شجر سایہ دار


منیر ابنِ رَزمی ایک ایسے طرحدار انسان کہ جن کی قربت میں چند لمحے بیٹھ کر یوں لگے جیسے ایک چھتناور درخت کے ٹھنڈے سائے میں بیٹھے ہیں، جس کی شاخیں گھنی اور برگ و بار سے بھرپور ہیں، جو پیرانہ سالی کے باوجود بھرپور توانائی اور تمکنت کے ساتھ ایستادہ ہے۔ تلخ اور گرم دوپہروں کی غضب ناک جھلستی دھوپ کو اپنے تن پہ لے کر دوسروں پہ سایہ کرنے جیسی عظیم خُو نے ان کے لہجے کو بھرپور اعتماد، وقار، شگفتگی اور طراوت سے بھر دیا ہے۔
 تیز رفتار زندگی کی ہما ہمی میں کبھی کوئی رفیقِ دلبند مل جائے تو ان کی طبیعت سرور سے بھرجاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے موسمِ بہار کی تازگی سے بھرپور ہوا سرسرائے تو پیڑوں کا انگ انگ مستی و سرشاری سے جھوم جھوم جاتا ہے۔
گرمیوں کی بارش میں بھیگتے، سردیوں کی راتوں میں قہوے سے لطف اندوز ہوتے، پرانی کلاسیکل موسیقی سنتے، محفل محفل رنگ جماتے منیر ابنِ رَزمی عمر رواں کی آٹھویں دہائی میں آج بھی قہقہے بکھیرتے، لمبے لمبے سفر کرتے، پرانے دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے اور نئے دوست بناتے نظر آتے ہیں۔
 قرطاس و قلم سے محبت اور حرف و صوت سے آشنائی کا رنگ ان کی زیست کے ہر ہر گوشے سے عیاں نظر آتا ہے۔ میرو غالب کی شاعری یہ گفتگو کرنے لگیں تو یوں محسوس ہو کہ جیسے کسی نے تالاب کے ٹھہرے پانی میں کنکر پھینک دیا ہو، اب علم و دانش کی لہریں ہیں کہ مسلسل کناروں کی طرف رواں دواں ہیں۔ علم و ادب کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جہاں تک ان کی رسائی نہ ہو۔
کتاب میلے میں ایک سٹال پہ رکے بہت دیر ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ ہاتھ میں مشہور زمانہ ادبی جریدہ نقوش کا میر تقی میر نمبر تھامے بہت عمیق مطالعے میں مصروف ہیں، میں نے کہا رزمی صاحب، ہم کیوں نہ اس خستہ رسالے کو خرید لیں۔ دکاندار سے قیمت پوچھی تو وہ بولا جناب میر تقی میر تین اقساط کا مجموعہ ہے جن کی قیمت مبلغ پندرہ ہزار روپے ہے۔ رزمی صاحب نے بے ساختہ کہا، ہم واپس رکھ دیتے ہیں، دکاندار بولا نہیں ہم خود رکھ لیں گے۔
نواحی علاقہ عبدالحکیم میں ایک مشاعرہ رات کے آخری پہر تک جاری رہا، احباب کی حالت یہ تھی کہ سب نیند سے بے حال ہوئے جارہے تھےاور سب کو اپنے اپنے مسکن پہ پہنچنے کی جلدی تھی۔ عبدالحکیم چوک میں رات کے اس پہر میں بھی ایک چائے کا ہوٹل کھلا ہوا تھا جس کا سٹوو چہار اطراف پھیلی خامشی میں مدھم سر بکھیر رہا تھا، ایسے میں رزمی صاحب نے شہرہ آفاق جملہ بول کر سب کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر ڈالا ” بھئی دیکھو دیر تو ویسے ہی ہوگئی ہے، چائے کا ایک ایک کپ اور پی لینے میں کیا ہرج ہے.”
شہر گردی میں خوش ہوتے ہیں مگر دیہات گردی میں تو خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں، ایک بار میلسی کا فالسائی مشاعرہ جس کا اہتمام دوست پرور انسان شیر افگن خان جوہر نے اپنے فالسے کے وسیع و عریض باغات میں کیا تھا، رَزمی صاحب نے درجن بھر شعراء کی لاتعداد غزلیں سنیں، بلا کی گرمی، اس پر اچھلتے کودتے اشعار کی حرارت کی وجہ سے رَزمی صاحب سر تا پا پسینے میں شرابور ہو چکے تھے مگر وہ رونقِ محفل بنے تادیر موجود رہے اور اس کے بعد جب دوستوں نے جھنڈیر لائبریری میلسی جانے کا ارادہ کیا تو فی الفور تیار ہوگئے۔
نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا ان کا اپنا انداز ہے، عام زندگی میں کسی بھی نوجوان کو ذرا سا ہٹ کر سوچتے، بولتے، لکھتے یا کوئی تخلیقی کام کرتے دیکھتے ہیں اور انھیں اس کے کام میں ذرہ برابر بھی خوبی نظر آتی ہے تو بشاشت بھرے لہجے اور کھنکتی ہوئی آواز میں اس کی ہمت افزائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تحریر کا اسلوب ایسا منفرد اور ممتاز کہ خیال آرائی، قادرالکلامی اور رنگ سازی پہلی سطر ہی سے قاری کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دے۔ ان کے جملوں میں الفاظ مون سون کی بارش کی طرح برستے دکھائی دیتے ہیں، ان کی تحریروں میں بہتی ندی جیسی روانی اور بانسری کی موسیقی جیسا جادو ہوتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ بڑھاپا انسان کو اسی طرح ہنستے، کھیلتے، اٹھلاتے، کہانیاں سناتے، شعروں پہ سر دھنتے، کتابیں پڑھتے، لکھتے لکھاتے، دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے گزارنا چاہیے جیسا کہ رَزمی صاحب گزار رہے ہیں۔۔۔۔۔
Facebook Comments HS