بوسنیا کی چشم دید کہانی (41)


اگلی صبح میں ساڑھے نو بجے والی ریل گاڑی سے روم کے لیے  روانہ ہوا۔ جب دن ایک بجے ریلوے اسٹیشن پہ اُترا تو اس کی ایک  ہنگامے پر موقوف رونق، خانہ غالب کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ وسیع و عریض اسٹیشن کا چپہ چپہ سیاحوں سے آباد تھا۔ یورپ بھر میں کرسمس کی تعطیلات تھیں چنانچہ  اس موقع پر روم اور ویٹی کن سے بہتر انتخاب بھلا کیا ہو سکتا تھا۔
میں نے اپنے ٹریول ایجنٹ ناصر سے رابطہ کیا۔ وہ کچھ  ہی دیر بعد مجھے لینے اسٹیشن آ گئے۔ وہ اور نصیر صاحب مشترکہ طور پر یہ کام کر رہے تھے۔ دونوں نہایت ملنسار اور مہذب انسان  تھے۔ وہ چار کمروں کے ایک فلیٹ میں کوئی بیس کے قریب مزید پاکستانیوں کے ساتھ مقیم تھے، جو روم میں مختلف طرح کے کام کرتے تھے۔ کمرے وسیع تھے اور اتنی نفری کو یہاں سمانے میں بوجہ مجبوری کچھ ایسی مشکل نہ تھی۔ لیکن ایک بات ناقابلِ یقین تھی کہ اس فلیٹ میں موجود اکلوتا باتھ روم اتنے لوگوں کے لیے کیوں کر کافی ہوتا ہو گا۔
 مغربی یورپ کے جن جن ممالک میں مجھے جانے کا موقع ملا پاکستانی تارکین کی وہاں تک آنے کی کہانیاں, کام کے حصول کی تگ و دو اور ساتھ ساتھ قیام کو قانونی بنانے کی پیچیدہ کوششیں ایسے ایسے مسائل کے ذکر سے بھری تھیں کہ کیا بتاؤں۔ ایسا لگا کہ ان میں سے ہر ایک  لمبی سعی کےبعد بھی امیدوں پہ پوری نہ اترنے والی زندگی کے بارے  اس کے علاوہ اور بھلا کیا کہتا ہو گا۔
چاہتا ہوں میں منیر اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس قدر مشکل نہ ہو
میں 27 دسمبر کو روم پہنچا تھا اور 29 کی رات دس بجے پی آئی اے کی پرواز سے اسلام آباد روانگی تھی۔ 27 کی شام کو میرے میزبانوں کے ہاں کچھ دوست مدعو تھے جن میں میرے اگلے دن کی پرواز کے معاون پائلٹ طارق بلوچ بھی شامل تھے۔ عشائیے پر یوں ایک اچھی محفل سجی- اور دیر تک گپ شپ ہوتی رہی۔
Diocletian
اگر روایات کو سند مانا جائے تو یہ  753 قبل مسیح کی بات ہے کہ جب دریائے تائیبر (Tiber) کے گردو نواح میں واقع سات پہاڑیوں میں سے ایک پر روم آباد ہونا شروع ہوا۔ آج ان پہاڑیوں کی نشان دہی  کرنا ممکن نہیں۔ دوسری طرف اگر آثار قدیمہ کی شہادت کو معتبر جانیے تو یہاں انسانی آبادی کا آغاز ایک ہزار قبل مسیح میں ہوا۔ پہلی روایت کے مطابق اس کی بنیاد  Romulus اور Remus نامی دو بھائیوں نے رکھی۔ زمانہ حال کا روم دو حصوں میں منقسم ہے۔ تیسری صدی عیسوی میں تعمیر کردہ Aurelian Wall  کے اندر واقع شہرِکہن اور پھر مضافات تک پھیلا ہوا شہرِنو۔ آج بھی تاریخ کے ہر دور کی طرح اس کا مرکز وہ چھوٹا سا حصہ ہے جو دریائے تائیبر کے مشرقی رُخ پر واقع ہے۔ یہ بازنطینی سلطنت کا پایہ تخت رہا جو عروج و زوال کے کئی ادوار سے گزری لیکن پھر بھی صدیوں پر پھیلے یہ تغیرات اس کے ثبات کے لیے دشمن جاں نہ ٹھہر پائے۔ یقینی تھا کہ یہاں مسافر کے لیے  زیارت کدوں کا انتخاب کچھ ایسا آسان نہ ہو گا۔ پہل Pantheon  کے حصے میں آئی۔ Hadrian  نے اسے 118 – 128 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کیا۔ رومیوں کی یہ سب سے مقدس عبادت گاہ 7ویں  صدی عیسوی میں چرچ بنی اور یہی تبدیلی اسے وہ ابدیت دے گئی جو اُس کے بعد کسی اور عمارت کا مقدر نہ بنی۔ اس میں موجود گنبد بعد میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا امتیازی نشان ٹھہرا۔ عوامی سطح پر روم میں عیسائیت روز بہ روزمقبول ہوتی گئی لیکن شاہوں کا معاملہ دیگر رہا۔  Nero, Trajan اور  Diocletian کے ادوار میں عیسائیت کے پیروکاروں پر کون سا ظلم تھا جو نہ ڈھایا گیا۔ یہاں تک کہ انھیں  تماشا گاہ (Amphitheater)  میں درندوں کی غذا بنا کر اپنے اندر کی حیوانیت کی تسکین کا سامان کیا گیا۔ یہ سلسلہ 312ءعیسوی میں بند ہوا جب کانستطایئن نے اقتدار سنبھالا اور بعد میں مرنے سے کچھ عرصہ قبل عیسائیت قبول کی۔ جلد ہی 391ء میں یہ سلطنت روم کا سرکاری مذہب بن گیا۔ اگلے دو سو سالوں میں یہ مذہب سلطنت کے طول و عرض میں پھیل گیا۔  Charlamagni  کے دور میں چرچ کے اقتدار اعلیٰ کا دور شروع ہوا۔ پھر دریائے تائیبرکی مغربی سمت  Vatican میں سینٹ پیٹرز چرچ وجود میں آیا جو کیتھولک عیسائیوں کے لیے  قبلہ کی حیثیت حاصل کر گی۔
Woman In Baths Of Diocletian
 Pantheon سے میں نے سینٹ پیٹرز اسکوائر کا رخ کیا۔ یہاں زائرین کی تعداد نا قابل شمار تھی۔ چرچ کے وسیع و عریض ہالوں کے اندر کا سماں بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ زائرین اس کے درویوار کے طلسم نقاشی میں گم تھے۔ مائیکل انجلو کی تخلیقیت کا شاہکار اس کا گنبد ہے۔ اس کے نظارے کا فسوں ہر کس و ناکس کو چند لمحوں کے لیے  ساکت کیے دیتا تھا۔ مرکزی حصے کے ایک کونہ سے بلند ہونے والی آرکسٹرا کی میٹھی دُھنیں موج ہوا کی صورت فضا میں مچل رہی تھیں۔ یہ مسافر ایک ہجوم کے درمیان جلال و جمال کے جلووں میں بہت دیر تک گم رہا۔
 روم کی بڑی پہچانوں میں سے ایک وہ تماشا گاہ ہے جو کلوزیم کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ چار منزلہ کھلی تماشا گاہ وسپاسین vespasian  خاندان کے دور میں تعمیر ہوئی جب کہ اسے 80قبل مسیح میں ٹائی سٹن نے مکمل کروایا۔ رعنائیِ تعمیر کے معاملے میں دورِ جدید کی عمارتیں بھی اس نقش کہن کے سامنے ہیچ ہیں۔ بنیادی طور پر یہاں مجبور لڑاکوں (Gladiators) اور شیروں کے خونیں مقابلے کا تماشا رچایا جاتا تھااور ان لڑاکوں کے پرزے اڑنے کے باب میں یہ اتفاق کم کم ہی ہوتا تھا کہ ” دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا”۔
اب شام ہو چلی تھی۔ میرا رخ اب قدیم شہر میں واقع تریوی فوارے کی سمت تھا۔ تنگ گلیوں سے گزر کر میں جب یہاں پہنچا تو مشتاقان نظارہ کی بڑی تعداد اس کے گرد ونواح میں موجود مختلف زاویوں سے اس پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ روم میں فوارے اس قدر ہیں کہ ان کی تعداد کا حساب رکھنا مشکل ہے۔ لیکن فواروں کی دلہن، تریوی فوارہ ہی ہے۔ سالہا سال سے اس سے ایک روایت منسوب ہے۔ آپ اس کی طرف پیٹھ کر کے ایک سکہ اس کے پانی کی نذر کریں تو روم میں آپ کی دوبارہ آمد یقینی ہے۔ میری چھٹی کے بعد روم میں دوبارہ آمد ریٹرن ٹکٹ جیب میں ہونے کی وجہ سے چونکہ  پہلے ہی سے یقینی تھی، لہٰذا فوارہ  کی اس معجزاتی صفت کی آزمائش سردست بے مقصد تھی۔
 اپنے میزبانوں کے گھر سے ہم رات آٹھ بجے لیونار ڈونچی ایئرپورٹ کے لیے  روانہ ہوئے۔ ایئر پورٹ شہر سے چونکہ کافی ہٹ کر واقع ہے لہٰذا وہاں تک پہنچنے میں آدھا گھنٹہ صرف ہو گیا۔ ہماری پابندیِ وقت کام نہ آئی۔ پرواز میں دو گھنٹے کی تاخیر تھی میں نے جلد ہی چیک ان کا مرحلہ طے کیا اور لاؤنج کی راہ لی۔ لاؤنج میں خوب صورتی سے سجی بے شمار ڈیوٹی فری شاپس نے انتظار کی گھڑیوں کو باعثِ کوفت نہ بننے دیا۔
da vinci airport
روم ایئرپورٹ سے جہاز کی پرواز کے تھوڑی ہی دیر بعد کیپٹن طارق بلوچ صاحب ، جن سے پچھلی شام تعارف ہوا تھا،مجھے اپنے کیبن میں لے گئے اور دورانِ پرواز استنبول، انقرہ اور تہران کا فضائی نظارہ کروا یا۔ اس دوران مختلف لوازمات سے تواضع کا تکلف بھی جاری رکھا۔ تہران پہنچتے پہنچتے پو پھٹنے کو تھی۔ اب ہمارا تقریباً چار گھنٹے کا سفر باقی تھا۔ دس بجے جہاز نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا اور اب مسافر اگلے ڈیڑھ ہفتےکے لیے  اپنی سرزمین پر اپنوں کے درمیان تھا۔
دو رمضان 12 جنوری 1997ء کو میں ایک بار پھر روم لوٹ رہا تھا۔ جہاز میں میرے ساتھ والی  نشست پر ایک اطالوی کوہ پیما زنوٹی آگسٹو میرے ہم سفر تھے۔ ان کا شوقِ کوہ پیمائی ہر سال انہیں  پاکستان کے شمالی علاقوں میں لے آتا تھا۔ ان کا یہ معمول 1980ء سے جاری تھا۔ اس بار وہ پہلی مرتبہ اپنے جوان بیٹے کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے۔ وہ پاکستان میں ہر سال بدلتی ہوئی پالیسی کی وجہ سے کسی نہ کسی پریشانی سے دوچار ہوتے تھے اور ہر بار دوبارہ نہ آنے کا فیصلہ کرتے تھے لیکن ان کے محبوب پہاڑ انہیں  پھر اپنی طرف کھینچ لاتے تھے۔ میں اب آگسٹو کو کیسے بتاتا کہ تمہاری ہی طرح ہمیں بھی بس یہ زمین اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔
Facebook Comments HS