چرب زبانی وبالِ مراسم
متین جہانوی بچپن سے ذہین تھا۔ بڑا ہو کر مزید مہین ہوتا گیا۔ ذہانت اسے وراثت میں اور متانت نام کے اثر سے ملی تھی۔ لیکن مہین ہونا اس کا فطری عمل تھا۔ پیدائشی کمزور، ناتواں اور بیمار زدہ ہونے کی وجہ سے اس کے مزاج میں نازکی اور سرشت میں تنک مزاجی شامل تھی۔ خوش بختی سے اسے متعدد تعلیمی ڈگریاں حاصل ہو گئیں، جس کا برملا اظہار وہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے کیا کرتا۔ بشمول عزیز و اقارب ملنے جلنے والوں کم شناسا افراد کو بھی تعلیمی اسناد کی چشمک سے دیکھتا۔
زعم برتری میں خود سے کمزور ڈگری ہولڈر والوں کی طعن و تشنیع بھی کیا کرتا۔ اس نوع کی زعم انتہا میں اپنی قمیض کے پاکٹ کو غریب مزدور سا مجبور سمجھ کر ایک سے زیادہ قلم کا بوجھ دینے والا ذہنی مرض میں بتدریج مبتلا ہوتا گیا۔ لہذا اس کی علمیت کا زعم اسے مغرور بنا کر آدمیت سے مفرور نہ کر دے۔ غالباً اسی لیے مالک حقیقی نے اس کی آئندہ مستقبل قریب کی کامرانیوں کو تاخیر کا مالا پہنا کر مستقبل بعید میں بدل ڈالا۔
ہاں! ایک بات یہ تھی کہ اسے ڈھنگ بہت آتا تھا۔ لہذا بیشتر کام ڈھنگ سے کرنے کی خود بھی کامیاب کوشش کرتا اور دوسروں کو تلقین بھی۔ سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ مہمانان کی خاطر تواضع پر باقاعدگی سے توجہ دیتا۔ اثنائے قاعدگی میں آئینہ کے سامنے صنف نازک کے مقابلے زیادہ وقت صرف کرتا۔ تقریبات میں خود کو اپنے ہم صنف سے تو موازنہ کرتا ہی بلکہ متضاد صنف کی محرم سے زیادہ غیر محرم کا بھی منہ تکتا اور نہارتا رہتا۔
بہر کیف! اللہ رب العالمین صفات رحیمی اور کریمی کے سایے تلے اس کی خوبیوں (جیسا کہ ہر انسان میں بشری کمیوں کے ساتھ کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں) کے صلے میں دنیاوی اعتبار سے بہتر اعزاز نیز موزوں ملازمت سے نوازا بھی۔ تاہم اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے معاشرے میں خود سے کمتر لیاقت و صلاحیت والوں کو بہتر حالت میں دیکھ کر وہ اندر ہی اندر کڑھتا، چڑھتا اور خود سے شکوہ و جواب شکوہ کے انداز میں باتیں کرتے ہوئے بڑبڑاتا۔
جیسا کہ ہمارے مہذب اور غیر مہذب دونوں سماج کے لوگ اپنی پریشانی سے کم اور دوسروں کی آسانیوں سے زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ضمناً مسٹر متین بھی ڈپریشن اور فرسٹریشن کے حصار میں مایوسی نیز ناشکری کی وبا کا شکار ہوتا گیا۔ اپنے ڈپریشن اور فرسٹریشن کو کم کرنے کی غرض سے وہ اپنے مراسم والوں کی بھوجن نہ بھات ہر ہر بات بات میں کھلیاں اڑاتا۔ ہر محفل میں مناسب باتیں کم جبکہ غیر مناسب تضحیک آمیز باتیں زیادہ کرتا۔
رفتہ رفتہ باتونی پن اور لفاظی کرنا اس کی گھٹی میں شامل ہوتا گیا۔ بغیر موقع محل بھونڈا مذاق اور تفریحاً سہ معنی فقرے کسنا اس کی فطرت سی ہو گئی تھی۔ لیکن پڑھا لکھا، شریف و خوش طبع اور دانستاً بے ضرر ہونے کی صورت میں لوگ اسے برداشت کرنے پر مجبور تھے۔ تاہم احباب کے علاوہ رشتے دار بھی چوکنا رہتے مزید ایک محدود دوری بنائے رکھتے۔ عرصے تک لوگ پر امید ہو کر منتظر رہے کہ بالوں میں چاندی آ جانے کے بعد شاید گفتگو میں سنجیدگی، سادگی، علویت اور برگزیدگی کی جھلک نظر آئے۔
مگر افسوس ادھیڑ عمری میں بھی حوادث زمانہ سے نبردآزما ہونے مزید مشاہداتی و تجرباتی ہونے کے بعد بھی مسٹر متین کی ذاتی اصلاحی پہلو کے لیے لوگوں کی دید ترستی رہی۔ لہٰذا اسی منظر و پس منظر کے تحت اقربا نے ناپسندیدہ معاملات کو نظر انداز کر کے محض مثبت خصلتوں پر ذہن و دل کو مرکوز کر کے مراسم کو بحال رکھنے کی سبیل نکال لی۔ نوعمری سے اس کے ساتھ رہنے والوں میں سے ایک نباض ساتھی جناب افتاد اورنگ آبادی نے اس کی دکھتی رگ کو سمجھتے ہوئے اس کا ساتھ نہ چھوڑا۔
یوں سمجھ لیجیے کہ مستقبل کے ذاتی مفاد کے لیے اپنے حال کی قربانی کرتا رہا۔ افتاد اورنگ آبادی کی بڑی بہن تھی نیک سیرت مگر کوتاہ خد و خال۔ زمانہ تو ازل سے گوری جلد، فیشن ایبل طرز، جاذب رنگ و روپ اور دولت کا بھکاری رہا ہے جب کہ افتاد کے گھر والے پیسہ پکڑنے والے تھے۔ فضول خرچی کے نام پر کنجوسی و بخالت کا دامن زور سے پکڑے رہتے۔ لہذا بہت سے رشتوں کی بات شروع ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی۔ جوانی اور بڑھاپے کی درمیانی عمر میں ایک مولویانہ خانوادے میں متذکرہ سیرت کی شہزادی کا رشتہ لگ بھگ طے ہونے کے دہانے پر تھا۔
رشتہ پکا کرنے کی غرض سے حتمی فیصلہ کے لیے ہونے والے نوشہ کے گھر سے بالکل سنجیدہ اور چند عمر رسیدہ افراد لڑکی والوں کے یہاں تشریف لائے۔ افتاد کے گھر والوں نے آغاز تا حال متین کو بالکل گھر کے سگے بیٹے کی مانند پیش کیا تھا۔ مسٹر افتاد کے بھی حرکات و سکنات سے ایسا ظاہر ہوتا کہ متین اس کا سگا بڑا بھائی ہے۔
مسلسل رواداری و خلوص کی وجہ سے یہ بھرم لڑکا والوں کے سامنے تا آخیر قائم رہا۔ نئی نسبت ازدواج کے حسن شناسی، سارے لوازمات رسم و رواج اور طعام کے بعد مہمانان کو خدا حافظ کہنے کا وقت آ گیا۔ افتاد کے گھر والوں نے دونوں ہم پیالہ ہم نوالہ متین و افتاد کے ذمہ سلیقے سے مہمانان کو پلیٹ فارم تک پہنچانے کا کاز دیا۔ مہمانوں کو لے کر دونوں بھائی نما دوست ریلوے اسٹیشن کی جانب بڑھے۔ تھوڑے وقفے کے بعد پلیٹ فارم پر ریل کے انتظار میں دونوں دوست جستہ جستہ مہمانان سے محو گفتگو ہو گئے۔ افتاد میاں سے جب ہونے والے دولہا کے والد مولوی ابا حضور عرض کر رہے تھے کہ کسی بھی نوشہ کو شادی کی پہلی رات ہی دین مہر ادا کر دینا چاہیے۔ (اسی وقت یکایک ٹرین کی آمد کا اعلان کانوں تک پہنچا) ۔ عادت یا فطرت سے مجبور متین جہانوی بے دھڑک ہو کر سامنے موجود مولوی ابا سے بلند آواز میں پوچھ بیٹھا!
”آپ آگے سے چڑھتے ہیں یا پیچھے سے؟“
سارے مہمانوں کے چہرے زرد ہو گئے۔ وہ ششدر ہو کر متعجب انداز میں ریل گاڑی پر سوار ہو گئے۔ اور ان کے منہ سے اللہ حافظ کے علاوہ مزید کوئی لفظ نہیں نکل سکا!
اگلا روز مشاطہ ایک رقعہ لے کر لڑکی والوں کے یہاں پہنچی۔ پیغام یوں تھا:
”تعلیم کی کمی کو تربیت ڈھانپ لیتی ہے مگر تربیت کی کمی کو تعلیم کبھی پورا نہیں کر سکتی۔ رشتہ بندی کے لیے معذرت! ہمارا رشتہ آپ لوگوں کے لائق نہیں ہے۔ آپ کو ہم سے بہتر رشہ کی اشد ضرورت ہے۔ “
بڑی بہن کی رشتۂ ازدواج نو کی امید کی لو کو بجھتا دیکھ افتاد نمناک آنکھ لیے متین کے گھر پہنچا اور کہا۔
”تمہاری چرب زبانی وبال مراسم ہے۔ سلام و کلام کو راستے اور فون تک محدود کرتا ہوں۔ ، خدا حافظ!“


