اگرچہ صنفی امتیاز کے مباحثے میں خواتین کے تجربات اور نقطہ نظر کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے، لیکن سماجی مسائل کو صرف گائنی فیمنزم کی نظر سے دیکھنا اور چند معروف سلوگنز کی مدد سے شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ انفرادی واقعات کی چیری پکنگ کر کے سماج کو گالی دینے سے مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے اور کسی بامعنی مکالمے کا آغاز بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اور یہ چیری پکنگ دنیا کے جدید سے جدید سماج سے بھی کی جا سکتی ہے۔

سماج ایک نامیاتی اور پیچیدہ مظہر ہے اور سماجی مسائل کی باہمی نوعیت اور مختلف طریقوں کو پہچاننا بھی اتنا ہی اہم ہے جن میں قانونی اصلاحات، تعلیم اور ثقافتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ پسماندہ آوازوں اور نقطہ نظر کی شمولیت کو شامل کرنا لازم ہے۔ خواتین کے مسائل اور تجربات پر خصوصی توجہ، اگرچہ اہم ہے، لیکن بہت سی کمیونٹیز میں موجود پیچیدہ اور گہری جڑوں والے سماجی ممنوعات (taboos) کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ دیرپا اور بامعنی تبدیلی کے حصول کے لیے ان مسائل کی پیچیدگی کو تسلیم کرنے والا ایک زیادہ جامع اور بامعنی نقطہ نظر ضروری ہے۔

مہذب معاشروں میں بامعنی اور مدلل نقطہ نظر ہی ہر تالہ بندی کی چابی ہے۔ تالوں کو دلیل کی کنجی سے کھولنا ہو گا لعن طعن کے ہتھوڑوں سے تالوں کے ساتھ ساتھ دلوں کا ٹوٹنا بھی یقینی ہے

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah